اور پھر سیلاب آ گیا


تحریر ۔۔۔۔شہزاد بھٹہ
====================


اور پھر سیلاب آ گیا یہ الفاظ ھم پاکستانی پچھلے 74 سالوں سے باقاعدگی سے سن رھے ہیں موسم برسات کی آمد کے ساتھ ھی پہاڑی علاقوں میں برف پگھلنے اور بارشوں سے ندی نالوں اور دریاوں میں انے والے برساتی پانی کی تباہ کاریوں کی خبریں ٹی وی اور اخبارات کی زینت بنتی ہیں. سیلاب سے سڑکوں، پلوں اور املاک کو بھی شدید نقصان پہنچتا ھے۔

بارشیں اور سیلاب ہر سال آتے ہیں اور اس کے لیے اکثر اوقات متعلقہ محکمے وارننگ جاری کر دیتے ھیں لیکن اس کے باوجود ہر سال ان سے انسانی جانوں کے نقصان کے علاوہ انفراسٹرکچر کو بھی بھاری نقصان ہوتا ہے۔
ھر سال ھونے والی بارشوں اور سیلاب سے کہیں ہسنتے بستے گھر اور ابادیاں پانی میں بہہ جاتے ھیں اور کہیں مکانات پر پہاڑی تودے آگرتے ھیں جبکہ کچے مکانات کے مکینوں پر ان ھی کے مکان کی چھتیں گر پڑتی ھیں
دیہی علاقوں میں سیلاب انے سے بہت زیادہ تباھیاں ھوتی ہیں تیار فصلیں تباہ ھوجاتی ھیں جانور سیلابی ریلوں میں بہہ جاتے ھیں جس سے کسانوں کے بہت زیادہ نقصانات ھوتے ھیں سیلاب انے پر مختلف محکموں اور ضلعی انتظامیہ کی پھرتیاں ھر طرف نظر اتیں ھیں حکومتی محکمے عارضی انتظامات پر خرچے کرتے ہیں سیلاب زدگاں کے لیے کیمپ لگائے جاتے ھیں ھزاروں دیگیں تیار ھوتی ھیں جو سیلاب زدگاں میں تقسیم ھوتی ھیں ان حالات میں تقسیم ھونے والی اشیاء کے سرکاری بل تیار ھوتے ھیں سو والی چیز پانچ سو یا ھزار روپے میں خریدی جاتی ھے اور قومی پیسہ مختلف سرکاری افراد اور ٹھکیداروں کی جیبوں میں چلا جاتا ھے اگر یہ کہا جائے کہ ھر سال سیلاب انے سے مختلف سرکاری ملازمین کی لاٹری نکل اتی ھے بالکل درست ھے اور پھر ساری سرکاری مشنیری اگلے سال برسات تک خاموش ھو جاتی ھے


پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ھے جو ھر سال لاکھوں کیوسک میھٹا پانی سمندر کی نذر کرتا ھے ایک رپورٹ کے مطابق پانی ذخیرہ کرنے کا بندوبست نہ ہونے وجہ سے پاکستان ھر سال کھربوں روپے مالیت کا 29 ملین ایکٹر فٹ پانی سمندر کی نذر کر دیتا ھے جبکہ دنیا بھر میں اوسطً یہ شرح 8.6 ملین ایکٹر فٹ ہے۔اور پھر سارا سال پانی کی کمی کا شکوہ اور رونے میں گزار دیتے ھیں ملک کے سارے دریا اور ندی نالے سال کے تقربیا دس مہینے خشک رہتے ھیں
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ھوتا ھے جو پانی کی شدید کمی کا شکار ھے قومی ادارے ارسا کے مطابق اس وقت ملک بھر میں پانی کے ذرائع دریاؤں اورڈیموں میں اوسط توقع سے مجموعی قلت 38 فیصد ہے جس میں دریائے سندھ اور تربیلا ڈیم میں 13 فیصد، دریائے کابل میں 46 فیصد، دریائے جہلم اور منگلا ڈیم میں 44 فیصد، دریائے چناب میں 48 فیصد اور دیگر ذرائع میں یہ کمی 66 فیصد ھے
چین میں کئی سال پہلے سیلابوں کی وجہ سے تباہ کاریوں ھوتی تھیں تو عظیم لیڈر چیرمین ماو نے وھاں کے سب سے بڑے اور سرکش دریا کے کنارے کھڑے ھو کر دریا کو مخاطب کرتے کہا کہ تجھے ایسی لگام ڈالوں گا کہ تیری ساری مستیاں ختم ھوجاہیں گئیں پھر چینی حکومت نے اس دریا پر ڈیم بنا دیئے اس کے سیلاب ختم ھوگے. یہ ھے زندہ قوم اور زندہ قیادت۔۔
مگر وطن عزیز میں معاملہ الٹ ھے


ھم نے ھر مسلہ میں ڈنگا ڈئپاو پالیسی اخیتار کر رکھی ھے۔دریاوں کو اج تک کوئی پراپر شکل نہیں دی گئی نہ ھی ان کو گہرا کیا اور نہ ھی ان کے کناروں اونچا کیا۔ دریاوں کی سطح زمیں کے برابر اچکی ھے
ذرا سا پانی اتا ھے تو دریا بے قابو ھو جاتے ھیں سیلابی پانی دریاوں سے باھر نکل کر بے پناہ نقصان پہنچاتا ھے ۔پاکستان کے چاروں صوبوں میں بے شمار برساتی نالے ھیں جو بارشوں کے موسم میں دریا بن جاتے پہاڑوں سے انے والا لاکھوں کیوسک پانی تباھی مچاتا ھوا کہیں گم ھو جاتا ھے بلکہ قیمتی پانی کھلے میدانوں اور کھیتوں میں جا کر ضالع ھو جاتا ھے مگر ھمارے محکمے خاص طور پر واپڈا، محکمہ انہار اور ضلعی انتظامیہ 75 سال بعد بھی اپنے سیلابی پانی کو کنڑول اور ذخیرہ کرنے کا کوئی بندوبست نہیں کر سکے اور یوں ھر سال لاکھوں کیوسک پانی ضائع کر دیتے ھیں جو تباھی مچاتا ھوا سمندر میں گر جاتا ھے
یہ ایک حقیقت ھے کہ دریاوں کی سرزمین پاکستان برسات کے موسم کے علاوہ سارا سال پانی کو ترستی ھے دریا خشک ھونے سے زیر زمین میھٹے پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے جا چکی ھے اگر لاھور کی بات کریں تو 2003 میں زیر زمین میھٹے پانی کی سطح 300 فٹ سے 400 فٹ تھی جو اج 1300 فٹ سے 1400 فٹ نیچے جا چکی ھے
پاکستان کے پانچ میں سے تین دریا ستلج بیاس اور راوی تو ایک امر جنرل ایوب خان نے 1960 میں سندھ طاس معاہدہ کے تحت ہندوستان کو فروخت کر چکے ھیں ان دریاوں میں پانی صرف اس وقت اتا ھے جب ہندوستان میں سیلاب اتا ھے اور ڈیم فل ھو جاتے ھیں تو بھارت اپنے اپ کو بچانے کے لیے سیلابی پانی چھوڑتا ھے باقی سارا سال یہ دریا صحرا کا منظر پیش کرتے ھیں یا ریت سپلائی کرنے والے ڈپو
مزے کی بات ھے انتظامیہ کی ناائلیوں اور ملی بھگت سے ستلج بیاس اور راوی میں لینڈ مافیا نے ھاوسنگ سوساٹیاں بنا رکھی ھیں
ھمارے حصے کے دریاوں چناب اور جہلم پر بھی انڈیا ھماری حکومتی نااہیلوں کی وجہ سےمقبوضہ کشمیر میں ڈیم بنا چکا ھے جس سے دریا چناب اور جہلم کے پانیوں پر بھی اپنا کنڑول حاصل کر چکا ھے اور اب وہ ان دونوں دریاوں کا پانی بھی اپنی مرضی کے مطابق چھوڑتا ھے ھم پاکستانی سال بھر پانی کو ترستے ھیں یا پھر ایک مہینہ سیلاب میں ڈوبتے ھیں


ظلم کی انتہا یہ ھے کہ ھم نے لاھور سے گوجرانوالہ جاتے ھوئے جتنے برساتی نالے اتے ھیں ان کو ختم کرتے ھوئے وھاں بھی ھاوسنگ سوساٹیاں بنا رکھی ھے ان کے پل بھی ختم کر دیئے یا ان پل کے نیچے ابادیاں بنا رکھی ھیں جب برسات میں پانی اتا ھے تو پھر یہ بستیاں ڈوبتی اور تباھیاں ھوتی ھیں
2010 میں سیلابی پانی میں ملک کا بیس فیصد رقبہ ڈوب گیا تھا۔ سیلاب آنے کی وجوہات میں طوفانی بارشیں، نہروں اور بندوں کے پشتوں کا ٹوٹنا اور سیلابی پانی کی نکاسی نہ ہونا شامل تھیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک کا بنیادی ڈھانچہ بہتر بنا کر موسم کی شدت کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔
ھماری حکومتوں اور محکموں کو ڈنگا ٹپاو نظام چھوڑ کر مستقل بنیادوں پر سیلاب اور خشکی سالی سے بچنے کے لیے اقدامات کرنے چاھیے
پاکستانی فوج اور جیل کے قیدیوں کی مدد سے ندی نالوں اور دریاوں کو گہرے کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے کناروں کو اونچا کرکے مستقل مضبوط بند تعمیر کرنے چاھیے
سیلابی پانی کو محفوظ کرنے کے لیے دریاوں میں مختلف مقامات پر چھوٹے چھوٹے ڈیم اور جھیلیں بنائی جائیں تاکہ سیلانی پانی محفوظ رہ سکے
پہاڑی علاقوں سے انے والے برساتی نالوں میں انے والے پانی کو کنڑول اور محفوظ بنانے کے لیے مختلف مقامات پر تالاب بنائے جائیں
============================