کھاد ڈیلرز کی گرفتاری اور چھاپوں کے خلاف میرپورخاص فرٹیلائزر اینڈ پیسٹی سائیڈ ایسوی ایشن نے ہڑتال کردی میرپورخاص کے کھاد ڈیلر تیرت داس اور اشوک کمار کو پولیس نے انکی دُکانوں سے صبح سویرے اپنی حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا

میرپورخاص== تحسین احمد خان === کھاد ڈیلرز کی گرفتاری اور چھاپوں کے خلاف میرپورخاص فرٹیلائزر اینڈ پیسٹی سائیڈ ایسوی ایشن نے ہڑتال کردی میرپورخاص کے کھاد ڈیلر تیرت داس اور اشوک کمار کو پولیس نے انکی دُکانوں سے صبح سویرے اپنی حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا جس پر کھاد ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر مختیار احمد نے ہڑتال کی کال کر دی جس پر شہر بھر کے تمام پیسٹی سائیڈ اور کھاد کی دُکانیں بند کر دی گئی


تیرت داس کی دُکان پر موجود انکے منشی نے بتایا کہ صبح سویرے ایک شخص موٹر سائیکل پر آیا اور مختلف بیج اور دوائی کا معلوم کرنے کے بعد کہا کہ تمھارا سیٹھ کب آئے گا سیٹھ کے آنے پر اسی شخص کے ہمراہ دو عدد پولیس کی موبائیلں آئی اور تیرت کو اپنی حراست میں لیکر چلی گئیں دونوں پولیس موبائیلوں پر کسی تھانے کا نام درج نہیں تھا ایسا لگتا تھا کہ وہ کسی دوسرے شہر سے آئی ہوں دوسری جانب کھاد اور پیسٹی سائیڈ کی دُکانوں پر چھاپے اور گرفتار یوں کے خلاف کھاد ڈیلرز نے عدم تحفظ کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے٭٭٭

میرپورخاص == تحسین احمد خان === میرپورخاص میں دو بھائیوں کے اغوا کا ڈرامہ رچایا گیا ہے یہ لوگ خود ڈاکے اور دیگر جرائم کے مقدمات میں ملوث ہیں یہ بات سامارو کے رہائشی نواب خان اور گلاب خان پٹھان نے میرپورخاص پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرت ہوئے کہی انھوں نے کہا کہ اپنے بیٹوں کے اغوا کا الزام لگا کر ہم پر کیس کرنے والے سلیم خان کے بیٹے اغوا ہی نہیں ہوئے ہیں وہ کافی عرصے سے ہمارے شورومز سے بھتہ وصول کرنے کے لئے دباؤ ڈال رہا ہے بھتہ نہ دینے پر اپنے بیٹوں کے اغوا کا جھوٹا ڈرامہ رچایا جس سے پولیس بھی واقف ہے انھوں نے کہا کہ اغوا


کے بعد آزاد ہونے والے احمد خان پٹھان خود، اغوا برائے تاوان، بھتہ کی وصولی، اور فائرنگ کے سات مقدمات میں ملوث ہے جس کا سرکاری ریکارڈ شاہد ہے انھوں نے کہا کہ وہ سامارو اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں محنت مذدوری کرتے ہیں ان کے بھائی کا میرپورخاص میں گاڑیوں کا شوروم ہے جس کے خلاف کوئی جھگڑے اور اور کسی شکایت کی ایف آئی آر نہیں ہے ان پر اگوا کا جھوٹا کیس داخل کیا گیا ہم آئی جی سندھ ڈی آئی جی اور ایس ایس پی میرپورخاص سمیت اعلی حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے اور ہم پر درج جھوٹا مقدمہ خارج اور اور درج کرانے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے ٭٭

میرپورخاص
== تحسین احمد خان === میرپورخاص کنزیومر کورٹ کے جج نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے انتظامیہ کی جانب سے مقرر کردہ دودھ کے سرکاری نرخوں پر عمل در آمد کرایا جائے، دودھ کی زائد قیمتوں کے حوالے سے بار کونسل کے وکیل کی جانب سے کیس داخل کیا گیا تھا تفصیلات کے مطابق بار کونسل میرپورخاص کے وکیل جی کے رضوان کی جانب سے میرپورخاص کی کنزیومر پروٹیکشن کورٹ میں دودھ کی مقرر کردہ سرکاری قیمت 110 روپے فی کلو گرام کے بجائے گوالوں کی جانب سے دودھ 130سے 140 روپے کلو فروخت کرنے اور قیمتوں میں من مانے اضافے کے


خلاف کیس داخل کیا تھا جس پر کورٹ نے تمام فریقین کو نوٹس جا ری کئے اور آج اس کیس کی سماعت ہوئی جس میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تعلقہ حسین بخش مری کے مختیار کار راشد احمد نے کورٹ کو بتایا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اعلی کوالٹی کے دودھ کی فی کلو قیمت 110روپے مقرر ہے اور انتظامیہ کی جانب سے زائد قیمتوں کی شکایات پر دودھ کی دکانوں پر چھاپے مارے گئے اور کئی دکانداروں پر ہزاروں روپے جرمانے بھی عائد کئے گئے ہیں جب کہ دودھ فروخت کرنے والوں کی تنظیم کے صدر محمد اسلم جنرل سیکریٹری محمد رضوان بھی عدالت میں پیش ہوئے عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ اس حوالے سے ٹیم تشکیل دی جائے اور وہ دودھ کی دکانوں پر چھاپے مار کر قیمتیں اور دودھ کی کوالٹی بھی چیک کریں اور اپنی کاروائی کی پندرہ روز میں رپورٹ پیش کریں ٭٭
==============================