میڈیکل سپریٹنڈنٹ میاں منشی ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر عدنان القمر کا کہنا ہے ہسپتال کی ایمرجنسی میں روزانہ 1200 سے زائد ایمرجنسی اور 1300 سے زائد مریض آئوٹ ڈور میں رپورٹ ہوتے ہیں جن کو حکومت پنجاب اور سیکرٹری صحت کی ہدایت پر علاج معالجے کی تمام تر سہولیات بلامعاوضہ فراہم کی جارہی ہیں

لاہور( مدثر قدیر )

میڈیکل سپریٹنڈنٹ میاں منشی ٹیچنگ ہسپتال ڈاکٹر عدنان القمر کا کہنا ہے ہسپتال کی ایمرجنسی میں روزانہ 1200 سے زائد ایمرجنسی اور 1300 سے زائد مریض آئوٹ ڈور میں رپورٹ ہوتے ہیں جن کو حکومت پنجاب اور سیکرٹری صحت کی ہدایت پر علاج معالجے کی تمام تر سہولیات بلامعاوضہ فراہم کی جارہی ہیں ۔ قومی صحت کارڈ کے حوالے جو مریض رپورٹ ہوتے ہیں ان کو بھی تمام تر طبی سہولیات وضح کردہ احکامات کی روشنی میں مہیا کی جاتی ہیں ۔ میاں منشی ہسپتال کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر کا درجہ بھی حاصل ہے جس کی وجہ سے یہاں پرپولیس انکائونٹر اوردوران تفتیش زیر حراست وفات پانے والوں کا پوسٹ مارٹم کیا جاتا ہے اور ایم ایس اس کمیٹی کا چئیرمین ہوتا ہے ان باتوں کا اظہار انھوں نے نمائندہ اومیگا نیوز مدثر قدیر سے خصوصی گفتگو میں کیا اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں بیڈز کی تعداد150سے زائد ہے جس میں 15ایمرجنسی کے لیے مختص ہیں جبکہ ڈائیلاسز یونٹ میں 17بیڈز ہیں جن پر ایک دن میں 51مریضوں کا ڈائیلاسز کیا جاتا ہے ۔ میاں منشی ہسپتال کا گائنی وارڈ سب سے ذیادہ فعال ہے یہاں پر زچہ وبچہ کی سہولت کے لیے تمام تر طبی سہولیات موجود ہیںجبکہ سرجری،یورالوجی ،جنرل میڈیسن اور ای این ٹی کے شعبوں ماہر کنسلٹنٹس انسانی خدمت کے جزبے سے سرشار ہو کر خدمات سرانجام دے رہے ہیں دیگر فیکلٹی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی سے آتی ہے جس میں اسسٹنٹ پروفیسرز اور سئینیر رجسٹرارز ہوتے ہیں ۔ میاں منشی ہسپتال کا ٹراما سینٹر کئی سال سے زیر تعمیر ہےاس حوالے سے سیکرٹری صحت سے میٹنگ ہوتی رہتی ہیں وہ خود بھی اس حوالے سے آگاہ ہیں اور عنقریب اس مسئلے کا حل نکل آئے گا جس کے بعد ایمرجنسی کو ٹراما کی بلڈنگ میں منتقل کرکے اس جگہ 50 بیڈز کا نیا ڈائیلاسز یونٹ تعمیر کیا جائے گا جہاں پر ایک دن میں 150 مریض استفادہ کریں گے جس سے وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز کے طبی منشور پر عملی قدم کا آغاز ہوگاان کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں گزشتہ دنوں ٹی بی کنٹرول پروگرام کی معاونت سے ڈیجیٹل ایکسرے کی نئی مشین نصب کی گئی ہے جس کی کپیسٹی 500 ایم اے ہے جو بہترین رزلٹ فراہم کرتی ہے تاکہ طبی ماہرین کو علاج کے معاملے میں مدد مل سکے اور ہم اس حوالے سے ایسا سافٹ وئیر کررہے ہیں کہ ایکسرے کا رزلٹ متعلقہ شعبے تک بزریعہ کمیوپڑ لنک پہنچ جائے اور مریضوں کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ ڈاکٹر عدنان القمر نے اپنی تعیناتی سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ 2001ئ میں نشتر میڈیکل کالج سے فارغ التحصیل ہوئے اور ہائوس جاب کا آغاز میو ہسپتا ل سے کیا جہاں انھوں نے شعبہ جنرل سرجری،میڈیسن اور کارڈیالوجی میں تربیت حاصل کی اور پھر  پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ سے ریڈیالوجی کی ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد دیہی ہیلتھ کلینک نارنگ سے اپنے فنی سفر کا آغاز کیاپھر 2016ئ میں مجھے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرزہسپتال مرید کے کا میڈیکل سپریٹنڈنٹ تعینات کیا گیا جبکہ 2019ئ میں پہلے مجھے ڈی ایچ کیو شیخوپورہ کا ایس ایم او اور پھر ایم ایس بنادیا گیا ۔4اپریل 2020ئ کو میری تعیناتی بطور میڈیکل سپریٹنڈنٹ میاں منشی ٹیچنگ ہسپتال کردی گئی تب سے یہاں پر مریضوں کی خدمت پر معمور ہوں اس موقع پر انھوں نے اس امر کا اظہار بھی کیا کہ سی ٹی اسکین مشین آج کے دور میں ہسپتال کی اہم ضرورت ہے اور ٹراما سینٹرز اس مشین کے بغیر نامکمل تصور کیے جاتے ہیں جیسے ہی حکومتی اقدامات اور سیکرٹری صحت کی ہدایات پر میاں منشی ہسپتال کے ٹراما سینٹر کی تعمیر مکمل ہوگئی نئی سی ٹی اسکین مشین خوبخود فنکشنل ہوجائے گی جس کے بعد مریضوں کو میو ہسپتال یاں پھر دوسرے ہسپتال ریفر کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔