کے الیکٹرک کے غیرملکی سرمایہ کاروں کے وفد کی جانب سے وزیراعظم کے سامنے سترہ سالہ کارکردگی کے دعووں پر کراچی کے شہری حیران پریشان ۔

سال 2005 سے لے کر آج تک 17 برسوں میں کے الیکٹرک کی کارکردگی کے حوالے سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے وفد نے وزیراعظم سے ملاقات کے دوران کے الیکٹرک اور کراچی کی خوشحالی کے حوالے سے جو بلند و بانگ دعوے کیے ان پر کراچی کے شہری حیران پریشان ہیں آج بھی شہر میں 10 سے 12 گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے بجلی کی قیمت میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے شہر میں بجلی کی چوری روکنے میں کے الیکٹرک کے غیر ملکی انتظامیہ کامیابی حاصل نہیں کر سکی بجلی چوری کا سارا نقصان صارفین کی جیبوں سے وصول کیا جارہا ہے جو باقاعدگی سے بل ادا کرتے ہیں ۔

========================

2005سے کراچی کی خوشحالی سے جڑے ہیں،کے الیکٹرک سرمایہ کار

کراچی (اسٹاف رپورٹر)کے الیکٹرک کے سعودی اور کویتی سرمایہ کاروں کی پاکستان آمد، وزیر اعظم سمیت دیگر اعلیٰ حکومتی عہدےداروں سے ملاقات،کے الیکٹرک سرمایہ کار شیخ عبدالعزیز نے کہاہےکہ 2005سے کراچی کی خوشحالی سے جڑے ہیں، ٹیرف ڈفرینشل کلیمز سمیت دیگر واجبات کی تاخیر سے ادائیگی مالی سالمیت پر منفی اثر ڈا ل رہی ہے۔ ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق الجومعہ ہولڈنگ کمپنی کے ایم ڈی شیخ عبد العزیز الجومعہ، نیشنل انڈسٹریز گروپ کے سی ای او ریاض ادریسی کے زیر قیادت سعودی و کویتی وفد نے وزیر اعظم سمیت وزراء توانائی، خزانہ اور خارجہ امور سے ملاقات میں پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان برادرانہ اور تاریخی تعلقات کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا، اس موقع پر شیخ عبد العزیز نے کہا کہ ہم 2005سے پاکستان اور کراچی کی خوشحالی کی کاوشوں سے جُڑے ہیں، وفد نے وزیرِ اعظم کو گزشتہ 17سال میں کراچی میں بجلی کے نظام میں پیش آنے والی بہتری سے آگاہ کیا ، ملاقات میں موجودہ صورتحال میں کے الیکٹرک اور پاکستان کے شعبہ توانائی کو درپیش مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور کہا کہ ٹیرف ڈفرینشل کلیمز سمیت دیگر واجبات کی ادائیگی میں تاخیر سے کے الیکٹرک کی مالی سالمیت پر منفی اثر پڑرہا ہے، ترجمان کے مطابق کے الیکٹرک کے سعودی اور کویتی سرمایہ کاروں نے وزیر اعظم کی جانب سے ٹاسک فورس کی تشکیل کے فیصلے کا خیر مقدم کیا،سرمایہ کاروں کی جانب سے اس امید کا اظہار کیا گیا کہ ٹاسک فورس جلد مسائل کا پائیدار حل نکالے گی، وفد نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی
https://e.jang.com.pk/detail/163779
=========================================

فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ، کے الیکٹرک کی 11 روپے 33 پیسے اضافے کی درخواست

کراچی (اسٹاف رپورٹر)کے الیکٹرک نے مئی کے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 11 روپے 33 پیسے اضافے کی درخواست جمع کرائی ہے، ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق نیپرا کی قوانین کے مطابق ماہانہ سماعت 4 جولائی کو ہوگی اس اضافے کا اطلاق ایک مہینے کے بل پر ہوگا مارچ 2022 سے مئی 2022 تک فرنس آئل کی قیمتوں میں 38 فیصد اضافہ ہوا دوسری جانب مارچ 2022 سے مئی 2022 میں آر ایل این جی کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا،سی پی پی اے -جی کی قیمتوں میں مئی میں 53 فیصد اضافہ ہوا، سی پی پی اے – جی کی قیمت مارچ 2022 میں 9 روپے 98 پیسے تھی جو مئی میں 13 روپے 897 پیسے دیکھنے میں آئی ، واضح رہے نیپرا کی جانب سے عوامی سماعت کرنے اور جانچ پڑتال کے بعد صارفین کے بلوں میں قیمتوں میں اضافے کا اطلاق کیا جائے گا۔
https://e.jang.com.pk/detail/163758
========================================

عوام جولائی میں بجلی اور سردیوں میں گیس بحران کیلئے تیار ہوجائیں
24 جون ، 2022
FacebookTwitterWhatsapp
کراچی (ٹی وی رپورٹ)عوام جولائی میں بجلی اور سردیوں میں گیس کے بحران کے لیے تیار ہوجائیں، حکومت جولائی کے لیے اسپاٹ پر ایل این جی کا انتظام نہیں کرسکی، مہنگی قیمتوں پر بھی سپلائر دستیاب نہیں، پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں حقائق رکھ دیئے گئے، پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرمملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک نے کہا کہ دو سال پہلے 4 ڈالر کی ایل این جی مل رہی تھی مگر گزشتہ حکومت نے موقع ضائع کیا اور طویل مدتی معاہدے نہیں کئے، اب 40ڈالر پر بھی ایل این جی دستیاب نہیں ہے، گرمیوں میں لوڈشیڈنگ اور سردیوں میں گیس کا بحران آئے گا، مگر ہم فرنس آئل اور کوئلے سے بجلی کی پیداوار اوربڑھائیں گے، 15جولائی کے بعد ڈیمز میں پانی کی وجہ سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوگا جس سے بھی لوڈشیڈنگ میں کمی آئے گی ۔گزشتہ حکومت نے ایک بھی ایل این جی کا ٹرمینل نہیں لگانے دیا، مگر ہم اُن سرمایاکاروں کو بھی لانے کی کوشش کریں گے تاکہ وہ سرمایا کاری کرکے ٹرمینل بھی لگائیں اور گیس بھی لائیں۔جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے پٹرولیم مصدق ملک نے کہا ہے کہ آنے والے بہت سے مہینوں کیلئے حالات اچھے نہیں ہیں،ہمیں سخت فیصلے کرنے کی سیاسی قیمت ادا کرنا پڑرہی ہے،سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ میرے پاس شواہد ہیں کہ عمران خان کی حکومت بچانے کی سرتوڑ کوشش کی گئی،میزبان شاہزیب خانزادہ نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی معاشی ٹیم اور وزیراعظم شہباز شریف کے اعتماد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، حکومت اعتماد کا اظہار کررہی ہے کہ معیشت اور حکومت دونوں خطرے سے باہر آگئے ہیں، مگر اس کے ساتھ ہی عمران خان نے دباؤ میں بھی اضافہ کردیا ہے۔وزیرمملکت برائے پٹرولیم مصدق ملک نے کہا کہ آنے والے بہت سے مہینوں کیلئے حالات اچھے نہیں ہیں، ایس این جی پی ایل کی گیس سپلائی 670ملین یونٹس ہے، نومبر سے فروری تک چولہے جلانے کیلئے 1170ملین یونٹس گیس کی ضرورت ہے، دو سال پہلے موقع آیا جب چار ڈالر میں یہی ایل این جی مل رہی تھی مگر حکومت نے معاہدے نہیں کیے، آج نہ صرف ایل این جی کی قیمت 40ڈالر ہے بلکہ دستیاب ہی نہیں ہے، ایل این جی فراہم کرنے والوں سے رابطہ کیا گیا تو بتایا گیا کہ یورپ نے گیس کا ایک ایک مالیکیول خرید لیا ہے۔ مصدق ملک کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کا حل دو سال پہلے موجود تھا جب گیس تقریباً مفت مل رہی تھی، روس کی جنگ کے بعد دنیا بھر میں گیس ملنا ختم ہوگئی ہے، پہلے جو بجلی ایل این جی سے بناتے تھے اب فرنس آئل سے بنارہے ہیں، کوئلے کے ذریعہ بجلی بنانے کا عمل بڑھادیا ہے، اس وقت فرنس آئل او ر کوئلہ ہمیں ایل این جی سے سستے پڑرہے ہیں، ہمارے تین میں سے دو کارخانے سستے کوئلے پر چل سکتے ہیں،اس کیلئے سستا کوئلہ حاصل کرنے کیلئے کوششیں کررہے ہیں، افغانستان سے کوئلہ خریدنے کی سوچ رہے ہیں اس سے ہمیں زرمبادلہ کی بچت بھی ہوسکتی ہے۔مصدق ملک نے کہا کہ 2018ء کے مقابلہ میں آج بجلی بنانے کی قیمت دگنی ہوگئی ہے،پچھلی حکومت بجلی کی پیداوار سے متعلق درست نہیں بتارہی تھی، اگر پچھلی حکومت زیادہ بجلی بناگئی تھی تو لوڈشیڈنگ کیوں ہورہی ہے، پچھلے دو ماہ لوڈشیڈنگ فیول کی کمی کی وجہ سے نہیں ہورہی تھی، پچھلے دو مہینے بجلی کے پلانٹس کیلئے فرنس آئل اور ایل این جی خرید لی تھی،لوڈ شیڈنگ میں جولائی کے پندرہ دن بعد کمی آئے گی۔ مصدق ملک کا کہنا تھا کہ ملک میں استحکام آنے سے روپے کی قدر میں اضافہ اور ڈالر گرے گا،ڈالر کی قدر میں کمی سے ادائیگیوں کا بوجھ کم ہوتا جائے گا، آج روپے کی قدر چار روپے بڑھنے کا اثر 20ارب روپے ہے، سخت فیصلوں کے پانچ چھ مہینے بعد روپیہ مضبوط اور ڈالر کمزور ہوجائے گا، اگلے چار سے پانچ مہینے ملک کیلئے سخت گزریں گے،ہمیں سخت فیصلے کرنے کی سیاسی قیمت ادا کرنا پڑرہی ہے، ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کیلئے سخت فیصلے ضروری ہیں۔ مصدق ملک نے کہا کہ روس یوکرین جنگ ختم ہونے کے بعد انرجی کی قیمتیں گریں تو ہم طویل مدتی معاہدے کریں گے، حکومت ایل این جی کے دو نئے ٹرمینل لگانے کا آئیڈیا ہے، ہماری کوشش ہے کہ وہ سرمایہ کار واپس آئیں جنہیں ایل این جی ٹرمینل لگانے تھے، ہماری سوچ ہے کہ ٹرمینل لگانے والے ایل این جی بھی اپنی لے کر آئیں، ایک ٹرمینل ایسے ملک کا ہے جس کے پاس دنیا میں ایل این جی کے سب سے بڑے ذخائر ہیں، غیرملکی سرمایہ کاری کیلئے پالیسی کے مسائل حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ نہ عمران خان سچ بول رہے ہیں نہ ہی شہباز شریف کے موقف سے اتفاق کیا جاسکتا ہے۔
https://e.jang.com.pk/detail/163740
===========================================

مختلف علاقوں میں بجلی کی طویل بندش کے خلاف شہری سراپا احتجاج، نیپا چورنگی کے قریب مظاہرہ، بدترین ٹریفک جام
24 جون ، 2022
FacebookTwitterWhatsapp
کراچی (اسٹاف رپورٹر)مختلف علاقوں،نیو کراچی ،نارتھ کراچی ،لیاقت آباد ،فیڈرل بی ایریا ، گلشن اقبال ، ملیرمیں بجلی کی طویل بندش کے خلاف شہری سرا پا احتجاج ہیں، مین یونیورسٹی روڈ پر نیپا چورنگی کے قریب علاقہ مکینوں نے کیا جس کے باعث بد ترین ٹریفک جام ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق یونیورسٹی روڈ ملک ہوٹل کے قریب اطرافکے مکینوں دن اور رات کے اوقات میں بجلی کی طویل بندش کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا، مظاہرے کے باعث نیپا چورنگی روڈ پر بد ترین ٹریفک جام ہوگیا اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں،مظاہرین کا کہنا ہے کہ اضافی رقم کے بلوں کی ادائیگی کے باوجود یومیہ بنیاد پر لوڈ شیڈنگ اور فالٹ کے نام پربجلی کی طویل بندش نےشہریوں کی زندگی اجیرن بنادی ہے، دوسری جانب تھوڑی سی بارش کے بعد بجلی کی صورتحال نے اور پریشانی پیدا کردی ہے اور بارش کے نام پر فالٹس کے بہانے سے پوری رات بجلی بحال نہیں کی گئی ،جس کے باعث زندگیبن کر رہ گئی ہے۔
https://e.jang.com.pk/detail/163747
=============================================