کے الیکٹرک کی انتظامیہ اپنا سرمایہ لے کر ملک سے فرار ہو گئی تو کیا ہوگا ؟ حکومت کے پاس کوئی متبادل پلان نہیں ؟

توانائی کے متعلقہ حلقوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ اگر کے الیکٹرک کی انتظامیہ اپنا سرمایہ لے کر ملک سے فرار ہو گئی تو کیا ہوگا ؟ حکومت کے پاس کوئی متبادل پلان نہیں ؟ سرکاری حکام کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں ۔ حکومتی حلقے بھی اس سوال پر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں ۔ ایسے ہی ایک سوال پر کچھ عرصہ پہلے ایک ہو حکومتی وزیر نے کہا تھا کہ ہمیں زمینی حقائق کا اعتراف کرنا چاہیے


اور یہ بات تسلیم کرنی چاہیے کہ اس وقت کے الیکٹرک کی انتظامیہ انتہائی مشکل حالات میں اس گلے سڑے نظام کو چلا رہی ہے اور کوشش کر رہی ہے کہ اسے بہتری کی جانب لے کر آگے بڑھا جائے ۔ ان حالات کا تقاضہ ہے کہ


حالات میں حکومتی سطح پر کے الیکٹرک انتظامیہ کی مدد کی جانی چاہیے تاکہ وہ مسلسل سوچتے ہیں حال میں بجلی کے نظام کو بہتر بنا سکیں اگر ان کی مدد نہ کی گئی اور انہیں ان کے حالات پر چھوڑ دیا گیا تو ہو سکتا ہے وہ اپنے طور پر صورتحال سنبھال لیں لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ایسا نہ کرسکیں اور آ کر معاملات چھوڑ کر چلے جائیں ۔ اگر ایسا ہوا تو یہ بہت برا ہوگا کیونکہ ایسی صورت میں حکومت کے پاس فوری طور پر کوئی ہنگامی پلان نہیں ہے کوئی متبادل کمپنی نہیں ہے اور حکومت کو خود یہ بیڑا اٹھانا پڑے گا اور یہ ایک تجربہ پہلے ہی ناکامی سے دوچار ہوا تھا اسی لئے یہ نج کاری کی گئی تھی ۔حکومت بجلی کے تقسیم اور لبریشن کے اتنے بڑے نظام کو بہتر طریقے سے ہینڈل نہیں کر سکتی یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ یہ پرائیویٹ سیکٹر کا کام ہے حکومت صرف بہتر ماحول فراہم کرنے کے اقدامات کرے ۔لیکن انرجی سیکٹرکابحران جس تیزی سے بڑھ رہا ہے آنے والے دنوں میں اچھی خبروں کی توقع نہیں ہے سخت فیصلے اور سخت وقت کے لئے خود کو تیار رکھنا چاہیے ۔
======================================

ARY نیوز نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ K-Electric Limited، جو بجلی کے بل کی عدم وصولی کی وجہ سے کنکشن منقطع کرتی ہے، سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) کو 2.5 بلین روپے کی ادائیگی میں نادہندہ نکلی۔
اس حوالے سے ایس ایس جی سی کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ کے الیکٹرک نے سندھ ہائی کورٹ (ایس ایچ سی) کے احکامات کی خلاف ورزی کی ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ کے الیکٹرک نے ابھی تک اپنا آخری واجب الادا بل ادا نہیں کیا، جس پر SSGC کے 2.46 ارب روپے واجب الادا ہیں۔


سوئی سدرن گیس کمپنی نے مزید کہا کہ کے الیکٹرک کو 3 جون 2022 کو 8.6 بلین روپے کی مزید ادائیگی واجب الادا ہوگی۔ ترجمان نے مزید کہا کہ “اگر کے الیکٹرک ڈیفالٹ رہی تو گیس کی سپلائی کم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔”


یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گیس کی عدم فراہمی یا پریشر میں کمی کے باعث کے الیکٹرک کے پاور پلانٹس اب 20 فیصد بجلی پیدا کر رہے ہیں۔
کے الیکٹرک کے ترجمان نے اس حوالے سے دعویٰ کیا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی سے


شیڈول 190 ایم ایم سی ایف ڈی گیس نہیں مل رہی، 200 میگاواٹ کے پلانٹس سے صرف 20 سے 25 فیصد پیداوار باقی ہے۔
============================================