وفاقی وزیر شازیہ مری اور صوبائی وزیر اسماعیل راہو کی کراچی میں ایک نجی ہوٹل میں ماحولیاتی تبدیلی اور خواتین کی صحت کے متعلق منقعدہ پروگرام میں شرک

پریس ریلیز 3 جون 2022

*وفاقی وزیر شازیہ مری اور صوبائی وزیر اسماعیل راہو کی کراچی میں ایک نجی ہوٹل میں ماحولیاتی تبدیلی اور خواتین کی صحت کے متعلق منقعدہ پروگرام میں شرکت*

کراچی : وفاقی وزیربرائے تخفیف غربت اورسماجی تحفظ شازیہ مری نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایک اہم اور سنجیدہ مسئلہ ہے جس پربحث کی اشد ضرورت ہے موسمیاتی تبدیلی کے معاشرے پر اور خاص طور پر لوگوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پانی کی قلت، ہیٹ ویو، سیلاب، قحت سالی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ان باتوں کا اظہار آج انہوں نے کراچی کی ایک مقامی ہوٹل میں ماحولیاتی تبدیلی اور خواتین کی صحت کےحوالےسے منقعدہ ایک پروگرام میں خطاب کرتےکیا وفاقی وزیر شازیہ مری کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے مسائل معیشت کو بھی متاثر کرتے ہیں اور برائے راست اس کے منفی اثرات پسماندہ آبادی پر پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام تخفیف غربت اور سماجی تحفظ وزارت کا ایک اہم حصہ ہے اور بی آئی ایس پی پروگرام سماجی تحفظ کیلئے انتہائی اہم اور مضبوط پروگرام ہے اور اس پروگرام کا آغاز 2008 میں پارلیمنٹ کی قانون سازی کے ذریعے کیا گیا۔ انکا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت تقریباً 8 ملین گھرانے اس پروگرام سے مستفید ہورہی ہیں اورموجودہ حکومت نے غریبوں کیلئے 28 ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ایک مشکل فیصلہ تھا لیکن پچھلی حکومت کی ناکارہ پالیسیوں کے باعث ملک کی معیشت کو بچانے کیلئے یہ فیصلہ کرنا پڑا ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی بھی حکومت اس پروگرام کو کوئی اور نام دے لیکن یہ ہمیشہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ہی رہے گا اور شہید بینظیر بھٹو نے خود اس بی آئی ایس پی پروگرام کی بنیاد رکھی اورشہید محترمہ بینظیر بھٹو ایک دوراندیش اورسیاسی بصیرت کی حامل رہنما تھی ۔ اس موقع پر صوبائی وزیر ماحولیات محمد اسماعیل راہو نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں سب سے زیادہ سندھ موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہورہی ہے اور سندھ میں دریائی پانی قلت کی وجہ سے کئی ہزار ایکڑ زمین غیر آباد ہورہی ہے اور موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے سندھ میں فشریز اور زراعت ختم ہورہی ہے, برا حال ہے۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ کوٹڑی بیراج میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے سندھ کی کئی ھزار ایکڑ ایراضی سمندر نگل چکا ہے اور سندھ کو حصے کا پانی نہ ملنے کی وجہ سے بدین,ٹھٹہ, سجاول زیادہ متاثر ہوئے ہیں,فصلیں جل رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ سندھ کی کلائمینٹ پالیسی مکمل ہوچکی ہے جو جلد فنکشنل ہوجائے گی اورپاکستان کی عوام کو موسمیاتی تبدیلی کے متعلق کم معلومات ہے, ان میں آگاہی مہم چلانے کی اشد ضرورت ہے۔