بچوں کے دو روزہ لٹریچر فیسٹول کا شاندار انعقاد

 ساٹھویں لٹریچر فیسٹول کا شاندار اختتام  بچوں کے ساٹھویں لٹریچر فیسٹول کے دو روزہ پروگرام میں سے پہلے دن کا انعقاد نہایت کامیابی کے ساتھ عمل میں آیا جس میں بچوں اور بڑوں نے نہایت جوش و خروش سے حصّہ لیا۔فیسٹول کے لئے سجائے گئے تمام پنڈالوں کے نام مشہور ہیروز یا شخصیات کے نام پر رکھے گئے ہیں مثال کے طور پر بھٹ شاہ آڈیٹوریم‘ فہمیدہ ریاض کی بیٹھک‘حمیدہ کھوڑو کی بیٹھک‘باب ہنگول‘جمشید نصیروانجی میٹھا کورٹ یارڈ‘صدیقن کی گلی‘سہیل رعنا آڈیٹوریم‘ انیتا غلام علی آڈیٹوریم‘حکیم سعید کا گہوارہ‘ پروفیسر عبدالسلام لیب اور برنس روڈ کا ڈھابا۔

بیک وقت کئی سیشنوں سے فیسٹول کاآغاز ہوا جس کی وجہ سے شرکاء کے لئے اس بات کا تعین کرنا مشکل ہوگیا تھا کہ وہ کس سیشن میں شریک ہوں اور کس سیشن کو چھوڑیں اسی وجہ سے بہت سے لوگ سیشن کے دوران ایک سیشن سے دوسرے سیشن کی طرف جاتے ہوئے نظر آئے تاکہ زیادہ سے زیادہ سیشنوں میں حصّہ لے سکیں۔فیسٹول کے دوسرے دن کی صبح بھٹائی آڈیٹوریم میں ایسے بچوں کی بھیڑ نظر آئے جو تھیٹر میں دلچسپی رکھتے تھے۔ یہاں دی اسپینسرز تھیڑ کے عاطف بدر کی داستان گوئی سے لے کر فلم اسکریننگ بھی کی گئی جس پر شرمین عبید چنائے اور شہر بانو سید نے اظہار خیال کیا۔اسپینسر نے کٹھ پتلی کا تماشہ پیش کرکے خوب داد وصول کی۔




مختلف اوقات میں موسیقی‘ شاعری اور ڈرامے کے سیشن بھی حاضرین کی توجہ کا مرکز رہے۔  سہیل رانا آڈیٹوریم میں تین کتابوں کا اجراء، اوپن مائیک سیشن کے تحت ماہرین‘طلباء کے سوالوں کے جوابات،خالد انعم کا فن موسیقی‘عاطف بدر کی تھیٹر ورکشاپ اور دو کتابوں کی رہنمائی عمل میں آیا۔انیتا غلام علی آڈیٹوریم میں زمبیل کی ڈرامٹک ریڈنگ‘اسٹوری ٹیلنگ‘ فیسٹول میں غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک پانچ سالہ توصل شاہ اور اس کے بہن بھائی راحت اور نیتی خاب بورجی نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔اسی آڈیٹوریم میں تعلیم اور ماحولیات پر پینل ڈسکشنز بھی ہوئیں جبکہ فہمیدہ ریاض کی بیٹھک میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی جانب سے جلد سازی کے فن سمیت دیگر سرگرمیاں جاری رہیں۔ڈاکٹر حمیدہ کھوڑوکی بیٹھک میں اسٹوری ٹیلنگ‘بچو ں کے لئے انٹریکٹو تفریحی کھیل‘ نوجوان مصنفوں کا فورم‘ادب و فن پر سیشن کے علاوہ یوگا کا بھی اہتمام تھا۔




صادقین کی گلی میں پورے دن کا ایک پروگرام مرتب کیا گیا تھا جو لرنگ اسپیچز‘آرٹ اینڈ کرافٹ کی ورکشاپ‘تھیم گیمز‘فوٹو بوتھ اور بچوں کی بک الیسٹریشن کی کی ایگزبیشن میں منقسم تھا، جبکہ نوجوان قوالوں کی محفل موسیقی بھی سجائی گئی۔باب ہنگول میں دن بھر ایک تھری ڈی آرٹ پرفارمیٹو انٹریکٹو ڈسپلے کیا جاتا رہا جبکہ عبدالسلام لیب میں ڈیجیٹل سرگرمیاں جاری تھیں۔نوجوان نسل کی تخلیقی سرگرمیوں کو اُجاگر کرنے کے لئے جمشیدنصیراونجی مہتہ کورٹ یادڑ میں کلے ماڈلنگ‘ ڈیجیٹل تھری ڈی سرگرمیاں‘پاپ اپ لرننگ‘مکلی پر ڈاکومنٹری اور ہونے والی دیگر سرگرمیاں‘ مینٹل ہیلتھ کیمپ‘ لرننگ اینڈ ریڈنگ کارنر ہوتے نظر آئے۔فیسٹول میں صحافیوں‘والدین‘ اساتذہ اور مختلف تعلیمی اداروں کے طلباء کی بڑی تعداد شریک ہوئی اورفیسٹول کو کامیابی سے ہمکنار کرایا۔سی ایل ایف کے اسپانسرز میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس‘ برٹش کونسل‘ٹیلی نار‘الائیڈ بینک‘ یونیسکو‘اٹالین ایجنسی فار ڈیولپمنٹ کارپوریشن اور نیشنل فوڈز شامل ہیں۔




یاد رہے کہ سی ایل ایف یا چلڈرن لٹریچر فیسٹول ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو نہ صرف پاکستانی بچوں بلکہ اساتذہ کو بھی اپنی ذہانت بروئے کار لانے اور سیکھنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔سی ایل ایف کا انتظام ادارہ تعلیم و آگاہی)آئی ٹی اے(کی جانب سے کیا گیا ہے۔یہ ملک بھر میں منعقد ہونے و الا ایک انتہائی بااثر فیسٹول ہے جس کی 2011ء میں اپنے قیام کے بعد سے اب تک چاروں صوبوں کے دارالخلافہ اسلام آباد اور 25سے زائد اضلاع میں 59تقریبات منعقد ہوچکی ہیں جس سے تقریباً14لاکھ سے زائد بچے اور اساتذہ مستفید ہوچکے ہیں۔