صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو کا قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کے اجلاس کے دوران بائیکاٹ

کراچی: صوبائی وزیر برائے محکمہ آبپاشی جام خان شورو نے آج آسلام آباد میں منعقد ہونے والے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کے اجلاس کے دوران بائیکاٹ کردیا۔صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو نے تونسہ اور گڈو بیراج کے بیچ میں صوبہ سندھ کے حصے کاپانی


غائب ہونے کے معاملےپرقائمہ کمیٹی کی طرف سے کوئی موثر فیصلہ نہ کرنے پربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے اجلاس کا بائیکاٹ کردیا گیا۔ اس پر صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل نے صوبہ سندھ کا تونسہ اور گڈو بیراج کے بیچ میں تقریباً 20 ہزار کیوسک سے


زائد پانی گم ہونے کا ابتک کوئی تدارک نہیں کیا گیا اور گزشتہ مہینے قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کے اجلاس میں یہ ثابت ہوچکا کہ تونسہ اورگڈو کے بیچ والے علاقے میں صوبہ سندھ کا پانی غائب ہوا جس پرصوبے کے مطالبے کے باوجود کوئی فیصلہ نہیں کیاگیا۔ انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ وفاقی وزارت پانی و بجلی صوبہ سندھ کے


پانی کے مسائل پر ایک خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اورارسا آبی معاہدے 1991 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صوبہ سندھ کے ساتھ ناجائزی کر رہا ہے جس کے باعث آج قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کی بے بسی پر سخت احتجاج کرتے ہوئے آج بائیکاٹ کیا۔
====================================