چیس سپر اسٹور کے قاتل مالکان کون ہیں، وہ 3 بھائی ہیں۔-کمشنر کراچی کے حکم پر مقدمہ درج


چیس سپر اسٹور کے قاتل مالکان کون ہیں، وہ 3 بھائی ہیں۔-کمشنر کراچی کے حکم پر مقدمہ درج

فہد، فراز اور عدیل 3 بھائی ہیں اور ایف آئی آر میں نامزد ہیں۔
راچی میں جیل چورنگی کے قریب سپر اسٹور میں آگ لگنےکا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

مقدمہ سپر اسٹور کے مالکان کے خلاف فیروز آباد تھانے میں درج کیا گیا ہے، مقدمہ ایس بی سی اےکے اسسٹنٹ ڈائریکٹرکی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔


کراچی: آگ سے متاثرہ عمارت کی تعمیر میں متعلقہ اداروں کی غفلت سامنے آگئی

مقدمے میں سپر اسٹورکے مالکان فراز، عدیل اور فہد نامزد کیے گئے ہیں، مقدمے میں جعل سازی اور قتل بالسبب کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

مقدمےکے متن کے مطابق یکم جولائی کو صبح ساڑھے 11 بجے آگ لگی، واقعے میں ایک شخص دم گھٹنے سے جاں بحق اورکئی متاثر ہوئے، عمارت کی بیسمنٹ نقشےکے مطابق گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے بنائی گئی تھی۔


پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ کمشنر کراچی کی ہدایت پر درج کیا گیا ہے، مقدمے میں نامزد تینوں افراد آپس میں بھائی ہیں اور سپر اسٹور کے مالک ہیں، جاں بحق شخص کے اہل خانہ سے بھی قانونی کارروائی کے لیے رابطہ کیا ہے
==================================

آگ سے متاثرہ عمارت کے مکینوں کا سپر اسٹور کے مالک کو گرفتار کرنے کا مطالبہ

کراچی کے سپر اسٹور میں لگنے والی آگ سے متاثر ہونے والی عمارت کے مکینوں کا کہنا ہے کہ حکومت کا کوئی نمائندہ ہمارے پاس داد رسی کے لیے نہیں آیا، متاثرین نے اسٹور کے مالک کو بھی گرفتار کرنے کا مطالبہ کردیا۔

https://www.youtube.com/watch?v=aRMaeWKcLPwhttps://www.youtube.com/watch?v=aRMaeWKcLPw

عمارت میں لگنے والی آگ کے متاثرین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ یہاں آئیں، ہمارا دکھ سنیں، حکومت کا کوئی نمائندہ ہمارے پاس داد رسی کے لیے نہیں آیا، مرتضیٰ وہاب سے اپیل ہے ہمیں انکوائری کمیٹی نہیں، حل چاہیے۔


وصی کی ملازمت کا پہلا روز ہی اس کی زندگی کا آخری دن بن گیا

ایک متاثرہ خاتون نے کہا کہ ہم گھروں میں نہیں جاسکتے، بچوں کے امتحان ہیں تمام چیزیں اندر ہیں، اسٹور کے مالک کو پکڑیں، وہ بھاگ جائے گا، حکومت کیوں نہیں دیکھتی، سہولت ہے یا نہیں۔

خاتون نے کہا کہ آصف زرداری، بلاول بھٹو، گورنر سندھ اور وزیر اعلیٰ سے اپیل کرتے ہیں ہمارے پاس آئیں، صرف دس منٹ کے لیے مراد علی شاہ ہمارے پاس آئیں۔

متاثرین کا کہنا ہے کہ ہماری مائیں بہنیں پریشان ہیں، راستہ نہیں دکھایا گیا تو ہم روڈ پر آئیں گے، کس بنیاد پر عمارت توڑنے کی بات کی جا رہی ہے، بغیر معائنہ کیے کیسے کہہ سکتے ہیں کہ عمارت توڑ دی جائے۔

مکینوں کا کہنا ہے کہ ہمارے گھر والوں کو کھانے پینے کو ملے تو پھر قانونی کارروائی کا سوچیں۔

چیف فائر آفیسر کا کہنا ہے کہ آگ قابو میں ہے اور کولنگ کا عمل جاری ہے، شعلہ کہیں نہیں ہے بس دھواں ہے، کولنگ کل تک جاری رہےگی۔

https://jang.com.pk/news/1094194
===============================
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کراچی میں آگ سے متاثرہ بلڈنگ میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی سے آگاہ نکلی، اتھارٹی نے عمارت کے مالک کو صرف نوٹسز بھیجنے کے سوا کوئی کارروائی نہیں کی۔

بتایا جارہا ہے کہ پارکنگ کو گودام اور آرکیڈ ایریا کو تجارتی مقاصد کے لیے کور کرنے سے ایس بی سی اے آگاہ تھی۔ آخری اظہارِ وجوہ کے نوٹس میں پارکنگ، آرکیڈ ایریا میں تعمیرات کو بلڈنگ پلان کی خلاف ورزی قرار دیا گیا تھا۔

کراچی، سپر اسٹور میں آتشزدگی، عملے کی غفلت سامنے آگئی

ایس بی سی اے سَوا سال پہلے ہی کمپلیشن کا سرٹیفکیٹ لیے بغیر اسٹور چلانے سے بھی آگاہ تھی۔

اتھارٹی نے نوٹس میں اسٹور انتظامیہ کو غیرقانونی تعمیرات خود ہی گرانے کے لیے کہا گیا تھا، 27 جنوری 2021 کو جاری اس فائنل شوکاز میں تین دن کی مہلت دی گئی تھی۔

فائنل شوکاز کے بعد ایس بی سی اے نے اسٹور انتظامیہ کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔

سپر اسٹور میں آگ کے دھویں سے جاں بحق شخص انٹرویو کے لیے آیا تھا

دوسری جانب آگ سے متاثرہ بلڈنگ میں قواعد کی خلاف ورزی پر اینٹی کرپشن کی غلفت بھی سامنے آگئی۔

اینٹی کرپشن نے 2020 میں بلڈنگ میں غیرقانونی تعمیرات پر انکوائری شروع کی تھی۔

محکمہ انسداد بدعنوانی کی جانب سے ایس بی سی اے سے متعلقہ دستاویزات بھی طلب کی گئی تھیں۔ تاہم اینٹی کرپشن نے بھی دو سال میں اسٹور انتظامیہ کیخلاف کوئی ایکشن نہیں لیا۔

https://jang.com.pk/news/1094197
============================================

کراچی کے علاقے گلستان جوہر کا رہائشی وصی گزشتہ روز جیل چورنگی پر واقع سپر اسٹور میں ملازمت کرنے گیا۔ وصی کی ملازمت کا یہ پہلا روز تھا جو اس کی زندگی کا آخری دن بن گیا۔

سپر اسٹور میں آگ لگنے کے واقعے میں جاں بحق وصی جامعہ کراچی کا طالب علم تھا اور بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔

سپر اسٹور میں آگ کے دھویں سے جاں بحق شخص انٹرویو کے لیے آیا تھا

وصی الدین جامعہ کراچی میں اکنامکس تھرڈ ائیر کا طالب علم تھا اس کا گزشتہ روز سپر اسٹور میں ملازمت کا پہلا دن تھا۔

وصی کے والد کا کہنا ہے کہ بیٹے کی موت کی اطلاع رات کو دی گئی، اسٹور کی انتظامیہ اور حکومتی نمائندوں نے کوئی رابطہ نہیں کیا، واش روم کے لیکیج کی وجہ سے شاٹ سرکٹ کا بتایا گیا ہے

https://jang.com.pk/news/1094170
====================================================

کمشنر کراچی اقبال میمن نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ آگ کو اوپر کی جانب بڑھنے سے روکا گیا۔ فوم کی مدد سے آگ پر قابو رکھنے میں مدد ملی۔وئیر ہاؤس میں بڑی مقدار میں کوکنگ آئل موجود ہےجس سے آگ بجھانے میں دشواری کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ فائر بریگیڈ کی اٹھارہ گاڑیاں اب بھی آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں۔ اطراف کی عمارتیں بھی خدشات کے باعث خالی کرالی ہیں۔ وئیر ہاؤس غیرقانونی طور پر بنایا گیا تھا۔ تحقیقات میں واضح ہو جائے گا کہ کس کی غفلت تھی۔

صوبائی حکومت نے واضح کہہ دیا ہے کہ جو ذمہ دار ہوگا،، اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ ڈی آئی جی ایسٹ مقدس حیدر بھی آگ سے متاثرہ عمارت کا جائزہ لیا۔
=====================================