کراچی سمیت دیگر اضلاع کو مہنگے داموں بڑے پیمانے پر گندم کی فروخت سے میرپورخاص ضلع میں گندم کا زبردس ت بحران پیدا ہو گیا، تفصیلات کے مطابق میرپورخاص جو گندم کی بمپر فصل سب سے پہلے دینے کے حوالے سے مشہور ہے تاہم محکمہ خوراک کی ناقص منصوبہ بندی اور لاپرواہی کے چند ماہ قبل ہی گندم کی نئی فصل اتر نے کے باوجود ضلع بھر میں گندم کا زبردست بحران پیدا ہو گیا

میرپورخاص ==تحسین احمد خان===

کراچی سمیت دیگر اضلاع کو مہنگے داموں بڑے پیمانے پر گندم کی فروخت سے میرپورخاص ضلع میں گندم کا زبردس ت بحران پیدا ہو گیا، تفصیلات کے مطابق میرپورخاص جو گندم کی بمپر فصل سب سے پہلے دینے کے حوالے سے مشہور ہے تاہم محکمہ خوراک کی ناقص منصوبہ بندی اور لاپرواہی کے چند ماہ قبل ہی گندم کی نئی فصل اتر نے کے باوجود ضلع بھر میں گندم کا زبردست بحران پیدا ہو گیا ہے گندم کے بڑے پیمانے پر زخیرہ اندوزی کے باعث اس وقت مارکیٹوں میں گندم کے نرخ فی من 2750سے 2800روپے میں فروخت ہو رہی ہے جس کی وجہ سے میرپورخاص کی چکی مالکان پریشانی کا شکار ہیں اور آٹا مہنگا فروخت کرنے پر مجبور ہیں دوسری جانب سیکریٹری خوراک نے کراچی کے مخصوص گندم کے ڈیلروں کو خصوصی طور پر پرمٹ جا ریہ کر دیئے ہیں جو کہ میرپورخاص اور گرد ونواح زخیرہ اندوزوں سے 6800 سوروپے کے حساب سے گندم کی بوری خرید کر کراچی لے جا رہے ہیں جبکہ میرپورخاص میں چکی کے لئے گندم لے جانے والوں کی گندم محکمہ خوراک کے افسران ضبط کر رہے ہیں اگر محکمہ خوراک کی یہی پالیسی رہی تو گندم کا آٹا کے نرخ سو روپے کلو گرام سے بڑھ سکتے ہیں جو کہ لوگو ں کی پہنچ سے باہر ہوگی اس حوالے سے چکی مالکان نے مطالبہ کیا ہے کہ مخصوص ڈیلروں کے پرمٹ منسوخ کئے جائیں تاکہ میرپورخاص کی عوام کو سستا آٹا مل سکے جبکہ ضلعی انتظامیہ بھی ضلع بندی کرنے میں بالکل ناکام ہے بلکہ نامعلوم وجوہات کے باعث پراسرار خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے ضلع ا نتظامیہ کی خاموشی کی وجہ سے آنے والے دنوں میں آٹے کا سنگین بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے دوسری صورت میں آٹا کے نرخوں میں اضافہ ناگزیر ہو جائے گااس حوالے سے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ کراچی جانے والی گندم صرف کراچی کے فلور مل والے بلٹی دکھا کر جا سکتے ہیں اور میرپورخاص کے چکی مالکان 200بوری تک گندم کی نقل وحمل کر سکتے ہیں اور اتنا ہی اسٹاک رکھ سکتے ہیں تاکہ چکی کے آٹے کی قلت پید انہ ہو ٭٭


——-


——