معیاری خوراک صحت مند معاشرے کے لئے بہت ضروری ہے، میئر کراچی وسیم اختر

کراچی. میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ معیاری خوراک صحت مند معاشرے کے لئے بہت ضروری ہے، اس طرف ہماری توجہ نہیں ہماری خوراک میں ملاوٹ کی صورتحال خطرناک حد تک پہنچ چکی، ہوٹلوں کے کچن کا برا حال ہے جس سے بیماریاں پھیل رہی ہیں، ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ شہریوں کو معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنائیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو کنزیومرز ایسوسی ایشن کے زیراہتمام مقامی ہوٹل میں 11ویں کنزیومرز فوڈ سیفٹی اینڈ کوالٹی کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ یہ بہت اہم مسئلہ ہے جس پر بھر پور توجہ کی ضرورت ہے، شہریوں کی صحت سے زیادہ کچھ بھی اہم نہیں، انہوں نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ نہ صرف بین الاقوامی سطح پر بلکہ اب مقامی لوگ بھی میڈ ان پاکستان کو پسند نہیں کرتے یہ المیہ ہے اس پر ہمیں خاص توجہ کی ضرورت ہے صارفین کے اعتماد کو بحال کرنے کے لئے محنت کی ضرورت ہے،میئر کراچی نے کہا کہ میں نے میئر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے اسی محکمہ کا دورہ کیا اور خستہ حال لیبارٹری کو بہتر بنانے کے لئے بھر پور توجہ دی۔ آج میں فخر سے کہا سکتا ہوں کہ صوبہ میں واحد فوڈ لیبارٹری کے ایم سی کی ہے جو معیار کے لحاظ سے بہت اعلیٰ ہے، انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے ہمارے ملک میں بلدیاتی نظام اور میئر کو زیادہ اختیارات نہیں دیئے جاتے حالانکہ یہ بنیادی سطح کا مسئلہ ہے جو بلدیاتی اداروں کے دائرہ اختیار میں ہونا چاہئے اس سے بہتر نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں، اب حکومت سندھ نے فوڈ اتھارٹی قائم کی ہے تو پورے سندھ میں اس اتھارٹی کو متحرک ہو کر شہریوں کی جان کی حفاظت کے لئے تیزی سے کام کرنا چاہئے، بلدیہ عظمی کراچی شہریوں کو صحت مند ماحول مہیا کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے شہر میں جو ریسٹورنٹس ہیں ان کے کچن بہت بری حالت میں ہیں جن کی وجہ سے بیماریاں پھیلتی ہیں اور ہمارے اسپتال اسی وجہ سے مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں، شہر میں اسپتال پہلے ہی کم ہیں ہماری کوشش ہونا چاہئے کہ مریضوں کی تعداد کم کی جائے جس کے لئے صاف ستھرا ماحول اور ملاوٹ سے پاک اشیائے خوردونوش مہیا کرنا ہونگی تا کہ لوگ صحتمند رہیں اور اسپتال جانے کی ضرورت نہ پڑے، میئر کراچی نے کہا کہ اس شعبہ پر بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے کنزیومرز ایسوسی ایشن کے ساتھ بھر پور تعاون جاری رہے گا ایسے پروگراموں سے آجر و اجیر کو شعور آتا ہے ایسے پروگراموں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔



اپنا تبصرہ بھیجیں