راولاکوٹ کے اطراف منشیات۔۔ ایک ہی صف میں ہیں حاکم و گدا۔۔

سچ تو یہ ہے۔
=========

بشیر سدوزئی،
=============
26 جون عالمی یوم انسداد منشیات منایا جا رہا ہے ۔ اس دن دنیا کے چھ ارب سے زائد انسانوں کو یہ پیغام دیا جائے گا کہ جو لوگ منشیات کے کاروبار سے منسلک یا ان کے سہولت کار ہیں، وہ قاتل ہیں، وہ ظالم ہیں، وہ بدکردار ہیں، وہ انسانی شکل میں درندے ہیں۔ اور جو لوگ ان کے جھانسے میں آ کر منشیات استعمال کر رہے ہیں ، وہ خود کش بمبار ہیں، سارے خاندان اور معاشرے پر حملہ آور ہیں ،


وہ ماں کے ارمانوں، بہنوں کے مانوں اور باپ کے خوابوں کے قاتل ہیں، نہ صرف ان سے بچنا ہے بلکہ ان کی اصلاح بھی کرنی ہے۔ تاکہ خوبصورت دنیا، معصوم انسانیت کو گناہوں اور آلودگی سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس وقت دنیا میں منشیات کا استعمال انسانیت کے لیے دوسری عالمی جنگ سے بھی زیادہ خطرے ناک ہے، یہ جنگ پرامن معاشروں ، خوش حال خاندانوں اور ڈرگ مافیا کے درمیان جاری ہے۔ ڈرگ مافیا طاقت پکڑ رہا ہے، معاشرے اور خاندان پسپاء ہو رہے ہیں ۔ مضبوط معاشرے ٹوٹ رہے ہیں اور خاندان بدحال ہو رہے ہیں، معاشرتی روایات اور خاندانی رسومات نیکی سے بدی میں تبدیل ہو ریی ہیں ۔ خصوصی دن لوگوں بلکہ خاندانوں کو شکست و ریخت سے بچانے کی تدابیر سوچی اور بیان کی جائیں گی


۔۔ پاکستان میں پاک بھارت جنگوں اور افغانستان میں عشروں پر مشتمل طویل جنگ سے خراب حالات کے باعث ہونے والی دہشت گردی کی جنگ کے دوران اتنا جانی اور سماجی نقصان نہیں ہوا جتنا ڈرگ مافیا کے کارندوں کی سرگرمیوں سے ہوا ہے یا ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسداد منشیات کی جانب سے حال ہی میں جاری ایک رپورٹ کے مطابق 70لاکھ پاکستانی کا بحالی سینٹرز میں علاج ہو رہا ہے۔ گویا یہ ہنستے بنستے کارآمد زندہ انسان ملک و معاشرے پر بوجھ بن چکے، ان میں سے اکثریت تعلیم یافتہ نوجوان افراد کی ہے۔ جو اپنے خاندان کے بہترین کفیل ہی نہیں


ملک کے معزز و معتبر شہری ہونے کے حق دار تھے۔ نہ معلوم ان میں کتنے ملکی خزانہ میں اضافہ اور معشیت کی مضبوطی کا سبب بنتے۔ ہمارے معاشرے کے لیے اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ منشیات وبا کے طور پر خاندانوں میں پھیل رہی ہے۔ نوجوان لڑکیاں بھی اس وبا سے محفوظ نہیں ۔ منشیات کے کاروبار میں ملوث مضبوط کرمنل گروپ متحرک ہے جو عورتوں کو شادی یا دوستی کا جھانسا دے کر ان کے قریب جاتا ہے ،ان کو منشیات کا عادی بناتا ہے ، منشیات لا کر دینے کے بدلے میں جنسی تسکین کرتا ہے۔


اقوام متحدہ کی اسی رپورٹ میں کراچی کے ایک بحالی سینٹر میں خود کو نشے کی لت سے آزاد کرانے کے لیے کوشاں 22 سالہ جواں سال خاتون نے بتایا کہ”میرا بوائے فرینڈ خود نشہ نہیں کرتا تھا لیکن وہ مجھے لا کر دیتا تھا تاکہ جنسی تسکین کے لیے میرا استعمال کرے، کوئی لڑکی جب نشے میں پڑ جاتی ہے تو اس کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے، وہ یہ ہی کہتی ہے کہ میرے ساتھ کچھ بھی کرو جیسا بھی کرو بس مجھے نشہ لا کر دو “۔ رپورٹ میں اس لڑکی کی گفتگو بڑھ کر رونگٹے کڑھے ہو جاتے ہیں کہ یہ صورت حال خدانخواستہ ہمارے گھر میں ہو گئی تو کیا ہو گا۔ ہر کسی کو خوف زدہ ہونا بھی چاہیے کیوں کہ جرائم پیشہ ڈرگ مافیا ہر گھر کے دروازے پر دستخط دے رہا ہے جہاں جوان لڑکی ہو یا لڑکا۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں کے نوجوان بڑی تیزی سے اس وبا سے متاثر ہو رہے ہیں ان میں خواتین کی کثیر تعداد ہے جن کو ان کے بوائے فرینڈز اس طرف راغب اور عادی بنآ رہے ہیں۔ یہ وباء اور لعنت اب گاوں، گاوں پہنچ چکی جو کووڈ 19 سے بھی زیادہ خطرے ناک ہے۔۔ مجھے نہیں لگتا کہ کوئی علاقہ اس لعنت سے بچ سکتا ہے سوائے اس کے کہ جہاں کے عوام اس وباء سے بچنے کے لیے اجتماعی کوشش کریں ۔ آزاد کشمیر بھی ایسی صورت حال سے دوچار ہے۔ آزاد کشمیر کا سیاحتی شہر راولاکوٹ اور گردونواح میں اس وقت سب سے بڑا چیلنج منشات ہے جہاں صاف فضاؤں کو آلودہ اور پرامن معاشرے کو جرائم کی طرف دھکیلا جا رہا ہے ۔ جس تیزی سے منشیات پھلائی جا رہی ہے لگتا ہے کہ زندگی مفلوج ہونے والی ہے۔ نہ صرف راولاکوٹ میں دو پوسٹ گریجویٹ کالج ہیں بلکہ یونیورسٹی، میڈیکل اور انجینئرنگ کالج سمیت سیکڑوں تعلیمی اداروں میں لاکھوں طلباء وطالبات زیر تعلیم ہیں پلکہ گاوں ،گاوں کالج اور اسکول موجود ہیں اور مافیاں نے انہی تعیلمی اداروں کو ٹارگٹ کیا ہوا ہے۔ سول سوسائٹی کی رائے ہے کہ اس گورکھ دھندے میں سب ملوث ہیں حاکم و گدا۔ سیاسی کارکن اور انتظامیہ کے کارندوں کے ملوث ہونے کے شواہد ہیں ۔ معاشرے کے تمام مکتب فکر کو اس پر یکجا ہونا چاہئے کہ ہمیں نسل نو کو بچانے کے لیے اجتماعی کوشش کرنی ہے۔ بعض سیاسی و سماجی کارکن، سول سوسائٹی واویلا کر رہی ہے کہ راہ اس علاقے میں متحرک ہے۔ بے شک ہماری انٹیلیجنس باخبر ہو گی لیگن ڈرگ مافیا کی بڑھتی ہوئی آزادنہ سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے


عوامی تاثر ہے کہ سرکاری اور انتظامی سطح پر خاموشی اور ڈرگ مافیا کے خلاف کارروائی میں سست روی کسی نہ کسی سطح پر خطرے ناک مافیا کے لیے نرمی برتی جا رہی ہے یا ذمہ دار افسروں و اہلکار ذاتی حیثیت میں اس کاروبار کی حوصلہ آفزائی کر رہے ہیں ۔ میرے پاس اس کا ثبوت نہیں کہ انتظامیہ براہ راست منشیات پھلانے کی حوصلہ آفزائی کر رہی ہے، لیکن راولاکوٹ کے اطراف میں گاوں گاوں منشیات فروشوں کی منظم سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈسٹرکٹ انتظامیہ اس کے روک تھام میں متحرک نہیں یا نااہلی کی بنا پر ناکام رہی ہے۔ سول سوسائٹی کے نمائندے چلا رہے ہیں کہ منشیات پھلانے میں علاقائی پولیس پوری طرح ملوث ہے ۔ فوری اور سخت کارروائی نہ کی گئی تو ان علاقوں کے لوگ جسمانی، ذہنی سماجی طور پر کھوکھلے ہو جائیں گے،۔ راہ کی سرگرمیوں کو بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ جن اقوام پر غلبہ پانا ممکن ہوتا ہت ان کے ساتھ ایسا ہی کیا جاتا ہے۔ اہل چین کے ساتھ بھی یہ ہتھکنڈہ  آزمایا گیا، سالہ سال افیون کا  عادی بنا کر ترقی کی دوڑ میں پسماندہ بنانے کی مزموم کوشش کی جا چکی۔ افسوس کن


صورت حال یہ ہے کہ راولاکوٹ اور اس کے اطراف میں سگریٹ، شراب، افیون، ہیروئن  اور نشہ آور اشیاء کا کاروبار عام ہے ،اس کی مخالفت تو سب کرتے ہیں مگر ان لعنت کا سد باب کرنے میں مخلص کوئی بھی نہیں۔ جبوتہ کے کچھ سماجی و سیاسی کارکنوں نے “جبوتہ کونسل ” کے نام سے این جی او قائم کر کے منشیات فروشوں اور استعمال کرنے والوں کے خلاف مہم کے علاوہ تشہری مہم بھی شروع کر رکھی ہے ۔ سردار محمد انور خان ، سردار محمد خورشید خان، مسعود حنیف، قاضی نثار ، محمد رفیق، عمر صادق اور ان کے رفقاء نے کھائیگلہ کے ایک ہوٹل میں بیٹھک میں فیصلہ کیا کہ 26 جون کو علی سوجل تا بن بہک تک انسداد منشیات مارچ کی جائے گی ۔ بن بہک میں جلسہ عام منعقد ہو گا جس میں انتظامیہ کے اعلی افسران کو بھی مدعو کیا جائے گا۔منشات کی روک تھام کسی ایک فرد، ادارے کی ذمہ داری نہیں اور نہ ہی حکومت تنہا اس پر قابو پا سکتی ہے ۔ لہذا اس سارے ریجن میں جبوتہ کے معززین میدان عمل میں ہیں اعلی انتظامی افسران کو ان کے ساتھ بھر پور تعاون اور سرپرستی کرنا چاہیے ۔ علماء کرام خطبوں میں اس خطرے ناک مافیا سے عوام کو بچنے کی تلقین کریں ۔ اولاد کی پیدائش کے بعد والدین کی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی بلکہ ان کی تعلیم و تربیت بھی ان کا فرض ہے۔ بہترین تربیت کی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے ان کے شب و روز کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں۔ پولیس کی ذمہ داری اہم ہے۔ پولیس کو معلوم ہے کہ یہ کون لوگ ہیں ۔ انسانیت کے ان مجرموں اور ان کے مددگاروں کے خاتمے کا فریضہ پورا کرے۔ بصورت دیگر قدیم سماجی روایات جن پر ہمارا معاشرہ کھڑا ہے زمین بوس ہو جائےگا۔۔۔۔

========================================================