خاوندوں کے عالمی دن پر ایک ہلکی پھلکی تحریر


عابد حسین قریشی
ڈسڑکٹ اینڈ سیشن جج لاہور (ر)
==========================


چند روز قبل (husbands) خاوندوں کا عالمی دن منایا گیا۔ حالانکہ مظلوموں اور محکوموں کا کوئی خاص دن نہیں ہوتا۔ نہ ہی اُنہیں کوئی خاص دن منانے کی اجازت ہوتی ہے۔ اپنی کتاب “عدل بیتی” میں اپنے خاندان کا تعارف کراتے ہوئے چند خوش کُن اور تعریفی کلمات اپنی اہلیہ محترمہ کے لیے بھی لکھنے پڑ گئے۔ یار دوستوں نے اس پر رن مریدی کا الزام لگا دیا۔ اپنی صفائی دینے کی کوشش کی مگر بے سود۔ بالآخر یہ کہہ کر بات ختم کرنا پڑی کہ بعض اوقات “خوف” میں کچھ باتیں لکھنی پڑتی ہیں۔ حالانکہ اس معاشرے میں ہر آدمی رن مرید ہے۔ جو جس قدر طاقتور ہے گھر میں اُتنا ہی بے بس ہے۔ مرد بیچارہ تو گھر میں آزادی سے سانس بھی نہیں لے سکتا۔ اُسے تو سگریٹ نوشی کے لیے بھی باہر گلی میں موبائل سُننے کے بہانے نکلنا پڑتا ہے۔ مزیدار بات یہ ہے کہ اس میں پڑھے لکھے، اَن پڑھ، صاحب اختیار یا بے اختیار کی کوئی تمیز نہیں۔ ریٹری بان سے لے کر گریڈ 22 کے افسر تک کے ساتھ اس کوچۂ محبت میں


یکساں سلوک ہوتا ہے۔ بلکہ ہو سکتا کہ ریڑی والا کچھ “معاملات” میں زیادہ با اختیار ہو کہ اعلٰی افسر تو بیچارہ کپڑے بھی اپنی مرضی کے نہیں پہن سکتا۔ دورانِ سروس اس طرح کے کئی واقعات کا عینی شاہد ہوں۔ اب گزرے وقت پر جب نظر پڑتی ہے تو کئی واقعات یاد کر کے بے اختیار ہنسی چھوٹ جاتی ہے کہ وہ دوست اور کولیگ جو عدالت میں یا آفس میں بڑے دبنگ اور سخت گیر افسر ہونے کی “شہرت” رکھتے تھے، اپنے ہی گھر میں کس قدر مظلوم و بے بس تھے۔ وقت مقررہ پر گھر نہ پہنچنے پر ان کا گھر میں اس طرح ہی استقبال ہوتا جس طرح سی۔آئی۔اے سٹاف کسی عادی چور کا کرتی ہے۔ ہمارے کچھ دوستوں نے جھوٹ بولنے کی باقاعدہ پریکٹس کی ہوتی تھی کہ گھر میں داخل ہونے کے بعد ہر ممکنہ سوال کا جواب وہ اتنے پُر اعتماد طریقہ سے دیتے کہ فریقِ مخالف مزید جرّح سے دستبردار ہو جاتا۔ مگر اُنکا کمال یہ تھا کہ وہ بے عزتی کو بے عزتی نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسے کمال کی “انڈر سٹینڈنگ” سے تعبیر کرتے تھے۔ مرد بے چارہ ویسے ہی مظلوم ہے اور بقول شاعر

ناحق ہم مظلوموں پر یہ تہمت ہے آزادی کی
جو چاہیں سو آپ کریں ہم کو عبث بد نام کیا

ہمارے عدالتی نظام میں دن دیہاڑے قتل کرنے والے ملزم کو کئی دفعہ شک کا فائدہ دیکر بری کر دیا جاتا ہے مگر گھریلو زندگی میں “شک” کی ٹھوس اور واضح وجوہات ہونے کے باوجود بھی مرد بے چارہ ظلم و ستم کا نشانہ بنتا ہے۔ حالانکہ عورت صنف نازک ہونے کی بنا پر قدرت کا وہ انمول شاہکار ہے کہ جسکی ساخت ہی صرف نازک آبگینوں کی مانند نہ ہے بلکہ حُسن فطرت اور حیا اور پاکدامنی کا مرقّع و مجموعہ ہے۔ مگر ان ساری طبعی و فطری خوبیوں سے مرصّع ہونے کے باوجود مرد کو “شک” کا فایدہ دینے پر رضامند نہ ہے اور وہ بے چارہ جس نے حلال بھی مدّت سے چھوڑ رکھا ہوتا اُس پر حرام کا شبہ کرنا بد ظنی اور تہمت کے سوا کچھ بھی نہیں۔


ہمارے بعض دوست بڑے دیدہ و بینا تھے۔ وہ حالات خراب ہونے سے قبل انہیں کنٹرول کرنے کا ہنر جانتے تھے۔ البتہ ہماری طرح کے کچھ نا عاقبت اندیش اپنی روایتی سُستی و کاہلی کے ہاتھوں بارہا ہزیمت و پریشانی میں گرتے رہے۔ جب ابھی موبائل فون نہیں آیا تھا تو یار لوگوں کو یہ مشکل پیش آتی تھی کہ جب بھی گھر سے باہر نکلتے تھے اُنہیں کسی PTCL نمبر کی قربت سے آگاہی گھر پر بلکل اسی طرح دینی پڑتی تھی جس طرح کمزور ماتحت کو اپنے باس کو لمحہ بہ لمحہ اپنی پوزیشن بتانا پڑتی ہے۔ گھر پر بروقت اپنی پوزیشن سے عدم آگاہی میں ذرا سی کوتاہی بھی بعض اوقات “جان لیوا” ثابت ہوسکتی تھی۔ پھر موبائل فون آنے کے بعد اپنی اہلیہ سے جھوٹ بولنا آسان ہو گیا۔ مگر اس میں بھی بڑی ذہنی ہوشیاری اور چابکدستی کی ضرورت ہے۔ ہمارے ایک دوست جب کبھی ہمارے ساتھ ہم رکاب ہوتے تو خانیوال کے قریب پہنچ کر ہماری بھابھی محترمہ کو اپنی لوکیشن اوکاڑہ کے قریب بتاتے۔ میری ہنسی چھوٹ جاتی کہ اس میں کیا حکمت پوشیدہ ہے۔ مگر جب دو گھنٹے بعد بھی وہ اپنی لوکیشن پتوکی کے قریب بتاتے تو وہ بے عزتی پروگرام ہوتا کہ الا امان ۔ وہ اگرچہ مائیک کو کان کے ساتھ لگا کر سماعت کرتے مگر اُنکے چہرہ مبارک کے اتار چڑھاؤ سے یہ بلکل واضح ہوتا کہ دوسری طرف سے گولہ باری کس قدر بھرپور اور عین نشانے پر ہے۔ اور ہمارے دوست کے پاس اپنی صفائی میں سوائے میری کمزور سی شہادت کے کچھ نہ ہے۔ اس طرح کی صورتحال کے باوجود یار لوگ اسے باہمی انڈرسٹینڈنگ، باہمی پیار و الفت، باہمی ادب و احترام سے تعبیر کرتے۔ خیر اس طرح کی انڈرسٹینڈنگ کو آپ کوئی بھی نام دے دیں کوئی حرج نہیں۔ صرف عزت نفس کا مجروح ہونا


تو کوئی عیب نہیں کہ آجکل لوگ عزت نفس کو بڑی ارزاں جنس تصوّر کرتے ہیں۔ اور یہ صرف اہلیہ کے سامنے بے بس و لاچار نہیں ہوتی بلکہ تمام کاروبار حیات میں بھی جگہ جگہ زخموں سے چُور ہچکولے کھاتی نظر آتی ہے۔ مگر ہم شاید اسے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ بہرحال سرعام عزت نفس مجروح کرانے سے بہت بہتر ہے کہ اپنی اہلیہ محترمہ کے لیے چند تعریفی کلمات زبانی کہہ کر یا لکھنے کی سکّت ہو تو لکھ کر رکھ دیں کہ اسی میں عافیت ہے۔

(نوٹ اس کالم میں کچھ فرضی کردار بھی ہو سکتے ہیں۔)
==================================================