گاماں پہلوان یا غلام محمد بخش بٹ نے ورلڈ چیمپئن کا مقابلہ جیتا تھا اس لیے انہیں “رستمِ زماں” بھی کہا جاتا ہے

گاماں پہلوان یا غلام محمد بخش بٹ نے ورلڈ چیمپئن کا مقابلہ جیتا تھا اس لیے انہیں “رستمِ زماں” بھی کہا جاتا ہے۔ وہ 22 مئی 1878ء کوامرتسر کے ایک کشمیری بٹ گھرانے میں پیدا ہوئے اور 23 مئی 1960ء۔ کو لاہور میں وفات پائی۔ گاما کے بڑے بھائی امام بخش بھی مشہور پہلوان تھے۔

گاماں پہلوان کا قد 5 فٹ اور 7 انچ تھا، وہ روزانہ 5000 بیٹھکیں اور 3000 ڈنڈ لگاتے تھے۔ گاما بیٹھکیں لگانے کیلیئے 95 کلو وزنی بھاری ڈِسک اٹھاتے اور ورزش کرتے تھے۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سپورٹس میوزیم، پٹیالہ، پنجاب، بھارت میں آج بھی یہ ڈِسک موجود ہے۔


گاماں کو مہاراجہ آف دتیہ روزانہ 2 بکروں کا گوشت ، 3 سیر مکھن، 6 گیلن دودھ، 3 ٹوکریاں پھل، اور 20پاؤنڈ بادام کی سردائی، فراہم کرتے تھے ۔ ریاست “دتیا” کے حکمران بھوانی سنگھ کے علاوہ پٹیالہ کے مہاراجہ نے بھی گاما اور ان کے بھائی امام بخش کی سرپرستی کی ۔


گاماں نے 1902ء میں 22 سال کی عمر میں 1200 کلو وزنی پتھر اٹھایا اور اپنے سینے تک لایا اور کچھ قدم چلا بھی یہ پتھر آج بھی بھارت کے بڑودہ میوزیم سایاجی باغ میں پڑا ہوا ہے اور اس پر لکھا ہے “یہ پتھر 23 دسمبر 1902ء کو گاما نے اٹھایا”۔

میوزیم حکام کا کہنا ہے اس پتھر کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کیلئے ہائڈرالک مشین کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ 25 آدمیوں کیلئے بھی یہ پتھر اٹھانا مشکل ہے ۔میوزیم کے رجسڑر میں لکھا ہے کہ یہ پتھر 1912ء میں اس میوزیم میں لایا گیا۔

گاماں پہلوان اپنے 50 سالہ کیریئر میں 5000 کشتیاں لڑیں اور ایک بار بھی نہیں ہارے۔1916ء تک گاما نے سارے ہندوستانی پہلوانوں بشمول پنڈت بدو برہمن کو شکست دے دی تھی۔

15 اکتوبر، 1910ء کو انہیں جنوب ایشیائی سطح پر ورلڈ ہیوی ویٹ چیمپئن شپ کے اعزاز سے نوازا گیا تھا، تاریخ میں وہ واحد پہلوان ہیں جنہیں 50 سال سے زیادہ عرصہ پر محیط کیریئر میں ایک بار بھی شکست کا سامنا نہیں کرنا پڑا، گاماں پہلوان کو اصل شہرت اس وقت ملی جب انہوں نے 19 سال کی عمر میں انڈین ریسلنگ چیمپئن رحیم بخش سلطانی والا کو چیلنج کر دیا جو خود بھی گوجرانوالہ کے کشمیری بٹ خاندان سے تھے، توقع یہ تھی کہ تقریباً 7 فٹ قد کے رحیم بخش 5 فٹ 7 انچ قامت والے گاما کو سیکنڈوں میں چت کر دیں گے لیکن ادھیڑ عمری ان کے آڑے آئی اور وہ نوجوان گاماں کو شکست نہ دے سکے، یوں یہ مقابلہ برابر رہا۔


1910ء تک سوائے رحیم بخش کے وہ ہندوستان کے تمام نامی گرامی پہلوانوں کو شکست دے چکے تھے، بعد ازاں مغربی پہلوانوں کا مقابلہ کرنے وہ اپنے بھائی کے ساتھ بحری جہاز میں انگلستان پہنچے، ان کا پہلا مقابلہ امریکی پہلوان بنجامین رولر عرف “ڈوک” سے ہوا جسے پہلی بار ایک منٹ 20 سیکنڈ اور دوسری بار 9 منٹ 10 سیکنڈ میں زیر کیا، دوسرا مقابلہ اسٹینی سیلس زبسکو سے 17 ستمبر، 1910ء کو ہوا، جسے شکست دے کر 250 پاؤنڈ کی انعامی رقم اور “جون بُل بیلٹ” جیت لی، (یہ بیلٹ ہر ورلڈ چیمپین حاصل نہیں کر سکتا،صرف مستند چیمپئنز کو دی جاتی ہے) جس کے بعد انہیں “رستمِ زماں” یا ورلڈ چیمپئن کا خطاب دیا گیا، انگلستان کے دورے میں انہوں نے یورپی چیمپئن سوئٹزرلینڈ کے جویان لیم، عالمی چیمپئن سوئیڈن کے جیس پیٹرسن اور فرانس کے مورس ڈیریاز کو بھی شکست دی۔
قیام پاکستان کے بعد وہ لاہور منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے اپنے بھائی امام بخش اور بھتیجوں بھولو برادران کے ساتھ بقیہ زندگی گزاری،
1959ء کو انہیں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا
رستم زماں گاماں پہلوان 21 مئی، 1960ء کو لاہور میں انتقال کر گئے،
نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز رشتے میں گاما پہلوان کی نواسی بتائی جاتی ہیں۔
Ayra Aabish (Islamabad)
=====================


===========================