صوبائی وزیر اطلاعات کا بول نیوز کے رپورٹر پر مبینہ تشدد کے واقعہ کا نوٹس * ایڈیشنل آئی جی کراچی کو واقعہ کی تحقیقات کرنے کی ہدایت

صوبائی وزیر اطلاعات کا بول نیوز کے رپورٹر پر مبینہ تشدد کے واقعہ کا نوٹس

* ایڈیشنل آئی جی کراچی کو واقعہ کی تحقیقات کرنے کی ہدایت


* عبدالحسیب پر پولیس اہلکار کی جانب سے تشدد پر افسوس ہوا ۔ شرجیل انعام میمن

* میڈیا ورکرز کے ساتھ ایسا سلوک ناقابل برداشت ہے ۔ صوبائی وزیر اطلاعات سندھ

* ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی ۔ شرجیل انعام میمن

========================


اظہار مذمت ،
ایسوسی ایشن آف کیمرہ جرنلسٹ بول نیوز کی ٹیم پر تشدد اور حبس بے جا میں رکھنے کی شدید مذمت کرتی ہے ساجد کمال پر تشدد کیا گیا اور کیمرہ مین و ڈی ایس این جی اسٹاف کو تھانے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی جب دل چاہتا ہے یہ غیر تربیت یافتہ پولیس اہلکار وحشی درندوں کی طرح میڈیا ورکرز کے ساتھ پیش آتے ہیں اور ان کے افسران صرف معمولی سرزنش سے جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں


بول نیوز کی ٹیم پر تشدد میں ملوث اہلکاروں کو برطرف کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں جب تک سخت سزا نہیں ملے گی یہ باز آنے والے نہیں ہیں واضح رہے کہ شاہراہ فیصل تھانے کے اہلکار اس سے قبل بھی اس عمل کے مرتکب ہو چکے ہیں مگر انہیں اپنے اعلی افسران کا کوئی خوف نہیں ہے ہم اس تشدد کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے

=================================
کراچی پولیس کے اہلکار بول نیوز کے صحافی پر تشدد سے باز آئے

شارع فیصل تھانہ کے اہلکار کا بول نیوز کے رپورٹر عبدالحسیب پر دوران ڈیوٹی بد ترین تشدد

سپائی نے صحافی سے فون ، پرس اور دیگر چیزیں چھین لیں

عبدالحسیب خان کو شارع فیصل تھانے کے کمرے میں بھی زدکوب کیا گیا

زدکوب کرنے والے اہلکاروں نے کیمرا مین ساجد کمال اور ڈی ایس این جی اسٹاف کو تھانے میں داخل ہونے سے روکے رکا


===============================
کراچی پریس کلب کے رکن اور بول نیوز کے رپورٹر عبدالحسیب خان پر شاہراہ فیصل تھانے کی پولیس کا تشدد، عبدالحسیب خان صحافتی ذمہ داری انجام دے رہے تھے کہ شاہراہ فیصل تھانے کے اہلکاروں نے پہلے عبدالحسیب خان سے الجھنے کی کوشش کی،کئی بار نظر انداز کرنے پر پہلے مغلضات اور پھر تھانے کے باہر تشدد کا نشانہ بنایا،یہی نہیں لوگوں کی جانب سے لڑائی رکوائی گئی جس کے بعد پولیس اہلکار عبدالحسیب خان کو تھانے کے اندر لے گئے اور ایک بار پھر تشدد کا نشانہ بنایا

======================