وزیراعلی کی منظوری سے تلاش کمیٹی میں شامل ہونے والے اراکین کسی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی تقرری میں کیا وزیراعلی ہاؤس کا دباؤ مسترد کر سکتے ہیں ؟


وزیراعلی کی منظوری سے تلاش کمیٹی میں شامل ہونے والے اراکین کسی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی تقرری میں کیا وزیراعلی ہاؤس کا دباؤ مسترد کر سکتے ہیں ؟
یہ اور اسی سے جڑے ہوئے مزید سوالات مختلف یونیورسٹیز کے وائس چانسلر اور دیگر اہم عہدوں پر امیدواروں کے انٹرویوز اور تقرری کے حوالے سے متعلقہ حلقوں میں گردش کرتے رہتے ہیں بعض معاملات اس لیے تاخیر کا شکار ہوئے کہا امیدواروں نے


اس پورے عمل پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور عدم اعتماد کی وجہ سے ہی معاملہ عدالتوں تک پہنچا ۔ ایسا بھی ہوا کے وزیر اعلی کی منظوری سے بعض شخصیات کی تقرری کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کیا گیا لیکن اعتراض آنے پر عدالت نے وہ نوٹیفیکیشن معطل کردیا اور دوبارہ پورے معاملے کی جانچ کی گئی ۔ایسا صرف یونیورسٹیز کے معاملے میں ہی نہیں ہوا بلکہ تعلیمی بورڈ کے چیئرمین اور دیگر عہدیداروں کے تقرر کے سلسلے میں بھی ایسے مسائل پیدا ہو چکے ہیں ۔


تلاش کمیٹی کا قیام اور اس کے چیئرمین کی تقرری بھی ایک سوالیہ نشان بنتا رہا ہے ماضی میں جو چیئرمین رہے وہ اچھی شہرت کے حامل تھے لیکن ان کے فیصلوں پر بھی اعتراض ہوا ۔ تلاش کمیٹی کے موجودہ چیئرمین ڈاکٹر طارق رفیق کو حال ہی میں چیئرمین ہائر ایجوکیشن مقرر کیا گیا اور اب وہ تلاش کمیٹی کے اجلاسوں کی سربراہی کر رہے ہیں ۔ ان کا شمار ذہین اور قابل افراد میں ہوتا ہے اچھی شہرت کے حامل ہے ان کی سربراہی میں جو تلاش کمیٹی کے دیگر اراکین اپنا کام کر رہے ہیں وہ بھی اچھی شہرت کے حامل لوگ ہیں لیکن بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ وزیر اعلی کی مرضی


اور منظوری سے بننے والے چیئرمین اور اراکین کمیٹی کیا کسی وائس چانسلر اور دیگر عہدیدار کی تقرری کے موقع پر وزیراعلی ہاؤس کے کسی دباؤ کو مسترد یا نظر انداز کر سکتے ہیں کیا وزیر اعلی ہاوس اپنی پسند ناپسند ظاہرکردے تو کیا یہ تلاش کمیٹی اتنی طاقتور ہے کہ اس کے سامنے ڈٹ جائے اور وزیر اعلی کی ناراضگی مول لیتے ہوئے فیصلہ میرٹ پر کرے ۔ ماضی میں ایسی ناراضگی گورنر سندھ سے مول لینی پڑتی تھی اور

عام طور پر کوئی ناراضگی مول لینے کے لیے تیار نہیں ہوتا تھا اب یہ تمام اختیارات گورنر کی بجائے وزیراعلی کے پاس ہیں کچھ یونیورسٹیز کے وائس چانسلر کی تقرری اور کچھ کو ہٹانے کے معاملے پر اسی طرح کچھ تعلیمی بورڈ کے چیئرمین کی تقرری


اور کچھ کو ہٹانے کے معاملے پر یہ اطلاعات گردش کرتی رہی ہیں کہ وزیراعلی ہاؤس کی پسند اور نا پسند کو سامنے رکھا گیا جبکہ دیگر سیاسی شخصیات بھی اپنا دباؤ ڈالتی رہی ہیں اور مختلف معاملات میں سیاسی اثر رسوخ کا استعمال ہوا ۔ایسا کچھ وائس چانسلر کے خلاف آنے والی شکایات پر ہونے والی انکوائری کے دوران بھی دیکھا گیا ۔ وہ ابھی انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے اور شکایات موجود ہیں ۔


ان دنوں جامعہ کراچی کے مستقل وائس چانسلر کے تقرر کے حوالے سے ہونے والے انٹرویوز کا بڑا چرچا ہے ۔
تلاش کمیٹی نے انٹرویوز کے دوران دس امیدواروں کو فارغ کر دیا ہے اور تین امیدواروں کے نام لفافے میں بند کر لئے گئے ہیں اطلاعات کے مطابق تیرہ میں سے پانچ امیدواروں کو انٹرویو کے لئے بلایا گیا تھا اور 3 نام شارٹ لسٹ ہو چکے ہیں تلاش کمیٹی نے


ان تینوں ناموں کو ظاہر نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تین ناموں پر مشتمل ایک سمری اب وزیراعلی سندھ کو بھیجی جائے گی ۔ حتمی فیصلہ وزیراعلی سندھ کریں گے ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ تلاش کمیٹی میں جو لوگ شامل ہیں وہ کسی نہ کسی طرح اپنی مراعات کے معاملے میں وزیراعلی پر انحصار کرتے ہیں کمیٹی میں تین حاضر سروس صوبائی سیکرٹری ہیں جن کی ٹرانسفر پوسٹنگ وزیراعلی ہاؤس کے ہاتھ میں ہے جبکہ ایک سینئر


ریٹائرڈ بیوروکریٹ ہیں جن کی مراعات کا معاملہ حکومت کے کنٹرول میں رہتا ہے ۔ اس تناظر میں لوگوں کے ذہن میں جو سوالات اٹھتے ہیں وہ غیر حقیقت پسندانہ بھی نہیں ہیں اور ماضی میں ایسے بات کیا ہو چکے ہیں جن کی وجہ سے لوگوں کے ذہن میں خدشات رہتے ہیں جناح سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے معاملے میں یہ حقیقت پہلے ہی سامنے آ چکی ہے کہ اسی امیدوار کو آگے لانے کی پوری کوشش کی جاتی ہے جس کے لئے وزیر اعلی ہاؤس خواہش مند ہوتا ہے اور دوسرا امیدوار چاہے زیادہ نمبر بھی حاصل کر لے اسے کسی نہ کسی طریقے سے پیچھے کرایا جا سکتا ہے چاہے معاملہ عدالت سے گھوم پھر کر واپس آجائے ۔

لیاری یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے خلاف شکایات کی تحقیقات کا معاملہ ہو یا لاڑکانہ یونیورسٹی کی وائس چانسلر کے خلاف شکایات کی انکوائری ہو ۔ سکھر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے خلاف شکایات کا معاملہ ہو یا جام شورو یونیورسٹی کی اہم شخصیات سے جڑے معاملات ہوں ہر

جگہ شکایات جوں کی توں ہے فیصلے ضرور کیے گئے ہیں لیکن فریقین کو اطمینان نہیں دلایا جا سکا ۔ انصاف تو وہ ہوتا ہے جو ہوتا ہوا نظر بھی آئے ۔لیکن یونیورسٹیز اور بورڈز کے اکثر معاملات
ایسا انصاف کیا گیا ہے جو کم از کم ہوتا ہوا نظر نہیں آیا یہ کہنا ہے ان یونیورسٹیز اور بورڈز کے لوگوں کا ۔۔جن کے معاملات مختلف انکوائری کی نزر ہوئے اور تسلی بخش نتائج سامنے نہیں آسکے معاملات کو الجھایا گیا یا جان بوجھ کر تاخیری حربے اختیار کئے گئے ۔

آنے والے دنوں میں سب کی نظریں وزیر اعلی کے اس فیصلے پر لگی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں کراچی یونیورسٹی کو کافی عرصے بعد مستقل وائس چانسلر ملنے والا ہے ؟ کیا ایک مرتبہ پھر یہ معاملہ عدالت میں جائے گا یا وزیراعلی کے فیصلے کو میرٹ پر تسلیم کر لیا جائے گا ؟
===============================