پیپلزپارٹی کی جانب سے عمران خان کے ملک کے تین ٹکڑے اور نیوکلیئر اثاثے چھن جانے کے بیان کے خلاف پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا گیا، مظاہرین نے عمران خان کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے رہے


میرپورخاص == تحسین احمد خان ===پیپلزپارٹی کی جانب سے عمران خان کے ملک کے تین ٹکڑے اور نیوکلیئر اثاثے چھن جانے کے بیان کے خلاف پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا گیا، مظاہرین نے عمران خان کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے رہے تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے عمران خان کے ملک کے تین ٹکڑے اور نیو کلیئر اثاثے چھن جانے کے بیان کے خلاف پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا گیا اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے شاہنواز مغل، اسحاق ناریجو، امیرجان مری، حنیف میمن، اعجاز سومرو، ارشد کریم جیلانی، محمد علی اور دیگر نے کہا کہ عمران خان کی سلیکٹڈ حکومت نے پونے چار سال میں ملک کو دیوالیہ کر دیا اور ملک ڈیفالٹ کی طرف جارہا تھا ایسی صورتحال میں سیاسی قیادت نے تاریخ میں پہلی بار ایک نالائق اور نااہل وزیراعظم کو جمہوری طریقے سے ایوان سے اٹھا کر باہر پھینک دیا ہے لیکن لاڈلہ اب بھی وزیراعظم بننے کی ضد کر کے ملک میں بدامنی اور قتل غارت کی طرف لے جانے کیلئے ایسے بیانات دے کر ملک میں انتشار پیدا کرنا چاہتا ہے اور ملک کو توڑنے اور ایٹمی اثاثے چھن جانے جیسے بیانات پر اتر آیا ہے انھوں نے کہا کہ ہم اس ملک کی حفاظت کا عہد کرتے ہیں اور عمران خان کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اس موقع پر مظاہرین نے عمران خان کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی٭٭
=============================================


میرپورخاص == تحسین احمد خان === ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دودھ کی دوکانوں پر چھاپوں اور بھاری جرمانوں کے باوجود دودھ کی سرکاری قیمت پر فروخت کو ممکن نہیں بنایا جا سکا ہے، شہر کی متعدد ڈیری شاپس پر دودھ 140 روپے جبکہ دیگر پر دودھ 120 روپے کلو میں فروخت کیا جا رہا ہے، گراں فروش روزمررہ استعمال کی اشیاء مہنگے داموں فروخت کر کے خریداروں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ اور ڈسٹرکٹ پرائس کنٹرول کمیٹی کے اراکین ستو پی کر سو رہے ہیں تفصیلات کے مطابق تین روز قبل اسسٹنٹ کمشنر یونس رند نے شہر بھر میں درجنوں ڈیری شاپس جو کہ دودھ کی مقرر کردہ سرکاری قیمت 110 روپے کلو کے بجائے 140 روپے کلو تک فروخت کر رہے ہیں میں سے دو ڈیری شاپس 120 روپے کلو دودھ فروخت کر رہے تھے کا انتخاب کر کے انہیں پچاس 50 ہزار کا جرمانہ عائد کیا لیکن جو ڈیری شاپس مالکان جو کہ 140 روپے فی کلو میں دودھ فروخت کر رہے ہیں ان کے خلاف کاروائی نہ کر کے مارے جانے والے چھاپے کو مشکوک بنا دیا ہے یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ چھاپے اور جرمانے کے بعد بھی دودھ سرکاری قیمت 110 کے بجائے 120 روپے کلو میں فروخت کیا جا رہا ہے اور حیرت کی بات تو یہ ہے کہ سومرا پاڑہ میں جن ڈیری شاپس پر چھاپے مارے گئے ان سے چند قدم کے فاصلے پر موجود ڈیری شاپس پر دودھ 140 کلو میں فروخت ہو رہا ہے اس ڈیری شاپ کے مالک کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی جس نے چھاپے کو انتہائی مشکوک بنا دیا ہے شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلا تفریق انتظامیہ کی جانب سے مقرر کردی دودھ کی سرکاری قیمت سے زائد قیمت پر دودھ فروخت کرنے والے ڈیری شاپس مالکان اور بھینس باڑوں کے مالکان کے خلاف کاروائی کر کے دودھ کی سرکاری قیمت پر فروخت کو یقینی بنائیں اور ڈسٹرکٹ پرائس کنٹرول کمیٹی کو فعال کر کے روزمررہ استعمال کی مہنگی اشیاء فروخت کرنے والے گراں فروشوں کے خلاف کاروائی کر کے لوگوں کو ریلیف فراہم کیا جائے٭٭
==========================================


میرپورخاص == تحسین احمد خان === نجی کمپنی کی فیڈ کھانے سے چار قربانی کے جانور مر گئے جبکہ دیگر جانوروں کے بیمار ہونے پر قربانی کے جانور پالنے والے محمد حنیف پہنور کا پریس کلب کے سامنے احتجاج کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے میرپورخاص سے فیصل آباد کی جانوروں کی فیڈ تیار کرنے والی کمپنی کی ڈیری لیک کی فیڈ کمپنی کے نمائندے ڈاکٹر محمد خان سے لے کر قربانی کیلئے پالے بکروں سمیت دیگر جانورں کو کھلائی جس کے کھانے سے بکروں سمیت دیگر جانور بیمار ہو گئے فیڈ زہریلی ہونے کی وجہ سے چار بکرے مر گئے جن کی مالیت چار لاکھ روپے ہے جبکہ باقی بکروں سمیت دیگر جانور بیمار ہیں اور کمزور بھی ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے مجھے لاکھوں روپے کا مالی نقصان ہوا ہے فیڈ میں زہریلا مادہ ہونے کی شکایات کمپنی کے نمائندے ڈاکٹر محمد خان سے کی جنھو ں نے میری شکایت کمپنی تک پہنچائی جس کے بعد کمپنی کے کنٹری منیجر بھی آئے لیکن میرے نقصان کا کوئی ازالہ نہیں کیا بلکہ میری منت سماجت کی گئی کہ خاموش رہوں میں نے فیڈ کو لیباٹری سے ٹیسٹ کروانے کیلئے ٹنڈوجام یونیورسٹی گیا جہاں مجھے بتایا گیا کہ ان کے پاس ٹیسٹ کرنے کی کٹ نہیں ہے جس کے بعد کراچی کی نجی لیبارٹری سے رابطہ کر کے فیڈ کا ٹیسٹ کروانے کا کہا اور کمپنی کا نام بتایا تو انھوں نے فیڈ کا ٹیسٹ کرنے سے انکار کر دیا جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ فیڈ بنانے والی کمپنیاں غیر معیاری اور زہریلی فیڈ فروخت کرنے سے قبل لیبارٹریوں سے معاملات طے کر لیتی ہیں فیڈ تیار کرنے والی کمپنیاں بھاری تنخواہوں پر ڈاکٹروں کو نوکریوں پر رکھ کر مویشی پالنے والوں کو غیر معیاری اور زہریلی فیڈ فروخت کر کے لوٹ رہے ہیں انھوں نے مویشی پالنے والوں سے درخواست کی کہ ڈیری لیک کمپنی کی فیڈ ہرگز نہ استعمال کریں کیونکہ اس سے مالی نقصان ہو رہا ہے انھوں نے وزیر اعلیٰ سندھ، صوبائی وزیر لائیو اسٹاک، سیکریٹری لائیو اسٹاک، ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو اسٹاک میرپورخاص سمیت کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کیا کہ ڈیری لیک فیڈ کی فروخت پر فوری پابندی عائد کر کے کمپنی کی رجسٹریشن منسوخ کی جائے اور ہونے والے نقصان کا ازالہ کرایا جائے٭٭
====================================


میرپورخاص== تحسین احمد خان === میونسپل کارپویشن کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں رکھی گئی لاکھوں روپے مالیت کی آہنی کچرا کنڈیاں افسران اور عملے نے کوڑیوں کے بھاؤ فروخت کر دیں، صفائی کا عملہ گلی محلوں میں کچرا جمع کر کے اسے آگ لگا دیتا ہے جس کی بدبو سے شہری اذیت میں مبتلا ہیں اور سانس کی بیماریاں جنم لے رہی ہیں، شہریوں نے میونسپل کارپوریشن کے افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ کچرے کو آگ لگانے کے بجائے اسے ٹھکانے لگایا جائے تفصیلات کے مطابق بلدیہ میرپورخاص کو کارپویشن کا درجہ ملنے کے بعد تبدیلی کا یہ عالم ہے کہ بلدیہ کے دور میں لاکھوں روپے مالیت کی سینکڑوں آہنی کچرا کنڈیاں جو کہ شہر کے مختلف علاقوں میں مخصوص جگہ پر رکھی گئیں تھیں جن میں ان علاقوں کے رہائشی اپنے گھروں کا کوڑا کرکٹ ڈالا کرتے تھے کارپوریشن کا درجہ ملنے کے بعد میونسپل کارپوریشن کے افسران اور عملے نے کوڑیوں کے بھاؤ فروخت کر کے رقم اپنی جیبوں میں ٹھونس لی ہے اور کسی کو کان و کان خبر تک بھی نہ ہونے دی آہنی کچرا کنڈیاں غائب
ہونے کے بعد اب شہر میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں اور میونسپل کارپوریشن کا عملہ کچرے کو ٹھکانے لگانے سے گریزاں ہے جبکہ صفائی کا عملہ گلی محلوں میں جھاڑو سے کچرا جمع کر کے اسے ٹھکانے لگانے کے بجائے آگ لگا دیتا ہے جس سے نا صرف سانس سمیت دیگر بیماریاں پھیل رہی ہیں بلکہ اس کے دھویں سے علاقہ مکین اذیت میں مبتلا ہیں شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آہنی کچرا کنڈیوں کو فروخت کرنے کی تحقیقات کروا کر ذمہ داروں کو نشان عبرت بنا کر دوبارہ کچرا کنڈیا ں رکھوا کر ان کو روزانہ کی بنیاد پر خالی کروایا جائے اور صفائی کے عملے کو ہدایت کی جائے کہ وہ جمع کئے جانے والے کچرے کو آگ لگانے کے بجائے ٹھکانے لگایا جائے تاکہ شہری بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں ٭٭
===================================


میرپورخاص == تحسین اجمد خان === پاکستان میڈیا کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ میرپورخاص میں ممکنہ بارشوں کے پیش نظر حفاظتی اقدامات مکمل کئے جائیں، نکاسی آب کی لائینوں کی صفائی ستھرائی کی جائے تاکہ بارشوں کے پانی کی نکاسی آسانی سے ہو سکے تفصیلات کے مطابق پاکستان میڈیا کونسل رجسٹرڈ سندھ کے سرپرست اعلی حاجی ملک عبدالغفار ڈویژن کے چیئرمین محمد اسماعیل خلجی،وائیس چیئرمین شہزاد خان،صدر ملک لیاقت علی، اشفاق احمد اشفی،ملک صادق حسین کھتری، جنرل سیکرٹری خلیل احمد غوری نثار احمد مانی جوائنٹ سیکریٹری خلیل اللہ خان ودیگر عہدیداران نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ موسم برسات کی آمد آمد ہے۔لیکن میرپورخاص شہر میں تاحال کوئی ایسے عملی اقدامات نہیں کئے گئے جس سے عوام کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے حیسکو بلدیہ ودیگر ادارے اپنا کام بارشوں سے پہلے مکمل کرلیں تاکہ برسات کے موسم میں میرپورخاص کی عوام پریشانیوں سے بچ سکیں اور کوئی ناخوشگوار حادثہ رونما نہ ہو۔نالوں کی صفائی کا کام مکمل کیا جائے۔نکاسی آب کے لئے نشیبی علاقوں اور ہیرآباد غریب آباد حمیدپورکالونی ریلوے اسٹیشن پوسٹ آفس چوک پرانا ریلوے پھاٹک میں بارش کا پانی فوری نکالنے کے پمپنگ اسٹیشن پر جنریٹر نصب کئے جائیں نالوں اور نالیوں کے اوپر بنے تھلے توڑے جائیں مین روڈوں کو ناجائز تجاوزات سے پاک کیا جائے تاکہ ٹریفک کی روانی میں خلل واقع نہ ہو۔ٹھوٹ پھوٹ کاشکار روڈوں کی فوری مرمت کرائی جائے بجلی کے تاروں پر لگے درختوں کو چھانٹا جائے حیسکو کا عملہ اس بات کو یقینی بنائے کہ دوران بارش شہر کی بجلی کم سے کم بند کی جائے مینٹینینس کے کام کو ترجیح بنیاد پر مکمل کرایا جائے٭٭
===========================


میرپورخاص == تحسین احمد خان === دن دیہاڑے میرپورخاص کے نجی اسکولز میں ڈکیتیوں کی وارداتیں انتظامیہ پر سوالیہ نشان ہیں۔ ڈاکوؤں کی دیدہ دلیری پے در پے دو اسکولز پر دھاوا۔ لوٹ مار سے شہری سخت عدم تحفظ کا شکار ہیں عوامی تحفظ اور امن وامان قائم کرنے والے اداروں کی کارکردگی کے حوالے سے عوام میں تشویش ہے۔عوام کے جان ومال کاتحفظ ریاستی اداروں کی اولین ذمہ داری ہے۔اعلی حکام فوری نوٹس لیں اور مجرموں کے خلاف سخت کاروائی کرکے عوام میں تحفظ کا احساس پیدا کیا جائے۔ان خیالات کا اظہار امیر جماعت اسلامی میرپورخاص محمد رفیق چوھان اور صدر پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی میرپورخاص حاجی نور الہی مغل نے آج شہر میں پرائیویٹ اسکولز میں دن دیہاڑے ڈکیتیوں کی وارداتوں پراپنے مشترکہ ردعمل میں کیا۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے مذید کہا کہ بدترین مہنگائی کے باعٹ عوام ویسے ہی جان بلب ہورہے ہیں ایسے میں عوام کو رہی سہی پونجی سے محروم کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ شہر میں پولیس کا گشت بڑھایا جائے داخلی خارجی راستوں پر پکٹ قائم کی جائے اور مختلف چوکوں اور مارکیٹوں میں پیدل پولیس اہلکار کا گشت اور تعیناتی کو ممکن بنایا جائے٭٭
==============================