سندھ میں پہلے مرحلے میں ہونے والے جانبدارانہ بلدیاتی الیکشن کو مسترد کرتے ہیں

کراچی() چئیرمین سندھ یونائیٹڈ پارٹی و کنوینر سندھ ایکشن کمیٹی سید جلال محمو د شاہ نے سندھ کے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں بدنظمی، ہنگامہ آرائی، بے ضابطگیوں، خون ریزی، مخالف امیدواروں اور ووٹرز کو حر اساں، اغوا اور پرتشدد واقعات پر تشویش کا اظہار اور اس کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سندھ میں پہلے مرحلے میں ہونے والے جانبدارانہ بلدیاتی الیکشن کو مسترد کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر غیر جانبدار آر و اور ڈی آر اوز تعنیات کر کے فوج کی نگرانی میں دوبارہ الیکشن کرائیں جائیں۔ کراچی سے اپنے جاری بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ


سندھ میں بدترین بلدیاتی الیکشن کروائے گئے ہیں۔ سندھ میں آر اوز، ڈی آر واز اور پریذائیڈنگ افسران اور پولیس کے ذریعے انتخابات کویر غمال بنا کر پیپلز پارٹی کو چرایا ہوا مینڈیٹ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات مائیکرومینجڈ ہیں (Micro Managed) ہیں۔الیکشن کمیشن نے غیر شفاف الیکشن کروا کر عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا ہے۔سید جلال محمود شاہ نے کہا کہ ہم نے الیکشن کمیشن کوخط کے ذریعے پہلے ہی اپنے خدشات سے آگاہ کیا تھاکہ پیپلز پارٹی امن امان خراب کر کے دھاندلی کرنا چاہتی ہے اور سندھ میں تعنیات کئیے گئے آر اوز ڈی آر اوز تعصب پسند اور حکمران جماعت کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں اور ہم اسی خدشات کو لے کر ہائی کورٹ بھی گئے تھے لیکن ہمارے خدشات کو سنجیدہ نہیں لیا گیا۔شدید گرمی اور کشیدہ حالات میں الیکشن کمیشن نے زرداری مافیا کو جتوانے کے لئیے الیکشن کا ڈراما رچایا۔سندھ میں ہونے والے پرتشدد واقعات لیکشن کمیشن کی کارکردگی کے اوپر سوالیہ نشان ہیں۔الیکشن کمیشن شفاف اور آزادانہ بلدیاتی الیکشن کروانے میں ناکام ہو چکی ہے۔ الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے


میں ناکام ہو چکا ہے۔ ہمارے کارکنوں اور ووٹروں کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی۔ہمارے ووٹروں کو ہراساں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی مشینری کے ذریعے پیپلز پارٹی نے بلدیاتی الیکشن کو ہائی جیک کیا۔ بلدیاتی الیکشن میں پیپلز پارٹی کا ڈاکو راج اور دھاندلی کا بازار گرم رہا۔ الیکشن کمیشن پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی غلام بن چکی ہے۔ امیدوارں کے نامزدگی سے لے کر پولنگ تک الیکشن کمیشن پیپلز پارٹی کے ماتحت کام کرتی رہی۔انہوں نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ریاستی ادارے سندھ حکومت کے ماتحت کام کرتے رہے۔ پولیس نیند میں سوتی رہی اور کندھ کوٹ میں ڈاکو الیکشن کے عملے کو اغوا کر کے چلے گئے۔ سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے امیدواروں کو یرغمال بنا کر پولیس کی موجودگی میں زبردستی ٹھپے مارے گئے۔ سندھ یونائیٹڈ پارٹی اور مخالفین کے کارکنان پر حملے کئیے گئے۔ ارباب غلام رحیم کے بیٹے کو پیپلز پارٹی کی پشت پنائی پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ سندھ میں خون خرابے، اغوا اور پرتشدد واقعات کی ذمہ دار سندھ حکومت اور الیکشن کمیشن ہے۔سندھ میں پیپلز پارٹی نے جنگل کا قانون بنایا ہوا ہے۔ سید جلال محمود شاہ نے کہا کہ کہ عوام کے مینڈیٹ کو سرکاری دباو، خوف، اغوا ا ور قتل و غارت کے ذریعے چوری کیا گیا جس کی وجہ سے ہم اس پہلے مرحلے کے بلدیاتی الیکشن کو مسترد کرتے ہیں۔

=======================