عمران خان کے ستارے گردش میں


تحریر ٭ سہیل دانش
====================
ایسا نظر آرہا ہے کہ عمران خان کے ستارے گردش میں ہیں۔ ان کے اقتدار سے الگ ہونے کے بعد یہاں انہوں نے اپنی زبردست اور جارحانہ اننگز کا آغاز کیا تھا۔ بڑے بڑے اور قابل ذکر جلسے کئے‘ لیکن اب جب سے انہوں نے لانگ مارچ کا پروگرام کیا ان کیلئے کچھ مشکلات پیدا ہوتی نظر آتی ہیں۔ وہ لانگ مارچ کے آخری مرحلے پر ڈی چوک میں پہنچنے سے پہلے ہی جب انہوں نے اپنے دھرنے کو موخر کرکے بنی گالہ اور بعد میں پشاور چلے جانے نے ان کے سپورٹرز اور مداحوں کو نہ صرف حیران کیا بلکہ مایوس بھی کیا۔ پھر وہاں پر ایک صحافی نے ان سے بہت سخت سوال کیا‘ جس پر وہ برہم ہوکر وہاں سے اٹھ گئے۔ اس سے بھی غلط تاثر پڑا۔ پھر اب خود تحریک انصاف کے کیڈرز سے بھی یہ سوال اٹھ رہے ہیں‘


جن کا پہلے تصور بھی نہیں ہوتا تھا کہ عمران خان کا اچانک مارچ کرنے کا فیصلہ درست نہیں تھا اور پھر دوبارہ مارچ کا اعلان بھی اتنا موثر ثابت نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف کے اندر سے یہ باتیں بھی ہورہی ہیں کہ عمران خان کو قومی اسمبلی سے استعفے نہیں دینے چاہئے تھے۔ اس کے بعد گزشتہ رات ایک مبینہ آڈےو بھی منظر عام پر آئی‘ جس میں آصف علی زرداری صاحب اور ملک ریاض کی گفتگو سنائی دے رہی ہے اور اس میں ملک ریاض اس بات کی اطلاع پیپلز پارٹی کے قائد کو دے رہے ہیں کہ عمران خان ان کے ساتھ ملاقات کرنا اور ثالثی کرنا چاہتے ہیں۔ م لک ریاض کو کون نہیں جانتا اور اس حقیقت سے بھی سب واقف ہیں کہ پاکستان کے ہر مضبوط ترین شخص سے ان کے گہرے تعلقات ہیں اور وہ وقتاً فوقتاً ان سے رابطے میں رہتے ہیں۔


اسی وجہ سے ملک ریاض کو بہت زیادہ بااثر سمجھا جاتا ہے۔ اس ٹیلیفون کال سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ تحریک عدم اعتماد سے قبل عمران خان کی خواہش اور کوشش تھی کہ وہ آصف علی زرداری سے مصالحت کرکے اپنے اقتدار کو بچالیں۔ اس سے وہ تضادات بھی عام آدمی تک پہنچ رہے ہیں‘ کیونکہ عمران خان شاید سب سے زیادہ سخت زبان زرداری صاحب کے خلاف استعمال کرتے رہے ہیں اور جلسوں میں برسر عام وہ یہ تاثر دیتے رہے ہیں کہ آصف علی زرداری ان کے سب سے پہلے نشانے پر ہیں۔ یہ انہی دنوں کی آڈیو لگتی ہے اور اس کو لیک کرنے کا مقصد بھی عمران خان کی شہرت اور ساکھ کو نقصان پہنچانا نظر آتا ہے۔ پھر اسلام آباد آمد پر عمران خان کے حمایتیوں نے جس طرح ڈی چوک پر درختوں کو آگ لگائی جو صورتحال پیدا ہوئی وہ کسی بھی طور پر درست نہیں تھی اس پر ہر ذی ہوش نے تنقید کی۔ ایسا کچھ نہیں ہونا چاہئے۔ یہ وہ سارے انداز تھے جس کا ردعمل منفی آرہا ہے۔ اس پر سپریم کورٹ نے بھی کہا کہ سیاستدان اپنی بات کے سچے دکھائی نہیں دیتے۔ ہم نے انہیں H9میں جلسہ کرنے کا کہا تھا۔ لیکن انہوں نے تسلیم نہیں کیا اور وہ ڈی چوک تک آگئے۔ یہ بات طے ہے کہ اگر یہ بے قابو لوگ ریڈ زون کی جانب جاتے تو فوج اور رینجرز انہیں ہر قیمت پر روکتی۔ اس سے ٹکرا¶ کا خدشہ پیدا ہوجاتا۔ اس ساری صورتحال کا منفی تاثر گیا۔ پھر یہ کال جو لیک ہوئی ہے اس کے متعلق یہ کہا جارہا ہے کہ عمران خان کی یہ خواہش لگتی تھی کہ وہ زرداری صاحب اور نواز شریف صاحب کے مابین اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کررہے تھے۔


میرے خیال میں یہ تاثر درست نہےں تھا۔ بلکہ شاید عمران خان کی خواہش ہے کہ اس وقت جب وہ یہ محسوس کررہے تھے کہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوجائے گی۔ وہ چاہتے تھے کہ حزب مخالف ان کے خلاف یہ تریک واپس لے لے۔ میرے خیال میں اگر عمران خان ملک ریاض کے ذریعے زرداری صاحب کو یہی پیغام دینا چاہ رہہے ہوں گے کہ وہ اس تحریک سے پیچھے ہٹ جائیں۔ آج کی صورتحال میں عمران خان خود یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی تححریک کی رفتار کو واپس اسی پیمانے پر لے آئیں جو وہ اس لانگ مارچ سے پہلے تھی۔ سیاسی جماعتوں کی تحریکوں پر نظر ڈالیں تو یہ نشیب و فراز کا شکار رہتی ہیں۔ کبھی یہ اپنے ابتدا میں کامیابی سے ہمکنار ہوجاتی ہیں اور کبھی ان میں بہت سا وقت لگتا ہے۔ ابھی عمران خان 25 مئی کو دھرنا نہ دینے کی جو توجیح پیش کررہے ہیں وہ یہ ہے کہ وہ بہت چارجڈ کرا¶ڈ تھا۔ پھر پولیس کے رویئے کے سبب وہ غصے میں بھی تھے۔ اس لئے وہ سمجھتے تھے کہ اگر ٹکرا¶ کی کیفیت پیدا ہوئی تو صورتحال خراب ہوجائے گی۔ اس لئے انہوں نے دھرنا کینسل کیا۔ عمران خان کا خیال ہے کہ ایسا نہیں تھا کہ وہ دھرنے کیلئے لوگوں کی تعداد کے سبب پیچھے ہٹ گئے۔ وہ شاید یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس وقت انہوں نے دھرنے کو کال آف کیا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ لوگوں کے بھڑکتے جذبات سے کہیں کوئی ایسی چنگاری نہ شعلہ بن اجئے جس سے بہت نقصان ہوجائے۔ اس لئے انہوں نے ایسے کسی بھی دھرنے کو فی الحال منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اب عمران خان پیر کے دن سپریم کورٹ جاکر پٹیشن دائر کریں گے۔


اب دیکھنا یہ ہوگا کہ آنے والے دنوں میں عمران خان کی حکمت عملی کیا ہوگی۔ عمران کو یہ اندازہ ضرور ہے کہ جوں جوں وقت گزر رہا ہے ان کی اس تحریک میں جو انہوں نے کچھ جھوٹے اور کچھ سچے بیانیے ترتیب دیئے اور جسے عوام میں پذیرائی بھی حاصل ہوئی وہ ماند نہ پڑجائے۔ اتحادی حکومت بظاہر اس بات کیلئے پرعزم دکھائی دیتی ہے کہ وہ جتنا بھی وقت ہے گزار لے اور عوام میں یہ تاثر ضرور قائم کرلے کہ وہ جو کچھ بھی کررہے ہیں اس کا out put عمران کی حکومت سے بہت بہتر ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مشکل فیصلوں کی وجہ سے انہوں نے ایک پر خطر راستے کا انتخاب کیا ہے اور ان کے مخالفین اور عمومی یہ تاثر جائے گا کہ یہ اتحادی اقتدا میں آکر جن بہتر حالات کی نوید سنارہے تھے ان میں کوئی حقیقت نہیں۔


شہباز شریف کو بحیثیت وزیراعظم ایک ساتھ کئی محاذوں پر جنگ لڑنی پڑرہی ہے۔ سیاسی محاذ پر انہیں عمران خان جیسے مضبوط مدمقابل کا سامنا ہے۔ جس نے سچ مچ ان کا ناک میں دم کیا ہوا ہے۔ ساتھ ساتھ معاشی بحران کی بڑھتی ہوئی مشکلات اور پیچیدگی میں اضافہ ہورہا ہے۔ پھر ان کے سامنے اسمبلی میں اپنے 172 کے ہندسے کو برقرار رکھنا بھی ایک بڑا مرحلہ ہے۔ کوئی ناراض نہ ہو اور کس کی کیا کیا فرمائشیں پوری کی جائیں۔ پنجاب میں حکومت کی مکمل تکمیل اور زیادہ کنٹرول قائم کیسے کیا جائے۔ یوں سمجھ لیں کہ انہیں ایک ساتھ کئی طرفہ چومکھی لڑائی لڑنی پڑرہی ہے۔


وہ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا چاہ رہے ہیں اور ان کی پوری کوشش ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ حالات ان کی موافقت میں ہوجائیں اور وہ ایک سال ہی سہی اپنی اس کریڈیبلٹی اور ساکھ کو قائم رکھ سکیں جو بحیثےت وزیراعلیٰ پنجاب انہوں نے حاصل کی تھی۔ دوسری طرف عمران خان اپنے دا¶ پیچ آزمارہے ہیں۔ وہ کتنے کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں لیکن لانگ مارچ کی ناکامی کے بعد لگ رہا ہے کہ ان کے ستارے گردش میں ہیں۔
============================