راولاکوٹ(پرل) میں احتجاج۔۔۔۔ دونوں میں کون سا پرل جیسا ہے ؟

سچ تو یہ ہے،

بشیر سدوزئی،
==================

پونچھ کے ڈویژنل پیڈ کوارٹرز راولاکوٹ(پرل) میں عوام اور ملازمین سراپا احتجاج ہیں لیکن منتخب نمائندے اور سایسی رہنماء ایسے خاموش ، غائب ہیں جیسے گدھے کے سر پر سینگ۔ راولاکوٹ شہر سے دس کلومیٹر دور عوام مطالبہ کر رہی ہے کہ گھائیگلہ عباس پور سڑک کو ہائی وے اتھارٹی کے حوالے کیا جائے تاکہ سڑک کشادہ اور ہختہ ہو ۔ عوام کا یہ مطالبہ ناجائز تو نہیں اور نہ اچنبھا ہے کہ سیاسی لیڈر اور منتخب نمائندوں سمیت بااختیار لوگ خاموش رہیں جب حکومت اور عوامی نمائندے مسائل حل کرنے اور عوام کو مطمئین کرنے میں ناکام پوتے ہیں تو لوگ سڑکوں پر نکلتے ہیں ۔ وہاں بھی انہیں کوئی نہیں پوچھتا تو پھر ایسے ہی نعرے لگتے ہیں جو مبینہ طور پر کھائیگلہ میں لگے۔ گھائیگلہ میں اگر کچھ غلط ہوا ہے تو اس کہ


ذمہ دار راولاکوٹ کی انتظامیہ ہے جو اپنی تربیت اور روایات سے ہٹ کر رانا ثناء اللہ کی گلو بٹ طرز پر عوام کے ساتھ رویہ رکھے ہوے ہے ، حکومت اور عوامی نمائندوں کو سمجھنا چاہیے کہ جب تک کھائیگہ تا عباس پور سڑک ہائی وے میں شامل نہیں ہوتی عوامی مسئلہ حل پوتا ہے نہ مطالبہ پورا ہوتا ہے۔ گھائیگلہ سے علی سوجل تک 16 کلومیٹر سڑک کے احکامات آنسوؤں پونچھنے کے برابر بھی نہیں ۔ میرا ہر گز یہ مقصد نہیں کہ عوام دوبارہ سڑکوں پر آئیں بلکہ مطمح نظر یہ ہے کہ جشن فتح سے قبل اس بات پر غور کرنا ضروری ہے کہ کام ادھورا ہے۔ ادھورے کام پر جشن منانا عقل مندی نہیں ۔ کسی وقت علی سوجل سے آگئیں کے عوام سڑکوں پر آئیں گے اور یہ عوام بھی ان کے ساتھ یکجہتی کر رہیں یوں گے۔ پھر بھوک ہڑتال ہو گی پھر نازیبا نعرے لگیں گے۔ سیراڑھی اور عباس پور کے عوام اگر اس حلقے میں نہیں بھی لیکن آزاد کشمیر کے حلقہ میں تو ہیں ان کو بھی اس خوشی میں شامل کر کے جشن فتح منائیں اور گھائیگلہ سے عباس پور تک جلوس لے جائیں جہاں کہ لوگ آپ کو خوش آمدید کہیں گے۔ اس منصوبے کو بہت پہلے شروع ہو جانا چاہئے تھا ستمبر اکتوبر کی کوئی تاریخ تھی 1972 میں سردار عبدالقیوم خان نے بطور صدر اس سڑک کا سنگ بنیاد رکھا ۔ پھر کچھ لوگوں نے اپنی مدد آپ اور کچھ ورلڈ بنک نے وسائل مہیا کئے۔ بیلچوں اور گینتیوں کی مدد سے یہ سڑک نکالی گئی جب سے اب تک کبھی کبھار تار کول کا چھڑکاؤ ہوا ہو گا لیکن باقاعدہ سڑک کی تعمیر پر توجہ نہیں ہوئی ۔


عباس پور ہی نہیں سردیوں کے موسم میں ضلع حویلی کے عوام کے لیے یہ ڈویژنل پیڈ کوارٹرز کو ملانے والا مختصر راستہ اور سرحدی علاقوں تک رسائی کا محفوظ ترین علاقہ بھی، وزیراعظم صاحب اس پر توجہ دیں اور ادھورے حکم نامے کو مکمل کریں ۔ پرل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے جملہ ملازمین کئی روز سے ہڑتال پر ہیں جب کہ میڈیا رپورٹ کے مطابق سیاسی چئیرمین ارشد نیازی صاحب کا کہنا ہے کہ یہ ہڑتال ان کو ہٹانے کے لیے ہے۔ ممکن ہے عمران خان کی حکومت ہٹانے کی طرح ان کو ہٹانے کے لیے یہ ہڑتال بھی امپورٹڈ ہو ۔ نیازی صاحب ایک تو قیوم نیازی صاحب کے دور میں چئیرمین تعینات ہوئے واقف کار بتاتے ہیں کہ آزاد کشمیر میں دو ہی نیازی ہیں، عبدالقیوم خان نیازی، یا ارشد خان نیازی۔ پی ٹی آئی کی قیادت کا گمان ہو کہ آزاد کشمیر میں نیازیوں کا سرکاری کرسی پر برجماں قیادت کے لیے نیک شگون نہیں ویسے بھی یہ دونوں اصلی نیازی نہیں، ارشد نیازی صاحب نے آتے ہی کھلی کچہریوں میں عوامی مسائل سننا اور ان کو فوری حل کرنے کے احکامات دینا شروع کئے، جس کا پی ڈی اے کا عملہ عادی نہیں اس وجہ سے بھی ہڑتال ہو سکتی ہے اور نیازی صاحب کے خلاف امپورٹڈ ہڑتال کی ایک اور وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے بلکہ معقول وجہ ہے کہ جو غیر قانونی پلاٹ منسوخ کئے گئے ان کی الاٹ منٹ پر کسی نے رقم خرچ کی ہوئی ہو گی وہ کیسے معاف کرے گا اور پرل میں پرل جیسا قطعہ آراضی ہاتھ سے خاتے خاموش تماشائی بنا رہے گا۔ عمران خان نیازی نے تو کہہ ہی دیا کہ پاکستان کے بڑے، کرپشن کو برا نہیں سمجھتے تو چھوٹوں کو کیا حق پہنچتا ہے کہ کرپشن پر لیکچر دیں یا روکنے کی کوئی کارروائی کریں، ہڑتال امپورٹڈ ہو یا اندرونی مسائل کے باعث گزشتہ دو ہفتوں سے عوام پریشان ہیں۔ کئی افراد روزانہ پی ڈی اے آفیس کا چکر لگاتے ہیں، خریدوفروخت، اور ٹرانسفر، موٹیشن بند ہونے


سے کاروبار زندگی معطل اور سرکاری آمدنی بند ہے۔ حکومت کی اس طرف توجہ ہے نا عوامی نمائدہ کی بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں کے مقامی رہنماء بھی لا تعلق ہیں ۔ہڑتالی ملازمین کی بات سنی جائے تو معملا تنخواہوں سے آگئیں کا ہے۔ جو مطالبات یہاں کے عوام ، سیاسی پارٹیوں اور سیاسی رہنماؤں کو کرنا چاہئے تھے وہ مطالبات پی ڈی اے کے ملازمین لے کر بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔مثال کے طور جیساکہ بتایا جاتاہے کہ راولاکوٹ ہاؤسنگ اسکیم 1994ء میں پی ڈی اے کے قیام سے قبل پی ڈبلیو ڈی نے شروع کی تھی۔ اس وقت الاٹیوں سے پی ڈبلیو ڈی نے جو رقم وصول کی وہ ابھی تک اکاونٹ نمبر 101 میں پڑی ہوئی ہے۔ 28 سال گزر گئے لیکن اربوں روپے کی رقم پی ڈی اے کو منتقل نہیں ہوئی۔ یہ خالصتا الاٹیوں کی رقم ہے فوری طورپر پی ڈی اے کو منتقل ہونا چاہئے تاکہ اسکیموں میں ترقیاتی کام ہوں، 28 سال سے یہ ادارہ سرکاری امور انجام دے رہا ہے لیکن اس کے ملازمین ابھی تک سرکاری نہیں ہوئے، نہ تنخواہیں وقت پر ادا ہوتی ہیں نہ پینشن کے حق دار ہیں ۔ چند سو افراد کی ملازمت کو تحفظ دینے سے ادارے میں اسحتکام ہی آئے گا ۔ ممبران اسبملی ہر سال اپنی تنخواہ میں اصافہ اور غیر قانونی و غیر اخلاقی طور پر پنشن بھی لے رہے ہیں اور کمیشن کا الزام بھی ہے۔ ان غریب ملازمین کے بارےمیں کوئی نہیں سوچتا پھر ایسی جمہوریت کے بارے میں سوچنا چاہئے کہ اس کی ضرورت بھی ہے کہ نہیں ۔ملازمین کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ پی ڈی اے کو بطور ادارہ قائم کر کے ٹاون پلانگ سمیت پی ڈبلیو ڈی اور میونسپل کارپوریشن کے وہ فرائض و خدمات پی ڈی اے کو منتقل کئے جائیں جو ہاوسنگ اسکیموں میں اس نے انجام دینی ہیں ۔ تنخواہیں میزانیہ کا حصہ اور یہ تاثر ختم کیا جائے کہ حکومت پرل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو ختم کرنا چاہتی ہے ۔ راولاکوٹ کے عوام کو یہ خود سوچنا چاہیے کہ ان مطالبات میں کیا غلط ہے اور کیا درست۔ میری ذاتی رائے تو یہ ہے کہ پی ڈی اے کو مستقل اور مضبوط بنائے بغیر وادی پرل کا تصور پورا نہیں ہو سکتا، جو بطور صفت ” سب سے اچھا” بطور “اسم ” موتی جیسا مادہ۔ برف، آنسو ۔ بطور”فعل” موتیوں میں موتی کے قطرے بکھیرنا۔ یعنی موتیوں میں بھی نمایاں ۔قیمتی چیز بطور “فعل” رنگ میں رنگنے والا ، موتیوں کا ہار۔ کچرے کے ڈھیروں میں چھپا راولاکوٹ کیا واقعی پرل جیسا ہے۔ پرل کے نام سے دنیا میں دو ہی قطعہ آراضی ہیں ایک یہ جس کا تذکرہ ہو رہا ہے اور ایک پرل امریکا کی ریاست مسیسپی کا خوبصورت شہر ، جیکسن کے بالکل مشرق میں واقع ہے۔ جس کا رقبہ 57 مربع کیلومیٹر ہے اور آبادی 25,092 ہے۔ مسیسپی میٹروپولیٹن کا حصہ ہے۔ آپ خود فیصلہ کر لیں دونوں پرل میں کون سا واقعی پرل ہے۔ اگر ہم اپنے حقیقی پرل کو پرل کے بور پر نمایاں کرنے میں ناکام ہوئے تو اس میں ہماری کتنی نالائقی اور ہمارے نمائندوں کی کتنی نا کامی؟
====================================