آپ مُفت، مُلک مُفت

بھارتی فوج کے پہلے دیسی کمانڈر انچیف فیلڈ مارشل کریاپا کا ہندی میں ہاتھ تنگ تھا۔ وہ انگریزی میں سوچتے تھے اور پھر اس کا ترجمہ کرتے تھے. لوگ انھیں ’براؤن صاحب‘ کہتے تھے.

آزادی کے فوراً بعد کریاپا کو سرحد کے قریب فوجیوں کے سامنے تقریر کرنی تھی۔ وہ کہنا چاہ رہے تھے کہ اب ملک آزاد ہے، آپ اور ہم بھی آزاد ہیں۔ آزاد کیلئے ان کے ذہن میں فری کا لفظ آیا اور انھوں نے کہا،
’اس وقت آپ مفت ہیں، ملک مفت، سب کچھ مفت ہے’۔
ایک بار امرتسر میں فوجیوں کی بیویوں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ماؤ اور بہنو، ہم چاہتا ہے کہ آپ دو بچہ پیدا کرو، ایک اپنے لیے، ایک میرے لیے۔‘…. شاید وہ کہنا یہ چاہ رہے تھے کہ ’آپ کے دو بیٹے ہونے چاہئیں۔ ایک خاندان کے لیے اور ایک انڈین فوج کیلئے.


براؤن صاحب ہی نہیں، کریاپا کے کئی نام پڑے. پاکستانی اخبارات میں اکثر” کِری اپّا” چھپتا رہا. ایک برطانوی افسر کی بیوی کو ان کا نام لینے میں دِقت ہوتی تھی تو اس نے انھیں کِپر پکارنا شروع کر دیا تو یہ نام بھی چل نکلا. ایک زمانے میں وہ صوبہ سرحد میں تعینات تھے. ایک جگہ دیکھا کہ عورتیں سروں پر پانی سے بھرے بڑے بڑے برتن لے کر جا رہی ہیں۔ پوچھنے پر پتا چلا کہ وہ چار میل دور دوسرے گاؤں سے پانی لاتی ہیں۔ کریاپا نے فوراً ان کے گاؤں میں کنواں کھدوانے کا حکم دیا۔ پٹھان ان کے اس کام سے اتنے خوش ہوئے کہ انھیں “خلیفہ” کہنا شروع کر دیا.

فیلڈ مارشل کریاپا میں براؤن صاحبوں والی اور بھی کئی باتیں تھیں. مثلا” شام کے کھانے پر وہ ہمیشہ کالے رنگ کے سوٹ یا بند گلے میں نظر آتے تھے. چاہے اپنے ہی گھر اکیلے ڈنر کیوں نہ کرنا ہو، خاص طور پر کپڑے بدلتے تھے۔
ان کی بیٹی نلینی بتاتی ہیں کہ ’ایک بار انھوں نے ایک امریکی سفارتکار کو عشائیے کے لیے مدعو کیا۔ وہ سادہ سی قمیص پہن کر آ گئے۔ میرے والد نے سردی کا بہانہ بنا کر انھیں اپنا کوٹ پہننے پر مجبور کر دیا۔ تب جا کر وہ کھانے کی میز پر بیٹھے۔ایک بار میرے منگیتر ایک فیملی لنچ پر بنا ٹائی کے صرف کوٹ پہن کر پہنچ گئے۔ میرے پاپا نے مجھ سے کہا کہ انھیں بتا دو کہ ان کے داماد اور فوج کے ایک اہلکار کے طور پر انھیں ڈھنگ کے کپڑے پہن کر کھانے کی میز پر آنا چاہیے۔ ڈنر پر کسی نے اپنے کوٹ کے بٹن کھول رکھے ہوں تب بھی وہ بُرا مان جاتے تھے۔ان سے یہ بات بھی برداشت نہیں ہوتی تھی کہ کوئی اپنی وردی کی قمیض کی آستینوں کو موڑے۔


پتا نہیں کیوں انھیں ہارمونیم سے بھی چِڑ تھی۔فوج کی تمام تقاریب میں ہارمونیم بجانے پر پابندی تھی۔ البتہ ٹرانزسٹر سے انہیں بہت لگاؤ تھا اور ہمیشہ پاس رکھتے تھے۔

1965 کی جنگ میں ان کے بیٹے نندو کریاپا کا طیارہ پاکستان نے مار گرایا اور نندو کریاپا کو قیدی بنالیا گیا۔ نندو کریاپا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پاکستان کے صدر جنرل ایوب خان اور میرے والد کے درمیان بہت دوستی تھی کیونکہ 40 کی دہائی میں ایوب ان کے ماتحت کام کر چکے تھے۔ میرے پکڑے جانے کے بعد ریڈیو پاکستان سے خاص طور پر اعلان کروایا گیا کہ میں محفوظ اور ٹھیک ٹھاک ہوں۔ ایک گھنٹے کے اندر دلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر نے میرے والد سے فون پر بات کی اور کہا کہ ایوب خان نے ان کے لیے پیغام بھجوایا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو وہ آپ کے بیٹے کو فوراً واپس بھیج سکتے ہیں۔‘ ان کے والد نے جواب دیا کہ ’انڈیا کے تمام جنگی قیدی میرے بیٹے ہیں۔ آپ میرے بیٹے کو ان کے ساتھ ہی چھوڑیے گا۔‘
نندو بتاتے ہیں ” جب میں راولپنڈی کی جیل میں بند تھا تو ایوب خان مجھ سے ملنے بھی آئے، میرے لیے سٹیٹ ایکسپریس سگریٹ کا ایک کارٹن اور پی جی وڈ ہاؤس کی ایک کتاب لے کر آئے”


نندو بعد میں ایئر مارشل بنے، وہ بتاتے ہیں کہ ایک بار فوج کی سکول بس نہیں آپائی۔ میرے والد کے اے ڈی سی نے مجھے سکول سے لانے کے لیے سٹاف کار بھیج دی۔ کچھ دن بعد جب میرے والد ناشتہ کر رہے تھے تو اس بات کا ذکر ہوا۔ یہ سنتے ہی میرے والد آگ بگولا ہو گئے اور انھوں نے غصے سے اپنے اے ڈی سی سے کہا کہ سرکاری کار کسی بھی حال میں ذاتی کام کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ انھوں نے فوراً اس کا بل بنوایا اور اے ڈی سی سے کہا کہ اسے ان کی تنخواہ سے کاٹ لیا جائے۔

جنرل کریاپا 49 برس کے تھے جب برطانوی راج کے 200 سال بعد پہلی بار کسی انڈین شہری کو انڈین فوج کی باگ ڈور دی گئی تھی۔ 15 جنوری 1949 کو کریاپا نے عہدہ سنبھالا۔ تب سے یہ دن بھارت کے آرمی ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے

15 جنوری 1986 کو وہ آرمی ڈے کی پریڈ کے لیے دلی میں تھے۔ پریڈ کے بعد آرمی چیف جنرل کے سندر جی نے اعلان کیا کہ حکومت نے ان کی خدمات کی وجہ سے انھیں فیلڈ مارشل کے اعزاز سے نوازنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس وقت ان کی عمر 87 برس تھی.
Ayra Aabish (Islamabad)
=========================================