شکریہ راولاکوٹ، ہائی اسکول ہورنہ مرہ کا امتیاز و خواب ۔

سچ تو یہ ہے،
==========

بشیر سدوزئی،
==================
راولاکوٹ کے دوست احباب کا شکریہ جنہوں نے بے حد پذیرائی کی ، فون کال اور ملاقاتوں، دعوتوں اور نجی نشتوں میں ویلکم کہا ۔ راولاکوٹ اور علاقائی مسائل کو کالموں میں اجاگر کرنے کی کوشش کو سہریا۔ مجھے یہ بھی بتایا کہ با اختیار اداروں کے افسران و اہلکار ان کالموں سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں، اس سلسلے کو جاری رکھا جائے، ساتھیوں نے میرے اس عمل کی بھی تعریف کی کہ راولاکوٹ میں نہ رہنے کے


باوجود بعض اوقات میرے کالموں میں ایسے مسائل کی نشاندہی کی جاتی ہے جس کا یہاں کے مستقل رہائشیوں کو بھی ادراک نہیں ہوتا۔ مجھے اس مرتبہ احساس ہوا کہ راولاکوٹ تیزی سے ترقی کر ریا ہے، تھوڑے وقفے کے بعد جو بھی راولاکوٹ آئے گا اسے یہاں تبدیلی لگے گی۔ خاص طور پر زلزلے کے بعد تو آزاد کشمیر کو پر لگ گئے ہیں اس کے اثرات راولاکوٹ شہر پر بھی پڑے، پوری ثقافت ہی بدل گئی لیکن تعمیراتی کلچہر جو اس علاقے میں صدیوں سے راج تھا، مکمل طور پر بدل چکا۔ غیر مقامی کلچہر ایڈاپٹ ہوا ہے لیکن اس پر کسی کو تشویش نہیں لوگ مطمئن ہیں کہ ہم جدید دنیا کہ ساتھ چل رہے ہیں ۔ البتہ ہہلی مرتبہ پہاڑی زبان میں ادب تخلیق ہو رہا ہے ۔ پہاڑی کے تڑکے نے ڈاکٹر صغیر خان کے کالموں کے ذائقہ میں اضافہ کر دیا، اطراف میں تعمیر ہونے والے بائی پاس نے شہر کو کشادہ تو کیا، لیکن روز بروز گاڑیوں کے اضافے نے شہر میں ٹریفک مسائل میں بہت زیادہ کمی نہیں کی ۔


انتظامیہ کو شہر میں پارکنگ پر کنٹرول کرنے کے لیے کچھ سوچنا پڑے گا،بصورت دیگر مسائل میں اضافہ ہی یوتا جائے گا اور چند سال میں شہر سے گزرنا محال ہو گا ۔آزاد کشمیر خصوصا پونچھ کے ہر گاوں کی اپنی انفرادی شناخت اور خصوصیت ہے جو اس کو دوسروں سے منفرد حیثیت دلاتی یے لیکن راولاکوٹ کے نواحی گاوں ہورنہ مرہ کو جو امتیاز حاصل یے وہ کسی اور کو نہیں۔ لیکن ہورہ مرہ کے عوام نے کبھی اس امتیازی حیثیت کو بطور نشان استعمال نہیں کیا۔ غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کو آزاد کشمیر میں وہی حثیت حاصل ہے جو قائد اعظم محمد علی جناح کو پاکستان میں ہے۔ کراچی میں قائد اعظم محمد علی جناح کی رہائش گاہ وزیر منشن کو قومی یادگار اور ابتدائی تعلیم گاہ سندھ مدرسہ اسلام کو یونیورسٹی تک ترقی دے دی گئی، لیکن 22 اپریل 1915 کو ہورنہ مرہ میں پیدا ہونے والے آزاد کشمیر کے بانی صدر سردار محمد ابراہیم خان کے آبائی گاؤں کی طرف آزاد کشمیر کی حکومت نے کبھی آنکھ اٹھا کر دیکھا بھی نہیں۔ اہل ہورنہ مرہ کا یہ حق ہے کہ ان پر خصوصی توجہ ہو خاص طور پر غازی ملت کے آبائی مدرسہ کو قومی ورثہ قرار دے کر نہ صرف اس کو ترقی دی جائے بلکہ اس مددسے کے ساتھ بڑی لائبریری، میوزیم، کمیونٹی سینٹر، اسپورٹس گراونڈ اور دیگر ایسی سہولیات مہیا کی جائیں ۔


جو قومی یاد گار کے شیان شان ہوں اور آزاد کشمیر اور پاکستان بھر سے نوجوان ان سے استفادہ کرنے وہاں آئیں۔ میورنہ مرہ کا یہ مدرسہ جس نے 112 برس میں ہائی اسکول ہونے کا سفر طہ کیا آج خستہ حالت میں حکمرانوں کی متعصبانہ رویوں اور پالیسیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے، خود غازی ملت کی توجہ بھی اس طرف کبھی نہیں اٹھی کہ اہل محلہ اور اپنی ابتدائی مادرے علمی کو اس طرح کسمپرسی میں نہیں چھوڑنا چاہئے تھا ۔ بعض افراد تاریخ و ثقافت کو درست کرنے پر کمر بستہ اور ہم خیال پیدا کرنے کے لیے تاریخی شکوفے چھوڑتے ریتے ہیں خود اپنی تاریخ کو دفن ہونے پر بے خبر اور خاموش ہیں ۔ ہورنہ مرہ سے تعلق رکھنے والے آزاد کشمیر کے سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر پونچھ محمد جاوید صادق صاحب سے پروفیسر مظفر خان صاحب جو صاحب فراش ہیں کی صاحبزادی کی شادی میں ملاقات ہوئی کو ہورنہ مرہ ہائی اسکول کے حوالے سے خاصے پریشان پائے۔ ان کی تواسط سے یہ حوالہ ہمارے لیے نیا ہے کہ


ہورنہ مرہ ہائی اسکول ہماری تاریخ بھی ہے اور ثقافت بھی ، روشنی کا پہلا مینارہ جس کا سنگ بنیاد ڈوگرہ رجیم نے 1910 میں رکھا اور پرائمری اسکول قائم کیا۔ یہ روشنی کی کرن ہے جو یقینا اس علاقے کے عوام اور عوامی لیڈر کی کوشش کا ہی نتیجہ تھا۔ گویا زمانے کے لحاظ سے یہ علاقے میں اعلی تعلیم کا پہلا اور واحد ادارہ قائم ہوا۔ اس وقت ہائی اسکول صرف پونچھ شہر ہی میں تھا۔ اس خطے میں یہ مدرسہ بقاء نور ثابت ہوا، اس کے قیام کے ساتھ ہی علاقے کے عوام نے اندھیرے میں روشنی کا سفر شروع کیا۔ آزادی تک سیکڑوں افراد نے اس مدرسہ سے تعلیم حاصل کی جن میں آزاد کشمیر کے بانی صدر، جموں و کشمیر کے معروف قانون دان اور انقلابی رہنماء بیرسٹر سردار محمد ابراھیم خان سمیت نامور افراد شامل تھے۔


ادھر سری نگر میں شیخ محمد عبداللہ اور جموں میں چوہدری غلام عباسی نے کشمیریوں کے حقوق کی تحریک شروع کی اور اس کے تاثرات پونچھ کے عوام پر بھی پڑے۔ ریاست جموں و کشمیر میں پونچھ ہی واحد ریاست تھی جہاں کے عوام شعوری طور پر بلند تھے اور سردار محمد ابراہیم خان نے ان کی قیادت کی۔ یہی وجہ تھی کہ یہاں کی قیادت علی گڑھ کے تعلیم یافتہ شیخ عبداللہ اور معروف تعلیمی ادارں سے فارغ التحصیل چوہدری غلام عباس سے زیادہ سمجھدار اور معاملہ فہم تھی۔ برصغیر میں دو قومی نظریات کی بنیاد پر آزادی کی تحریک زور شعور سے جاری تھی یہاں کی قیادت نے


تحریک پاکستان میں شامل ہونے کا بروقت فیصلہ کیا اور آزادی کا محاذ گرم کر دیا۔ آزادی کے بعد 1949 میں اس مدرسے کو لوئر مڈل کا درجہ دیا گیا۔ 1959 میں مڈل اور 1969 میں ہائی اسکول کا درجہ دیا گیا۔ 2021ء میں وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے انٹر کالج کا درجہ دینے کا اعلان کیا لیکن اس کی حکومت عدم اعتماد کی نظر ہو گئی بروقت نوٹیفیکیشن نہ ہونے کے باعث مدرسہ کی ترقی نہ ہو سکی۔ قائداعظم کی ابتدائی تعلیم گاہ سندھ مدرستہ اسلام یونیورسٹی ہے۔لیکن آزاد کشمیر کے بانی صدر سردار محمد ابراہیم خان کی ابتدائی تعلیمی ادارہ بے حال اور عدم توجہ کا شکار ہے۔ ہورنہ مرہ کے عوام کا خواب ہے کہ اس مدرسہ کو بھی قومی ورثہ قراد دے کر خوصی توجہ دی جائے۔

==========================