دنیا بھر میں قومیں اپنے تاریخی ورثہ کی حفاظت کرتیں ھیں اور ان سے لاکھوں اور کروڑوں روپے کماتی ھیں مگر پاکستان میں معاملہ الٹ ھے پاکستان اس اعتبار سے ایک خوش قسمت خطہ ھے جہاں تاریخی قدیمی اور مہذہبی مقامات کا جال بکھرا ھے

پاکستانی قوم تاریخ اور ورثہ کی دشمن ھے
تحریر ۔۔شہزاد بھٹہ

دنیا بھر میں قومیں اپنے تاریخی ورثہ کی حفاظت کرتیں ھیں اور ان سے لاکھوں اور کروڑوں روپے کماتی ھیں مگر پاکستان میں معاملہ الٹ ھے پاکستان اس اعتبار سے ایک خوش قسمت خطہ ھے جہاں تاریخی قدیمی اور مہذہبی مقامات کا جال بکھرا ھے
دنیا کی قدیم تہذیبوں نے اسی خطہ سے جنم لیا اور ان کے اثار اج بھی موجود ھیں دنیا کے تین مذاہب بدھ مت ہندو مت اور سکھ مت نے اسی خطہ سے جنم لیا ان کے مقدس مقامات پاکستان میں موجود ھیں ان سے پاکستان اربوں روپے سالانہ کما سکتی ھے مگر ھم بدقسمت ھیں کہ ھم ائی ایم ایف اور دیگر ممالک سے قرضے مانگ مانگ کر عیاشی کرتے ھیں۔۔۔۔
زیر نظر تصویر تاریخی امب مندر کی ھے جو امب شریف گاوں سیکسر خوشاب میں سلسلہ کوہ نمک کے مغربی کناروں پر واقع ھے یہ مندر اور اسی طرح کے دیگر لاتعداد مندر تقربیا ساتویں صدی عیسوی سے نویں صدی عیسوی کے وسطی زمانہ میں تعمیر کیے گئے جبکہ اس وقت ہندو کابل شاھی خاندان کی حکومت تھیامب مندر امب شریف گاؤں کے قریب سلسلہ کوہ نمک اور وادی سون سکیسر کے پہاڑی سلسلہ میں واقع ہیں۔ اِنہیں منادر کی طرز پر دوسرے ہندو منادر ٹلہ جوگیاں اور کٹاس میں بھی موجود ہیں۔

ہیئت و ساخت عمارت ترميم
امب کے منادر میں سے اب باقی دو ہیں جو تقریباً اپنی اصل ہیئت و ساخت میں موجود ہیں۔ بڑا مندر جو 15 تا 20 میٹر بلند ہے، ایک مربع نما پایہ ستون پر تعمیر کیا گیا ہے۔ کابل شاہی عہد میں تعمیر کیے جانے والے تمام منادر مربع نما پایہ ستون پر تعمیر ہوئے۔ اب اِس بڑے مندر کی تین منزلیں باقی رہ گئی ہیں جن تک رسائی کے لیے اندرونی جانب سیڑھیاں موجود ہیں۔ یہ مندر کشمیری منادر کی طرز پر تعمیر کیا گیا ہے جس کے بیرونی چہار اطراف میں خوبصورت کشمیری طرز کے پھول اور نقاشی اینٹ سے بنائی گئی ہے۔ داخلہ کی محراب بھی نقاشی دار ہے۔ بالائی سطح پر مندر کا تکون نما گوشہ کشمیری منادر سے مختلف ہے۔ امب مندر کی مشابہت کے دوسرے مندر کافرکوٹ میں موجود ہیں جن کا طرز تعمیر اور معماری انداز بالکل ایک جیسا ہی ہے۔ چھوٹا مندر بڑے مندر سے 75 میٹر مغرب کی جانب سلسلہ کوہ نمک کی ایک کھائی سے متصل واقع ہے۔ اِس کی بلندی 7 یا 8 میٹر ہے اور عمارت 2 منزلہ ہے۔ اِس مندر میں سیڑھیاں قدرے چھوٹی ہیں لیکن اِس کا زیادہ تر حصہ منہدم ہوچکا ہے۔ سلسلہ کوہ نمک کے اِس علاقہ میں منادر کی تعمیر کا کام سب سے پہلے کشان سلطنت کے عہد میں شروع ہوا تھی