اوپن سیل کےذریعے 5 ملین ٹن گندم برآمد کرنے،792 کے وی کے رینیوایبل پلانٹس کے گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کے لیے صوبائی گرڈ کمپنی کا قیام

کراچی . سندھ کابینہ کا ایک ہفتے میں آج دوسرا اجلاس منعقد ہوا جس میں اوپن سیل کےذریعے 5 ملین ٹن گندم برآمد کرنے،792 کے وی کے رینیوایبل پلانٹس کے گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کے لیے صوبائی گرڈ کمپنی کا قیام ، عبدالمجید برگھڑی انسٹیٹیوٹ برائے لینگویج انجینئرنگ کے بل کی منظوری ۔ اجلاس وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت نیو سندھ سیکریٹریٹ میں منعقد ہوا ۔اجلاس میں چیف سیکریٹری ممتاز شاہ ، تمام صوبائی وزراء، مشیروں، معاونین خصوصی اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے آغاز میں وزیراعلیٰ سندھ نے انڈین ایئرفورس کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے حوالے سے مذمتی قرار داد پیش کی۔ قرار داد کو اس طریقے سے پڑھاجائے’’یہ کابینہ انڈین ایئرفورس کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی مذمت کرتی ہے اور یہ بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ۔ کابینہ نے بھارت کا پاکستان کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈے کو بھی رد کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ حکومت اور سندھ کے لوگ انڈیا کی کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف متحد ہیں۔کابینہ نے پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے بروقت اور موثر جواب دینے کو سراہا اور کہا کہ ہم مسلح افواج کے ساتھ اپنے عظیم ملک کے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔
خریداری کے حوالے سے تحفظات:
محکمہ خوراک نے کابینہ سے درخواست کی کہ گندم کی فصل 19-2018 کی گندم کی خریداری کا نیا ہدف مقرر کیاجائے،ویسے یہ ہدف 5 لاکھ ٹن تجویز کیاگیاتھا۔ محکمہ نے گذشتہ فصل کے دوران 1.4 ایم ایم ٹی گندم 1300 روپے فی 40 کلوگرام (3250 فی سو کلوگرام )خرید کی تھی۔وزیراعلیٰ سندھ کے ایک سوال پر محکمہ خوراک نے کابینہ کو بتایا کہ محکمہ خوراک کے پاس 8 لاکھ ٹن گندم اضافی ہے جس میں سے 3لاکھ 60 ہزار ٹن گذشتہ سال فصل کی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کابینہ اراکین کے ساتھ مشاورت کے بعد فیصلہ کیاکہ اوپن ہائوس سیل کے ذریعے 5 لاکھ ٹن گندم برآمد کی جائے۔صوبائی وزیر خوراک ہری رام کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی سیکریٹری خزانہ اور سیکریٹری خوراک اس کے رکن ہوں گے جن کا یہ ٹاسک ہوگا کہ وہ برآمد کنندگان سے بات کریں گے اور 5 لاکھ ٹن گندم برآمد کرنے کے حوالے سے انہیں سہولیات فراہم کریں گے۔زیادہ تر کابینہ کے اراکین نے تازہ خریداری مہم کی مخالفت کی اور کہا کہ اس کے چھوٹے آبادگاروں کو کسی بھی قسم کے فوائد نہیں پہنچتے ہیں ۔خریداری کا مقصد مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں کو مستحکم رکھنا، چھوٹے آبادگاروں کی حوصلہ افزائی کرنا اور محکمہ خوراک کے پاس کچھ بہتر اسٹاک رکھنا ہوتاہے تاکہ کسی بھی ایمرجنسی یا گندم کی قلت کی صورت میں نبردآزما ہواجاسکے۔ کابینہ کے اراکین نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ چھوٹے آبادگاروں کو حکومتی خریداری مہم سے کبھی بھی فائدہ نہیں پہنچا ہے۔ حکومت نے ہمیشہ کرڑوں روپے گندم کی خریداری پر خرچ کرکے بھی بُرا نام ہی کمایا ہے اور محکمہ خوراک پر تجارتی بینکوں کا سو بلین روپے کا قرض بھی ہے لہٰذا کابینہ اراکین نے نئی خریداری کی مخالفت کی اور کہا کہ مارکیٹ نئے نرخوں کا فیصلہ کرے۔ کابینہ نے یہ فیصلہ کیا کہ پہلے برآمد کنندگان سے گندم برآمد کرنے کے حوالے سے بات کی جائے گی اور اس کے بعد آئندہ کابینہ کے اجلاس میں خریداری کا ہدف مقرر کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
صوبائی گرڈ کمپنی:
محکمہ انرجی نے کابینہ میں ایک آئٹم پیش کیا جس میں یہ درخواست کی گئی کہ صوبائی گرڈ کمپنی قائم کی جائے تاکہ رینیو ایبل انرجی کے 792 کے وی کے 4 گرڈ اسٹیشن تعمیر کیے جاسکیں۔صوبائی وزیرانرجی امتیاز شیخ اور سیکریٹری انرجی مصدق نے کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ پہلے ہی سندھ نوری آباد پاور کمپنی تا کے الیکٹرک 95 کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائن سے 100 میگاواٹ بجلی کی ایویکیوایشن کے لیے سندھ ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیج کمپنی (ایس ٹی ڈی سی) قائم کرچکا ہے۔ایس ٹی ڈی سی کی پروفیشنل ٹیم کے پاس پروونشل گرڈ کمپنی چلانے کی صلاحیت اور گنجائش ہے۔صوبائی گرڈ کمپنی جوکہ ایس ٹی ڈی سی کا حصہ ہوگی 5 منصوبے تعمیر کرے گی۔ان منصوبوں میں 220 کے وی نوری آباد ونڈ پاور منصوبوں کے لیے گرڈ اسٹیشن اور ایسوسی ایٹیڈ ٹرانسمیشن لائنز، ،220 کے وی جمپیر ونڈ پاور منصوبوں کے لیے گرڈ اسٹیشن اور ایسوسی ایٹیڈ ٹرانسمیشن لائنز ، 220 کے وی گھارو ونڈ پاور منصوبوں کے لیے گرڈ اسٹیشن اور ٹرانسمیشن لائنز۔دو 132 کے وی گرڈ اسٹیشن اور 132 کے وی جوکہ کے ڈبلیو ایس بی کے فور میں تقریباً 25 کلومیٹر ٹرانسمیشن لائن تعمیر کرے گی ،ان سے پمپنگ اسٹیشن 1 اور 2 کو بجلی فراہم کی جاسکے گی، ان کے ساتھ مذکورہ بالا تمام گرڈ اسٹیشن میں بیٹری اسٹوریج سسٹم (بی ایس ایس) بھی فراہم کیاجائےگا۔
عبدالمجید برگھڑی انسٹیٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ کا قیام:
صوبائی وزیر تعلیم و ثقافت سردار شاہ نے کابینہ کو بتایا کہ سندھی زبان کی ترقی اور اسے قومی اور بین الاقوامی زبانوں کے مطابق بنانے کے لیے عبدالمجید برگھڑی انسٹیٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ کا قیام عمل میں لانے کے کام کو تیز کیاجائے۔ عبدالمجید برگھڑی سندھی زبان میں کمپوزنگ کا بانی ہے اور 88-1987 سے وہ پرسنل کمپیوٹر پر سندھی زبان کے استعمال کے ذریعے سندھی پرنٹنگ اور پبلشنگ انڈسٹری میں انقلابی تبدیلیاں لائے ۔ صوبائی وزیرثقافت نے کابینہ کو بتایا کہ عبدالمجید برگھڑی انسٹیٹیوٹ آف لینگویج انجینئرنگ کی عمارت حیدرآباد میں تعمیر کی گئی اب وقت آیاگیا ہے کہ سندھی زبان کی ترقی کے لیے ضروری قانون سازی کرکے اسے فعال کیاجائے تاکہ سندھی زبان جدید چیلنجز سے نبرد آزما ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ اس ادارے میں پرانی شائع ہونے والی سندھی کتابوں کو ورلڈ فارم میں تبدیل کرنے کی سہولت ہوگی تاکہ انہیں دوبارہ پرنٹ کیاجاسکے۔اس طرح پرانی اور قیمتی کتابیں دوبارہ پرنٹ ہوسکیں گی۔ کابینہ نے بل کی منظوری دی اور اسے اسمبلی بھیجنے کی ہدایت کی۔
این آئی سی وی ڈی کے ساتھ ایم او یو کی منسوخی:
محکمہ صحت نے ایک ایجنڈا پیش کیا جس میں کابینہ سے درخواست کی گئی کہ وہ محکمہ صحت اور این آئی سی وی ڈی کراچی کے ساتھ ایم او یو منسوخ کردے تاکہ سندھ حکومت کی جانب سے اپنے اسپتالوں اور دیگر میڈیکل کے اداروں میں قائم کارڈیو ویسکیولر کی مینجمنٹ کو لیا جاسکے۔یہ یونٹ یا اسپتال بشمول سول اسپتال مٹھی ، سول اسپتال خیرپور ،لیاری جنرل اسپتال ، ایل یو ایم ایچ ایس حیدرآباد ، سید عبداللہ شاہ انسٹیٹیوٹ سہون ، چانڈکا میڈیکل یونیورسٹی اور فریال تالپور کارڈیک سرجری کمپلیکس لاڑکانہ ، کورو نیری کارڈیک یونٹ ٹنڈومحمد خان ، پی ایم سی اسپتال نواب شاہ ، ورکر ویلفیئرفنڈ اسپتال سکھر شامل ہیں ۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ سندھ حکومت نے سندھ انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیز(ایس آئی سی وی ڈی)-2018 ایکٹ پاس کیا ہے لہٰذا کارڈیو ویسکیولر ڈیزیز کی صحت کی سہولیات اب ایس آئی سی وی ڈی کا حصہ تصور ہوں گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست دائر کی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ تمام تینوں ادارے این آئی سی وی ڈی، جے پی ایم سی اور این آئی سی ایچ وفاقی حکومت سے واپس دلائے جائیں اس مرحلہ پر این آئی سی وی ڈی اور محکمہ صحت کے مابین ایم او یو کی منسوخی سے اس کیس پر اثر پڑے گا لہٰذا انہوں نے اپنی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں صوبائی وزیر صحت ، صوبائی مشیر قانون ، ایڈووکیٹ جنرل سندھ ، سیکریٹری قانون او رسیکریٹری صحت شامل ہیں جوکہ قانونی پوزیشن کا جائزہ لے گی۔ ایم او یو کی منسوخی اگر ضروری ہوئی تو اسے منسوخ کردیاجائے گا۔
ایس آر بی :
سندھ ریونیو بورڈ (ایس آر بی ) نے صحت اور لائف انشورنس ، کیبل آپریٹرز اور کنٹریکٹرز اور تعمیرات کی سروسز پر سندھ سیل ٹیکس نافذ کرنے کی تجویز پیش کی ۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس وقت صوبے کے لوگوں کی مجموعی مالی صورتحال مستحکم نہیں ہے لہٰذا یہ تجاویز آئندہ کسی وقت کابینہ کے اجلاس میں پیش کی جائے تاکہ ان کا آئندہ مالی سال سے نفاذ کیاجاسکے۔کابینہ نے سندھ پبلک فنانس ایڈمنسٹریشن ایکٹ 2019 کی بھی منظوری دی جس کے تحت فیلڈ اور انتظامی افسران کو زیادہ مالی اختیارات تفویض کیے گئے ہیں ۔ کابینہ نے ضروری غور کے بعد صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( پی ڈی ایم اے )سندھ میں بھرتی کے قواعد کی منظوری دی۔ کابینہ نے ایڈووکیٹ منظور حسین لاڑک کو لاء کالجز جن کا شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیر پور کے ساتھ الحاق ہے کا بطور سیکریٹری بورڈ آف گورنرز مقررکیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں