جیل چورنگی ، چیز سپراسٹور میں لگنے والی آگ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور دیگر اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

شہر میں آتشزدگی کے بدترین تازہ واقعہ نے ایک مرتبہ پھر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور مقامی انتظامیہ کی ناکامی کا پردہ چاک کردیا ہے جنہوں نے آگ پکڑنے والی اشیاءکے اسٹور ز کو رہائشی عمارتوں کے بیسمنٹ میں بنانے کی اجازت دے رکھی ہے آخر کثیرالمنزلہ رہائشی عمارتوں کے نیچے یہ خطرناک اور آگ پکڑنے والی اشیاء پر مبنی اسٹور کھولنے کی اجازت کون دیتا ہے اکثر بڑی عمارتوں کے نیچے بڑے بڑے ٹائر اسٹورز بھی


کھلے ہوئے ہیں جن میں ایک مرتبہ پھر لگ جائے تو بجھانی مشکل ہو جاتی ہے اسی طرح مختلف کیمیکل کے اسٹورز بھی کھولے گئے ہیں اور کپڑے کے گودام بھی موجود ہیں فائر برگیڈ ذرائع کے مطابق زیادہ تر آتشزدگی کے واقعات ایسے گوداموں میں ہوتے ہیں جہاں آگ پکڑنے والی خطرناک اشیاء موجود ہوتی ہیں تشویش کی بات یہ ہے کہ وہاں پر فائر سیفٹی کے انتظامات نہیں ہوتے مناسب دیکھ بھال بھی نہیں کی جاتی اور سول ڈیفنس کے ادارے سے لے کر دیگر متعلقہ حکام بھی غفلت اور لاپرواہی برتتے ہیں افسر کثیر المنزلہ عمارتوں کے نیچے بیسمنٹ میں پارکنگ کی


جگہ بدل کر وہاں کمرشل سرگرمیاں اور اسٹور بنا دیے گئے ہیں اس کے علاوہ خطرناک اشیاء پر مشتمل گودام بھی موجود ہیں جہاں ایک مرتبہ آگ لگ جائے تو نہ ایمرجنسی ایگزٹ ہوتا ہے نہ دھونے کے اخراج کے راستے ہوتے ہیں اس لیے دم گھٹ کر ہلاکتوں کا امکان بڑھ جاتا ہے اور ایسے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں اس کے باوجود ضروری احتیاطی اقدامات پر توجہ نہیں دی جارہی اور انکوائری رپورٹ کو


عوام سے چھپایا جاتا ہے بلدیہ فیکٹری کی آگ سے لے کر جتنے بھی بڑے بڑے آتشزدگی کے واقعات ہوئے ہیں اگر ان کی انکوائری رپورٹ تو کو سامنے لایا جائے تو بہت سے نکات ہیں جو مختلف اداروں کی نااہلی غفلت اور لاپرواہی پر سوالیہ نشانات اٹھاتے ہیں شہری انتظامیہ سے لے کر صوبائی حکومت تک مختلف حکام اس لاپرواہی اور غفلت کے مرتکب اور ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتے ہیں اور ان کے خلاف ایکشن ہونا چاہئے لیکن ہر مرتبہ فائل دبا دی جاتی ہے اور لوگ بھی تھوڑی دیر سے بات واقعہ بھول جاتے ہیں ۔
==========================


کراچی میں جیل چورنگی کے قریب رہائشی عمارت میں واقع چیزسپراسٹورمیں لگی آگ بے قابو ہوگئی ہے،فائربریگیڈ حکام نے آگ تیسرے درجے کی قرار دیدی۔استور کی پہلی منزل سے ایک شخص کی لاش ملی۔

آگ کی شدت زیادہ ہونے کے سبب ساڑھے 3 گھنٹے بعد بھی نہ بجھائی جا سکی۔ پاک بحریہ کی ٹیمیں بھی امدادی کاموں میں پیش پیش ہیں۔ایدھی ذرائع کے مطابق اسٹور کی پہلی منزل سے ایک شخس کی لاش ملی ہے جسے اسپتال منتقل کر دیا ہے۔

فائربریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ 15 فائر ٹینڈرعمارت میں لگی آگ بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ شہر بھر سے فائرٹینڈر بھی طلب کرلیے گئے ہیں۔

ایم ڈی واٹربورڈ کا کہنا ہے کہ آگ پرقابو پانے کے لیے پانی کے کئی ٹینکرزروانہ کردیے ہیں جبکہ رینجرزکے جوان بھی ریسکیو ٹیموں کے ساتھ مل کرآگ بجھانے میں مصروف ہیں۔
پاک بحریہ بھی آگ بجھانے میں تعاون کر رہی ہے اوراس کا باؤزرآگ بجھانے میں معاونت فرام کر رہا ہے،ڈپٹی کمشنر ایسٹ کے مطابق عمارت میں بنے فلیٹس میں مقیم افراد کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا ہے۔

چیف فائر افسر کا کہناہے کہ بلڈنگ کے پچھلے حصے سے احتیاطی طور پر دیوار توڑی جارہی ہے۔ آگ کے شعلوں تک پہنچ چکے ہیں جلد قابو پالیں گے تاہم حتمی وقت نہیں دے سکتے۔

واضح رہے کہ آتشزدگی کا شکار عمارت کشمیر روڈ اور شہید ملت روڈ کے سنگم پر واقعے ہے۔

https://ummat.net/2022/06/01/766703/
=========================================


سپر اسٹور میں آگ لگنے سے دم گھٹنے سے جاں بحق نوجوان کی شناخت 25 سالہ وصی ولد رضی الدین صدیقی کے نام سے ہوئی ہے، متوفی گلستان جوہر کا رہائشی تھا ۔

اس نے چند روز قبل ہی نوکری کے لیے سی وی جمع کروائی تھی اور بدھ کو انٹرویو کے لئے سپر اسٹور گیا تھا متوفی اسٹور کے داخلی خارجی راستوں سے واقف نہیں تھا .

راستوں کے بارے میں علم نا ہونے کی وجہ سے باہر نہیں نکل سکا اس کو سی سی ٹی وی میں دیکھ کر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا تھا۔
عمارت کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ تہہ خانے میں قائم اسٹور کا گودام ختم کروانے کے لئے کئی سرکاری اداروں میں درخواست دے چکے تاہم شنوائی نہ ہوئی۔

https://jang.com.pk/news/1093889
=====================

ایڈمنسٹریٹر کراچی،مشیر قانون اور ترجمان حکومت سندھ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بدھ کے روز شہید ملت روڈ جیل چورنگی پر سپر اسٹور میں لگنے والی آگ کی جگہ کا دورہ کیا اور موقع پر ہی فائر بریگیڈ ، ریسکیو یونٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کیں، اس موقع پر میونسپل کمشنر سید افضل زیدی، ڈپٹی کمشنر ایسٹ طارق ، سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز مظہر خان اور محکمہ فائربریگیڈ کے افسران بھی موجود تھے، ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمارت میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا ہے لیکن عمارت میں مسلسل نکلنے والے دھوئیں کے سبب مسائل کا سامنا ہے، پوری عمارت کو خالی کرالیا گیا ہے، عمارت کے 170 فلیٹوں سے تمام لوگوں کو ریسکیو کرلیا گیا ہے، ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق ایک شخص جاں بحق اور ایک شخص زخمی ہے ،آگ سپراسٹور کے بیسمنٹ میں لگی تھی اور اطلاع ملتے ہی فوری طور پر فائربریگیڈ پہنچ کر کام کا آغاز کردیا تھا، آگ بجھانے کے لئے آٹھ فائر ٹینڈرز، دو اسنار کل، دو بائوزر، ریسکیو 1122 ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اراکین مصروف عمل رہے ، انہوں نے کہا کہ فائربریگیڈ کا عملہ مسلسل یہاں موجود رہے گا جب تک مکمل طور پر حالات قابو میں نہ آجائیں، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ بیسمنٹ میں لگنے والی آگ پر اگر بروقت قابو نہ پایا جاتا تو بڑا جانی و مالی نقصان ہوسکتا تھا، انہوں نے کہا کہ یہاں 1122 کی ایمبولینس سروس موجود ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تمام انتظامات مکمل ہیں، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ عمارت میں مقیم اور علاقے کے لوگ مکمل تعاون کر رہے ہیںاور امید ہے کہ جلد حالات پر قابو پالیا جائے گا، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے عمارت کا تفصیلی معائنہ کیا اور عمارت کے مکینوں سے ملاقات بھی کی اور انہیں ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی کرائی، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے محکمہ فائربریگیڈ کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ ہمارے فائر فائٹرز اپنی جانوں پر کھیل پر شہریوں کے جان و مال کا تحفظ کرتے ہیں جو ڈیوٹی کے فرائض کے ساتھ ساتھ خدمت خلق بھی ہی
https://www.urdupoint.com/pakistan/news/karachi/national-news/live-news-3153005.html
==========================

سندھ ہائیکورٹ

جیل چورنگی کے نجی اسٹور کی آگ کیوں لگی حقیقت سامنے آگئی

نجی اسٹور نے عمارت کی پارکنگ کو بطور گودام استعمال کر رکھا تھا, درخواست میں انکشاف

ایس بی سی اے نے بھی عمارت کی پارکنگ بطور گودام استعمال کرنے پر خاموشی ظاہر کی

نجی اسٹور کا پارکنگ کو گودام کے طور پر استعمال کرنا غیر قانونی ہے, درخواست گزار ایڈوکیٹ سارہ کنول اور ایڈوکیٹ محمد شاہد

درخواست پر عملدرآمد ہوتا تو شاید یہ آگ ہی نہ لگتی, درخواست گزار وکیل سارہ کنول

پارکنگ کو گودام استعمال کرنے کے باعث بلڈنگ کی بنیاد بھی خطرناک ہوچکی ہیں, درخواست گزار وکیل سارہ کنول

آگ لگنے کے باعث ایک شخص جھلس کر ہلاک جبکہ متعدد لوگ زخمی ہوئے, درخواست گزار وکیل محمد شاہد

سپریم کورٹ نے بھی غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات روکنے کا حکم دے رکھا ہے, درخواست گزار وکیل محمد شاہد

آگ لگنے کے بعد عمارت کو مخدوش قرار دے دیا ہے, درخواست گزار وکیل محمد شاہد

اطراف کی عمارتوں کو خالی کرنے کا کہا ہے رہائشیوں کے لئے ایسی صورتحال میں کیا بنیگا, درخواست گزار

عدالت نے درخواست گزار این جی او کے ممبران سے کوائف نامہ طلب کرلیا

عدالت نے انتظامیہ کو بغیر کسی نوٹس جاری کیے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی

درخواست کی سماعت سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے کی
==========================
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کیپٹن ریٹائرڈ عبدالستار عیسانی کی زیر صدارت ہوٹلز کی سیفٹی اور سیکورٹی کے حوالے سے ایک اہم اجلاس کا انعقاد ہوا جس میں ہوٹلز کے موجودہ بلڈنگ اسٹرکچر و کسی بھی ہنگامی صورتحال میں حفاظتی انتظامات و عملہ کی تربیت کے حوالے سے موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر ہوٹلز کے مینیجنگ ڈائریکٹرز،ڈائریکٹرز، سی ای اوز و دیگر ذمہ داران موجود تھے۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرI، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر II، اسسٹنٹ کمشنر سول لائنز اور اسسٹنٹ کمشنر صدر کے علاوہ محکمہ پولیس کے اعلی افسران شامل تھے۔ڈپٹی کمشنر ساؤتھ نے کہا کہ تمام ہوٹل بلڈنگز کے موجودہ اسٹرکچرزکا از سر نو جائزہ لیا جائے اور مرمتی کاموں کو فوری طور پر مکمل کیا جائے اور ایک ما ہ کے اندر رپو ر ٹ ضلعی انتظا میہ کو پیش کی جا ئے تا کہ مقامی و غیر ملکی مہمانوں کا اعتماد بحال ہو اور کسی بھی نقصان سے محفوظ رہا جا سکے۔

ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کیپٹن ریٹائرڈ عبدالستار عیسانی نے کہا کہ ہوٹلز میں کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کے لیے عملے کی مناسب تربیت کا بھی اہتمام کیا جائے تاکہ کسی بھی غیر متوقع حادثے کی صورت میں ممکنہ نقصانات سے محفو ظ رہا جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ انتظامیہ اور ہوٹل انتظامیہ کو ہدایت دی ہیں کہ وہ مل کر تمام چیزوں خصو صاًً فا ئر فا ئٹنگ ،فا ئر الا ر م اور آگ بجھا نے والے آ لا ت کی تنصیب کا ازسرنو جائزہ لیں اور باہمی تعاون سے تمام معاملات کو حل کریں۔
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کیپٹن ریٹائرڈ عبدالستا ر عیسانی نے کہا کہ وہ خود بھی ہوٹلز کا دورہ کریں گے اور تمام حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیں گے۔اس موقع پر ہوٹلز انتظا میہ نے ڈپٹی کمشنر سا ئو تھ کو یقین دہانی کروائی کے وہ ڈسٹرکٹ انتظامیہ کے تعاون سے تمام اقدامات بروئے کار لائیں گے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچاؤ ممکن ہو۔انہوں نے ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کا شکریہ ادا کیا اور ان کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کو بھی سراہا

===========================