اردو کے نام پر قائم سبھی سرکاری ادارے ایک ہی کام کئے جارہے ہیں


۔۔
اردو کے نام پر قائم سبھی سرکاری ادارے ایک ہی کام کئے جارہے ہیں. S
سارے محض پبلشنگ ہاؤس بن کر رہ گئے ہیں۔ پبلشنگ ہی کرنی ہے تو نیشنل بک فاؤنڈیشن کی کارکردگی سب سے اچھی ہے۔ پبلشنگ اس کے ذریعے کی جائے ۔ وہ ٹیکسٹ بکس چھاپ کر کما بھی رہا ہے، جس کی وجہ سے بہت کم قیمت پر عمدہ کتابیں فراہم کررہا ہے.


یہ سب ادارے ، سب سے بڑے ادارے ، ادارہ فروغِ قومی زبان (سابق مقتدرہ) میں ضم کردینے چاہئیں۔ اردو سائینس بورڈ کو ادارہ فروغِ قومی زبان کا لاہور آفس بنادیا جائے ، اور لغت بورڈ کو کراچی آفس ۔ ان دونوں کے سربراہ ، ادارہ فروغِ قومی زبان کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر کے طور پر کام کریں ۔ یہ ان کے مستقل ملازمین میں سے ترقی دے کر بنائے جائیں۔ باہر سے نہ لائے جائیں. فالتو ملازم بھی ریٹائرمنٹ کی عمر تک فارغ نہ کئے جائیں. تین تین چار چار ملازمین کے ذریعے تمام بڑے شہروں میں بک شاپس بنائی جائیں جن کیلئے جگہ یونیورسٹیاں بخوشی فراہم کردیں گی.
سائینسی سمیت ہر طرح کے مسودے ادارہ فروغِ قومی زبان، ماہرین سے منظور کراکے معاوضہ یا اعزازیہ ادا کردیا کرے اور چھاپنے کیلئے نیشنل بک فاؤنڈیشن کے حوالے کردے ، بس۔


اکادمی ادبیات سمیت مذکورہ تمام اداروں کی مطبوعات ان دفاتر اور بک شاپس میں فروخت کیلئے موجود ہونی چاہئیں بلکہ مجلس ترقیٔ ادب، ادارہ ثقافتِ اسلامیہ، قائداعظم اکیڈمی، اقبال اکیڈمی ، انجمن ترقیٔ اردو اور تمام یونیورسٹیوں کی مطبوعات بھی ان کی ایجنسی لے کر ان دفاتر میں فروخت کی جانی چاہئیں ۔ لوگوں کو یہ فائدہ ہوگا کہ انہیں سب اداروں کی تمام مطبوعات ان دفاتر سے مل سکیں گی، جن کا حصول اس وقت بہت مشکل ہے۔۔ ان اداروں کو سرکاری ادارے کے ساتھ لین دین میں بد معاملگی کا کوئی خدشہ نہیں ہوگا۔
اردو سائینس بورڈ ، اردو لغت بورڈ اور ادارہ فروغِ قومی زبان کی بھی تمام کتب چھاپنے کیلئے نیشنل بک فاؤنڈیشن کی خدمات حاصل کی جائیں ، جس کا پرنٹنگ، پبلشنگ اور مارکیٹنگ کا اچھا نیٹ ورک بن گیا ہے۔ اتنے سارے ادارے ایک ہی کام کیوں کرتے رہیں ؟
نیشنل بک فاؤنڈیشن ٹیکسٹ بکس چھاپ کر کما بھی رہا ہے، جس کی وجہ سے بہت کم قیمت پر عمدہ کتابیں فراہم کررہا ہے.
اردو سائنس بورڈ کا مینڈیٹ ، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، سائینسی موضوعات پر کتابیں چھاپنا ہی ہے لیکن جیسے اس کے سربراہ محض نوازنے کیلئے بنائے جاتے ہیں ، ویسے ہی کتابیں بھی کسی کو نوازنے کیلئے چھاپی جاتی ہیں۔۔ اس کی فہرست کتب کے کچھ اندراجات دیکھہ لیں ، ان کتابوں کا سائینس سے کیا تعلق ہے ؟
اردو لغت بورڈ کا کام مکمل ہوچکا ہے۔ اب سالانہ نظر ثانی اعلیٰ ماہرین کرسکتے ہیں، بورڈ کے ملازمین نہیں۔ اس کیلئے ادارہ فروغ قومی زبان چار پانچ ماہرین کی کمیٹی بنادے، جس کا سہ ماہی یا ششماہی اجلاس ہوتا رہے.
اس بورڈ کا باقی رکھنا اب ایسے ہی ہوگا جیسے ازراہِ عقیدت مینار پاکستان کمیٹی یا مزار قائد کمیٹی کو برقرار رکھا جائے۔

دیکھیں اردو سائینس بورڈ کی “سائینس” کی کتابیں ⬇️


=======================