چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر سہیل راجپوت کا جذبہ قابل ستائش ہے ۔مقررین کا صوبائی حکومت کی جانب سے معذور افراد کے لئے اقدامات پر خراج تحسین

چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر سہیل راجپوت کا جذبہ قابل ستائش ہے ۔مقررین کا صوبائی حکومت کی جانب سے معذور افراد کے لئے اقدامات پر خراج تحسین


چیف سیکرٹری سندھ ڈاکٹر سہیل راجپوت نے کہا ہے کہ جو کام حکومت کو کرنا چاہیے وہ کا م زینب ری ہائیبلیٹیشن سینٹر کر رہا ہے اور معاشرے کے ان افراد کو اپنے پیروں پر کھڑا کرکے کارآمد شہر ی بنا رہا ہے،جسے بعض افراد معذور سمجھ بیٹھے ہیں، روح رواں حاجی مسعود پاریکھ خراجِ تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے ذمہ داری کے ساتھ اس کے کام کا بیڑا اٹھا یا ہے جو ایک احسن اقدام ہے ،وہ سنیٹر کے سالانہ اعشائیہ سے


خطاب کررہے تھے، تقریب سے عبداللہ شاہ غازی رینجر کے سیکٹر کمانڈر بریگیڈ یر بلال، آل پاکستان میمن فیڈریشن کے حنیف موٹلانی ،ایچ ایم شہزاد ، یحییٰ پولانی، عارف پنجابی، علی اشفاق ایڈووکیٹ، ادارے کی ڈائیریکڑ مہوش پاریکھ نے بھی خطاب کیا،تقریب میں اسپیشل بچوں سمیت مہمانان کو یاد گاری شیلڈ اور تحائف پیش کئے گئے۔

=========================================


وزیراعلیٰ سندھ کا تیسرے C-ART اور ADHD کا افتتاح
آٹزم صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ خاندان کو ہوتا ہےجس کیلئے مدد کی ضرورت ہے، وزیراعلیٰ سندھ
خصوصی افراد کی تعلیم کا بجٹ 800 ملین روپے سے دگنا کرکے 1.7 ارب روپے کر دیا گیا، مراد علی شاہ
کراچی (11 جون): وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کورنگی میں سینٹر فار آٹزم ری ہیبلی ٹیشن اینڈ ٹریننگ (C-ART) اینڈ اٹینشن ڈیفیسٹ ہائپر ایکٹیویٹی ڈس آرڈر (ADHD) کا افتتاح کرتے ہوئے محکمہ خصوصی افراد کو بااختیار (DEPD) کے بجٹ میں 800 ملین سے روپے سے بڑھاکر اگلے بجٹ میں 1.7 ارب روپے اضافے کا اعلان کیا تاکہ خصوصی افراد کی تعلیم اور بحالی کیلئے مزید سہولتیں قائم کی جا سکیں۔ تقریب میں وزیراعلیٰ کے مشیر منظور وسان، صوبائی وزراء شرجیل میمن، شہلا رضا، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب، ڈی ای پی سی کے معاونین خصوصی صادق میمن، وقار مہدی، چیف سیکرٹری سہیل راجپوت اور دیگر نے شرکت کی۔ مراد علی شاہ نے C-ARTS کو اپنے بل بوتے پر آگے بڑھنے پر سراہا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے گلستان جوہر میں پہلی C-ARTS سہولت کا افتتاح کیا تھا اور اب کورنگی میں تیسرے سیٹ اپ کے سائے تلے کھڑا ہوں، مزید کہا کہ C-ARS اب آٹزم کے شکار 300 سے زائد افراد کو مفت خدمات فراہم کر رہا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ C-ARTS کو منفرد بنانے کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ آٹزم کے شکار بچوں کو ایک ہی چھت کے نیچے تمام سہولیات فراہم کرتے ہیں جبکہ بچے C-ARTS کا بنیادی مرکز ہیں، وہ والدین کو بھی تربیت فراہم کرتے ہیں کیونکہ آٹزم بالآخر کسی فرد کو نہیں بلکہ ایک خاندان میں ہوتا ہے اور اس کیلئے بچوں کی دیکھ بھال کرنے والوں کی مکمل حمایت کی ضرورت ہوتی ہے۔ آج ہم نے C-ARTS (بالغ) اور ADHD سینٹر کا افتتاح کیا ہے جو آٹزم کے شکار 150 سے زائد افراد کو روزگار کیلئے تربیت دے گا تاکہ وہ معاشرے میں اپنا کردار ادا کرسکیں اور یہ مرکز ADHD بچوں کیلئے بھی موزوں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سنٹر کی الگ خصوصیت یہ ہے کہ یہ کارپوریٹ سیکٹر کے ساتھ بحالی اور ہنر کے ماہرین کے درمیان تعاون ہے اور یہ ماڈل، انشاء اللہ، اس آبادی کیلئے پائیدار روزگار پیدا کرنے کیلئے ایک طویل سفر طے کرے گا اور وہ دوسروں کیلئے ایک رول ماڈل ثابت ہوں گے۔ مراد علی شاہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ایسے پیشہ ور افراد کی کمی ہے جو آٹزم کے شکار افراد کے ساتھ کام کرنے کیلئے موزوں ہیں، ایسی صورت میںC-ARTS ان پیشہ ور افراد کیلئے ایک تربیتی سہولت کے طور پر بھی کام کرتا ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق اپنے فرائض کی انجام دہی کیلئے درکار تجربہ اور تربیت حاصل کر سکیں۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ حیدرآباد میں C-ARTS کی پہلی سیٹلائٹ سہولت نے بھی آٹزم کے شکار افراد کو جدید ترین خدمات فراہم کرنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مقصد کیلئے وہ ایک بڑی سہولت اور بجٹ مختص کر رہے ہیں تاکہ سیٹلائٹ کی سہولت کو ایک مکمل سینٹر آف ایکسی لینس جیسا کہ کراچی میں ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ C-ARTS سہولیات کے علاوہ، ڈپارٹمنٹ آف امپاورمنٹ آف پرسنز آف ڈس ایبلٹیز (DEPD) شراکت داروں کے ساتھ مل کر تمام زمروں کے مختلف طور پر معذور افراد کی بحالی، تعلیم اور روزگار کی ضروریات سے نمٹنے کیلئے تیار ہو رہا ہے۔ سندھ امپاورمنٹ آف پرسنز ود ڈس ایبلٹیز ایکٹ 2018 اقوام متحدہ کے معذور افراد کے حقوق کے کنونشنز کے مطابق معذور افراد کے حقوق کے حصول کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ ایکٹ کے ذریعے تمام بڑی معذوریوں کی تفصیل سے وضاحت کی گئی ہے جو کہ سابقہ وفاقی اور صوبائی قوانین سے ایک بڑی علیحدگی ہے جس میں جسمانی طور پر معذور، بصارت سے محروم، سماعت سے محروم اور ذہنی معذوری کی صرف چار اقسام کو تسلیم کیا گیا ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ ایکٹ ان پر ایک بڑی بہتری ہے کیونکہ اس میں آٹزم، توجہ کی کمی ہائپر ایکٹیویٹی ڈس آرڈرز، ڈسلیکسیا، ڈسپریکسیا، ٹوریٹ، ڈاؤن، ریٹ، اور دیگر سنڈروم اور اعصابی عوارض کی وضاحت کی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ انکی حکومت نے معذور افراد کیلئے ملازمت کی قابلیت میں عمر کی حد میں رعایت فراہم کی ہے اور معذور افراد کیلئے موزوں ملازمتوں کی اقسام بھی فراہم کی گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ کے ترقیاتی پورٹ فولیو کو 800 ملین روپے سے بڑھا کر اآئندہ بجٹ 23-2022میں 1.7 ارب روپے کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ تعمیر کیے جانے والے بڑے منصوبوں میں 17 نئے خصوصی افراد کیلئے تعلیم و بحالی کے مراکز کی تعمیر اور 13 موجودہ مراکز کی تعمیر نو/ بحالی شامل ہےاور موجودہ مراکز کی استعداد کار میں اضافہ بھی آلات اور عملے کی فراہمی کے ذریعے کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی صادق میمن نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہید بینظیر آباد، مٹیاری، سکھر، لاڑکانہ اور میرپورخاص میں نئے آٹزم سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں۔ صادق میمن نے کہا کہ خصوصی تعلیمی مراکز میں داخلہ لینے والے بچوں کو ماہانہ 2000 روپے ، مفت ٹرانسپورٹ اور دوپہر کا کھاناروپے کا وظیفہ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوشل پروٹیکشن انیشی ایٹو کے تحت وزیر اعلیٰ سندھ نے معذور افراد کیلئے 250 ملین روپے کا خصوصی فنڈ مختص کیا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ اور وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی صادق میمن نے ان پارٹنر تنظیموں کا شکریہ ادا کیا جو مختلف طور پر معذور افراد کی تعلیم، بحالی اور پیشہ ورانہ تربیت کے مقصد کیلئے قابل ستائش خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ نے C-ARTS اور ADHD کی نئی تعمیر شدہ عمارت کا افتتاح کرنے کے بعد مختلف کلاسز، ٹریننگ رومز اور کھیل کے میدان کا دورہ کیا۔
عبدالرشید چنا
میڈیا کنسلٹنٹ، وزیراعلیٰ سندھ
=============================================