اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر سعید الدین نے انٹربورڈآفس میں منعقدہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ انٹرمیڈیٹ گیارہویں اور بارہویں جماعتوں کے سالانہ امتحانات برائے 2022ء بروز ہفتہ 18 جون 2022ء سے شروع ہورہے ہیں، ان امتحانات میں تقریباً ایک لاکھ 90ہزار طلبہ و طالبات شریک ہوں گے

اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر سعید الدین نے انٹربورڈآفس میں منعقدہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ انٹرمیڈیٹ گیارہویں اور بارہویں جماعتوں کے سالانہ امتحانات برائے 2022ء بروز ہفتہ 18 جون 2022ء سے شروع ہورہے ہیں، ان امتحانات میں تقریباً ایک لاکھ 90ہزار طلبہ و طالبات شریک ہوں گے۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں انٹرمیڈیٹ گیارہویں اور بارہویں جماعتوں کے سالانہ امتحانات برائے 2022 ء کے


پہلے مرحلہ کا آغاز 18جون سے ہورہا ہے، 6جولائی تک جاری رہنے والے امتحانات میں سائنس پری میڈیکل، پری انجینئرنگ، سائنس جنرل، ہوم اکنامکس، کامرس ریگولر اور کامرس پرائیویٹ گروپس کے امتحانات ہوں گے، ان امتحانات میں صبح اور شام کی شفٹوں میں ہونے والے پرچوں میں تقریباً ایک لاکھ 90ہزار طلبہ و طالبات شرکت کریں گے، صبح کی شفٹ میں صبح 9بجے سے 12بجے تک سائنس پری میڈیکل، پری انجینئرنگ، سائنس جنرل اور ہوم اکنامکس گروپس کے امتحانات ہوں گے جس میں تقریباً ایک لاکھ 8ہزار طلبہ و طالبات شریک ہوں گے جبکہ شام کی شفٹ میں دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے تک کامرس ریگولر اور کامرس پرائیویٹ گروپس کے امتحانات ہوں گے جس میں تقریباً 82 ہزار امیدوار شرکت کریں گے۔ انٹرمیڈیٹ کے سالانہ


امتحانات برائے 2022ء کیلئے صبح اور شام کی شفٹوں میں مجموعی طور پر211 امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں جس میں 115 امتحانی مراکز صبح کی شفٹ میں جبکہ 96شام کی شفٹ میں بنائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مجموعی طور پر 64 امتحانی مراکز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے جس میں 32 صبح کی شفٹ میں جبکہ 32 شام کی شفٹ میں ہیں۔اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر سعید الدین نے بتایا کہ شفاف امتحانات کیلئے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں، امتحانات کے پرامن و بلاتعطل انعقاد اور طلباء کی سہولت کیلئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم ڈیپارٹمنٹ،یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ڈپارٹمنٹ حکومت سندھ، سیکریٹری کالجز ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ حکومت سندھ، کمشنر کراچی، ڈائریکٹر جنرل رینجرز، آئی جی پولیس اورکے الیکٹرک کو خطوط لکھ دیئے گئے ہیں تاکہ امتحانات کے دوران امن و امان، امتحانی مراکز کی سیکیورٹی اوربجلی کی بلاتعطل فراہمی کو ممکن بنایا جاسکے۔


چیئرمین بورڈ پروفیسر ڈاکٹر سعید الدین نے بتایا کہ نقل کی روک تھام کیلئے پچھلے سال کی طرح اس سال بھی خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، امتحانی مراکز میں ویجی لینس آفیسرز، سینٹر کنٹرول آفیسرز، سینٹر سپرنٹنڈنٹس، امتحانی عملے، اساتذہ اور طلباء سمیت کسی کو بھی موبائل فون، ٹیبلٹس، لیپ ٹاپ اور الیکٹرانک ڈیوائس لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی، دوران امتحان کسی طالب علم کے پاس نقل کا مواد یا موبائل فون پایا گیا تو اسے نقل کیلئے ناجائز ذرائع استعمال کرنے کے قانون کے تحت پرچہ کی منسوخی یا تین سال تک امتحان دینے کیلئے نااہل قرار دینے کی سزا دی جائے گی،امتحانی مراکز کے اطراف دفعہ 144 نافذ ہوگی جس کے تحت امتحانی مراکز کے اطراف فوٹو اسٹیٹ مشینوں کی دکانیں کھولنے، امتحانی مراکز میں غیرمتعلقہ افراد کی آمدورفت اور وہاں موبائل فونز کے استعمال پر سختی سے پابندی ہوگی۔ اس کے علاوہ اعلیٰ اختیاراتی ویجی لینس کمیٹی کے ساتھ 20ویجی لینس ٹیمیں بھی بنائی گئی ہیں جو امتحانی مراکز کے اچانک دورے کر کے وہاں موجود سہولیات اور امتحانی عمل کا جائزہ لیں گی۔


چیئرمین انٹربورڈ پروفیسر ڈاکٹر سعید الدین نے مزید بتایا کہ بورڈ آفس کی طرف سے امتحانی مراکز تک پرچوں کی بروقت اور بحفاظت ترسیل اور امتحان ختم ہونے کے بعد جوابی کاپیوں کے سربمہر پیکٹس بورڈ آفس پہنچانے کیلئے سینٹر کنٹرول آفیسرز جبکہ امتحانی عمل پر مسلسل نظر رکھنے کیلئے ہر امتحانی مرکز پر ویجی لینس آفیسر بھی تعینات کیے گئے ہیں،اس کے علاوہ امتحانی مراکز کی انتظامیہ کو امیدواروں کو دورانِ امتحانات تمام سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کردی گئی ہے۔
=======================================