شوریٰ ہمدرد کراچی کا ماہانہ اجلاس گزشتہ روز ’’سیاست کے بدلتے ہوئے رجحانات اور پاکستان کی خارجہ پالیسی‘‘ کے موضوع پر ہمدرد کارپوریٹ ہیڈ آفس میں ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

پریس ریلز

شوریٰ ہمدرد کراچی کا ماہانہ اجلاس گزشتہ روز ’’سیاست کے بدلتے ہوئے رجحانات اور پاکستان کی خارجہ پالیسی‘‘ کے موضوع پر ہمدرد کارپوریٹ ہیڈ آفس میں ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اسپیکر شوریٰ ہمدرد جسٹس (ر) حاذق الخیری بوجہ علالت، اجلاس میں شریک نہ ہوسکے۔ اُن کی جگہ پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالد صاحبہ نے اجلاس میں قائم مقام اسپیکر کے فرائض انجام دئیے۔ اجلاس میں معروف محقق اور اسکالر پروفیسر ڈاکٹر سید جعفر احمد بہ طور مہمان مقرر مدعو کیے گئے۔


پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالد صاحبہ نے اجلاس کی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی عدم استحکام سے ملک کے ہر شعبے پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اہداف ملکی مفادات ہونے چاہئیں۔ قومی اقدار، امنگوں اور اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوئے عالمی منظر نامے پر رونما ہونے والی تبدیلیوں اور طاقت کے توازن میں بدلائو کے مطابق اپنی خارجہ پالیسی کی مختصر اور طویل مدتی بنیادوں پر حکمت عملی وضع کرنے کے ضرورت ہے۔ماضی میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا جھکائو واضح طور پر مغربی بلاک کی جانب رہا۔


مہمان مقرر پروفیسر ڈاکٹر سید جعفر احمد نے کہا کہ د نیا بھر میں سفارت کاری کا کام اپنے لیے مواقع کھوجنا اور پیدا کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان کو اپنی تجارت، اقتصادی ترقی اور اپنے مفادات کے حصول میں عالمی طاقتوں اور اداروں کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اُٹھائے گئے۔ پاکستان کے داخلی نظام کی کمزوریوں نے خارجہ پالیسی کے تسلسل کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ خارجہ پالیسی کے لیے بنیادی نقاط پر توجہ دینی ہوگی۔ پاکستان کو ایک مضبوط فیڈریشن بن کر اُبھرنا ہے۔ داخلی نظام بہتر ہوگا تو عوام اور ریاست کا رشتہ بہتر ہوگا۔ ملک کو درپیش موجودہ چیلنجز سے نبردآزما ہونے کے لیے ماضی سے گہری آگاہی ضروری ہے۔ پاکستان فلاحی ملک بننا تھا۔ یہی قائد اعظم کا تصور پاکستان تھا، جنہوں نے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ پاکستان سب کا دوست ملک ہوگا۔ تاہم پاکستان کی سیاست میں آج تک تقسیم برصغیر کی گہری چھاپ ہے۔ پاکستان کے وجود کو پہلے دن سے خطرات لاحق ہوگئے، جس کی وجہ سے پاکستان نے اپنے دفاعی استعداد کار کو بڑھانے کے لیے مغربی بلاک سے مضبوط تعلقات قائم کیے۔ پہلے وزیر اعظم خان لیاقت علی خان نے ملک کو درپیش خطرات کے پیش نظر یہ اقدام لیے۔ تاہم اب دنیا یکسر بدل گئی ہے۔ چین امریکہ کی ہی طرح نہ صرف ایک عسکری قوت ہے بلکہ معاشی قوت بھی ہے۔ معروضی حالات میں پاکستان غیر جانبداری کی پالیسی اختیار کرسکتا ہے۔


پروفیسر ڈاکٹر خالدہ غوث نے کہا کہ ہر ادارے کی کارکردگی تسلی بخش نہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پالیسیوں میں تسلسل نہیں ہے۔ ملک میں جب تک پالیسی سطح پر تسلسل اختیار نہیں کیا جائے گا، ہمارے مسائل کم نہیں ہوں گے۔ ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان نے کبھی امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے ساتھ گہرے روابط قائم کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں نہیں کی ہیں۔ تجارت بڑھانے کے لیے، اور امریکہ سمیت تمام بڑے ممالک کی منڈیوں تک رسائی کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں لیے ہیں۔ ہماری خارجہ پالیسی درحقیقت ایک ردعمل دینے والی پالیسی ہے۔


کموڈور (ر) سدید انور ملک نے کہا کہ جمہوریت کو وقت دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات اچھے بنانے بے حد ضروری ہیں۔ ہمیں چین سمیت افغانستان اور ایران سے گہرے روابط قائم کرنے ہوں گے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کو جلد از جلد مکمل کرنا ہوگا تاکہ اس میں دیگر ممالک کو بھی شریک کیا جاسکے۔ کشمیر محض ایک خطہ نہیں بلکہ پاکستان کی شہ رگ ہے۔ بڑے مقصد کے حصول میں قوم کو طویل عرصہ میں تیار کیا جاتا ہے۔
سینیٹر عبدالحسیب خان نے کہا کہ کاروباری طبقے کو سہولیات اور اعتماد دینے سے ہی ممالک ترقی کرتے ہیں۔ آج کی دنیا میں ممالک کے تعلقات باہمی تجارت پر منحصر کرتے ہیں۔ پاکستان امریکہ پر اپنی دفاعی اور سفارتی ضروریات کے لیے انحصار کرتا ہے۔ اس کے علاوہ برآمدات کے لیے بھی امریکہ کا محتاج ہے۔ پاکستان کے اقتصادی معاملات درست کرنے کی ضرورت ہے ۔ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالامال ہے۔ جب تک وہاں کے لوگوں کو جائز حصہ دے کر ملکی ترقی کا حصہ نہیں بنایا جائے گا، پاکستان ترقی نہیں کرے گا۔


ڈاکٹر امجد جعفری نے کہا کہ خارجہ پالیسی کے دو لوازمات ہیں، جس میں سب سے اہم بھرپور سیاسی نظام ہے۔ سیاسی نظام کی وجہ سے ملک میں بدعنوانی بھی بڑھی۔ سفارش، رشوت کا سختی سے محاسبہ کرنا ہوگا۔
کرنل(ر) مختار احمد بٹ نے کہا کہ ماضی کو بھول کر آگے بڑھنا ہوگا۔عوام کے اندر پاکستانی افواج کے خلاف رائے ہموار کرنے کی عالمی کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان چین اور امریکہ دونوں سے گہرے اقتصادی تعلقات قائم کرسکتا ہے، بشرطیہ تمام حصول یافتگان قومی مفاد کے حوالے سے یکساں موقف اختیار کریں۔
شیخ محمد عثمان دموہی نے کہا کہ بدقسمتی سے غریب ممالک کی کبھی آزاد خارجہ پالیسی نہیں ہوتی۔اسی لیے دنیا میں بین الاقوامی ادارے قائم کیے گئے تاکہ ہر ایک کی سنوائی ہوسکے۔ لیکن وہاں بھی طاقتور ممالک اپنی مرضی و منشاء چلاتے ہیں۔ ماضی میں سوویت یونین پاکستان کو وہ تجارتی فوائد نہیں دے سکتا تھا جو امریکہ اور یورپ سے ملا۔ لیکن اب حالات ایک دم مختلف ہیں۔ چین امریکہ کی طرح عسکری قوت ہونے کے ساتھ ایک بڑی اقتصادی طاقت بھی ہے۔ پاکستان پر امریکہ یا کوئی دوسرا ملک ویسے من مانی نہیں کرپائے گا جیسے پہلے کے ادوار میں ہوتا رہا۔یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ امریکہ ہمارا دشمن نہیں ہے۔
ابن الحسن رضوی نے کہا کہ ملک میں جدت پر مبنی حل اختیار کرنا ہوں گے۔ ہائیڈروجن اکانومی بنانا ہوگی تاکہ درآمدی تیل پر انحصار کم ہو۔ اقوام پر خوشی اور صدمات کا اثر گہرا ہوتا ہے۔ جنہیں جواز بناکر اقوام ترقی کرتی ہیں۔ ہم ۱۶ دسمبر کا درد بھول گئے۔
=============================

کیپشن :۔

پروفیسر ڈاکٹر سید جعفر احمد اورکموڈور (ر) سدید انور ملک آن لائن کے ذریعے پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالد کی زیر صدارت شوریٰ ہمدرد کے اجلاس میں “تبدیلی سیاسی رجحانات اور پاکستان کی خارجہ پالیسی” کے موضوع پر خطاب کر رہے ہیں۔ ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر مسز سعدیہ راشد، سینیٹر عبدالحسیب
خان بھی ہمدرد کارپوریٹ ہیڈ آفس کراچی میں ہونے والے اجلاس میں شریک ہیں۔

===================================