طاقتور لوگ سرکاری دفاتر کی سیڑھیاں نہیں چڑھتے ۔ان کے کام تو ایک فون پر ہو جاتے ہیں ۔ سرکاری دفاتر کے چکر لگانے والے وہ لوگ ہیں جن کی کوئی اپروچ نہیں ۔۔۔۔

طاقتور لوگ سرکاری دفاتر کی سیڑھیاں نہیں چڑھتے ۔ان کے کام تو ایک فون پر ہو جاتے ہیں ۔ سرکاری دفاتر کے چکر لگانے والے وہ لوگ ہیں جن کی کوئی


اپروچ نہیں ۔۔۔۔اس تلخ حقیقت کا ادراک سندھ کے چیف سیکریٹری محمد سہیل راجپوت کو بھی ہے اور اس کا اعتراف انہوں نے گزشتہ دنوں صحافیوں سے ملاقات کے دوران بھی کیا ۔ ان کے دفتر کے باہر سائلین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی اور وہ باری باری سب کو بلا کر ان کی


بات سن رہے تھے اور ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ ملاقات کرنے والے سائلین بعد میں کافی حد تک مطمئن نظر آئے ۔ چیف سیکریٹری نے بھی کہا کہ مجھے پتا ہے اتنی گرمی میں یہ لوگ آئے ہیں تو یقینا کوئی جائز مسئلہ ہے اور کوئی مجبوری ہے جس کی وجہ سے پریشانی ان کو یہاں تک کھینچ لائی


اور سرکاری افسران کا فرض ہے کہ ان کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے ان کو سنے اور ان کی دادرسی کے اقدامات کریں ۔ سب معاملات کا حل کسی ایک سرکاری افسر کے پاس نہیں ہوتا لیکن بگاڑ کو کسی حد تک یہ افسران سدھار سکتے ہیں اور اگر کسی مسئلہ کو شروع میں ہی ہینڈل کرنے کی کوشش کی جائے تو بات زیادہ نہیں بگڑتی ۔
بات ذمہ داری کو محسوس کرنے کی ہے اور دوسرے کے دکھ درد کو سمجھنے کی ہے اگر ایمانداری سے فرائض انجام دیے جائیں تو بہت ہی ناانصافیاں عدالت میں جانے سے پہلے ہی ختم ہو سکتی ہے ۔


سرکاری دفاتر میں آئے ہوئے سائلین بتا رہے تھے کہ ان کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے لیکن ایک کام کے لئے کئی مرتبہ چکر لگانے پڑتے ایسا کوئی نظام نہیں ہے جہاں آن لائن اپنے مسئلے کی پیشرفت سے آگاہی حاصل کی جا سکے اور اگر ایسا کوئی نظام سندھ حکومت نے بنا رکھا ہے تو اس کی تشہیر بھی کرنی چاہیے تاکہ کراچی سے کشمور تک سندھ کے عوام کو اپنے کاموں اور مسائل کے سلسلے میں سرکاری دفاتر جانے کی بجائے آن لائن سہولت میسر ہے تو اس سہولت سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور مسئلے پر ہونے والی پیش رفت سے آگاہی بھی فراہم کی جائے سندھ نے مختلف شعبوں میں قانون سازی اور بہتر کام کرنے میں پہل کرنے کی روایت قائم کی ہے اس لئے آئی ٹی کے شعبے میں بھی سندھ دوسروں سے آگے جا سکتا ہے


اور ٹیکنالوجی کی مدد سے سائلین کے مسائل کی پیش رفت کے لیے نظام وضع کر سکتا ہے وزیراعلی کو خود بھی عوام سے کھلی کچہری یا کسی اور براہ راست رابطے کے ذریعے مسائل سے آگاہی حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے ۔اس حوالے سے مختلف تجاویز ہیں اور لوگوں کے مسائل ہیں جن پر توجہ کی ضرورت ہے ۔

============================

جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے زرعی پیداوار بڑھائی جا سکتی یے۔ چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت


بحیثیت قوم پانی کے استعمال کے طریقوں کو تبدیل کرنا ہوگا۔ چیف سیکریٹری سندھ

ایکسپورٹ بڑھانی کے لئے آفریکا براعظم سمیت نئیں مارکیٹ تلاش کرنا ہوگی ۔ چیف سیکریٹری سندھ

باسمتی چاول کی جی آئی ٹیگ کے حوالے سے پاکستان نے بہترین انداز سے مقدمہ لڑا ہے۔ رائیس ایسوسیشن آف پاکستان کی جانب سے منعقد تقریب میں خطاب

کراچی 8 جون 2022

چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت نے کہا کے ملک میں پانی کی قلت کو مد نظر رکھتے ہوئے کاشتکاری میں جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کر کے کم پانی کے استعمال سے بھی پیداوار بڑھائی جا سکتی ہے۔ یہ بات انہونے رائیس ایسوسیشن آف پاکستان کے جانب سے کراچی میں منعقد ایک تقریب میں کی۔ تقریب میں رائیس ایسوسیشن آف پاکستان اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندوں نے شرکت کی۔ تقریب میں رائیس ایسوسیشن آف پاکستان کے نمائندوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کے پاکستان اور بھارت کے درمیان باسمتی چاول کی جی آئی ٹیگ کے حوالے سے تنازع رہا ہے اور حکومت سندھ نے باسمتی چاول کی پیداوار کی بروقت ڈیٹا فراہم کر کے پاکستان کے کیس کو مظبوط بنایا ہے، انہونے مزید کہا کے سندھ صوبے میں بہت سے علاقوں میں زراعت کی زمینوں پر ہاؤسنگ سوسائٹی بنائی جا رہی ہے جو مستقبل میں خوراک کی کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت نے کہا کہ بھارت نے یورپی یونین میں پاکستان کی رائس ایکسپورٹ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، پاکستان نے جی آئی ٹیگ کے حوالے سے بہترین انداز میں مقدمات لڑا ہے ، انہونے مزید کہا کے ملک کی معاشی صورتحال اس وقت انتہائی نازک ہے ہمارا ایکسپورٹ اور امپورٹ کا فرق بہت زیادہ ہے، پندرہ ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کا سامنا ہے، ملک میں آئی ٹی ایکسپورٹ صرف ستائیس ملین ڈالر ہے، ہمیں ہر حال میں اپنی ایکسپورٹ بڑھانی پڑے گی۔ چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت نے مزید کہا کے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایک ایسا شعبہ ہے جس میں ہم نوجوانوں کو تھوڑے عرصے میں آئی ٹی کی تربیت دے کر ملازمت اور کاروبار کے لائق بنا سکتے ہیں، انہونے مزید کہا کے پاکستان میں کاشتکاری کے لئے ٹیکنالوجی کو بہت کم استعمال کیا جاتا ہے دیگر ممالک میں ٹیکنالاجی کے استعمال سے زراعت کے شعبے کو فروغ ملا ہے۔ انہونے مزید کہا کے رائس ایکسپورٹ کیلئے براعظم افریقہ کی مارکیٹ پر توجہ دینا ہوگی اور ایکسپورٹ کو بڑھانے کے لیے ایکسپورٹرز کو نئیں مارکیٹ تلاش کرنا ہوگی۔ انہونے مزید کہا کہ کراچی میں پانی کی قلت سنگین مسئلہ بن چکا ہے، کے فور کا منصوبہ حل نہیں ہوتا تو مجبوراً متبادل کے طور پر سمندر کے پانی کو استعمال کرنا ہوگا، ہمیں بحیثیت قوم پانی اور توانائی کے استعمال کے طریقوں کو بھی تبدیل کرنا ہوگا، وفاقی حکومت نے توانائی بحران کی وجہ سے ہفتے میں پانچ روز کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، سندھ حکومت نے بھی چالیس فیصد پیٹرول کا کوٹہ ختم کیا ہے۔ تقریب کے اختتام پر چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت نے صوبے میں چاول کی پیداوار اور ایکسپورٹ بڑہانے کے لئے رائیس ایسوسیشن آف پاکستان سے تجاویز طلب کرلی۔
==========================