ریٹائرڈ سرکاری افسران کے تجربات مہارت اور خدمات سے استفادہ کیا جائے

تحریر۔۔۔شہزاد بھٹہ
=================
پاکستان میں سرکاری ملازم کو عمر کے ساٹھ سال ھونے پر ملازمت سے ریٹائرڈ کر دیا جاتا ھے اور اس کو اپنے گھر والوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ھے جو اس سینئر ترین تجربہ کار بندہ کو بازار سے سبزی گوشت و دیگر گھریلو کاموں میں لگا دیتے ھیں جبکہ دنیا بھر میں جوں جوں بندے کی عمر بڑھتی ھے اس کا تجربہ اور مہارت میں بھی اضافہ ھوتا جاتا ھے اور اس کی مارکیٹ ویلیو میں بھی بڑھتی جاتی ھے تقریباً ھر شعبہ میں سینئر سیٹزن/ ٹیکنوکریٹ سے خدمات لی جاتی ھیں اور ان کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جاتا ھے


جبکہ پاکستان جیسے ملک میں تجربہ کار افراد کو ساٹھ سال پورے ھونے پر ناکارہ سمجھ کر پھینک دیا جاتا ھے۔ اور یوں وہ اخبارات پڑھنے اور ٹی وی دیکھنے تک رہ جاتا ھے یا پھر وہ اپنے پوتے پوتیوں نواسے نواسیوں کے ساتھ مصروف رہتے ھیں


پاکستان میں صرف اعلی سول و ملٹری بیورو گریٹس ججز ریٹائرڈ ھونے کے بعد مختلف منافع بخش پراجکیٹس پر تعینات ھوتے ھیں تو پھر باقی مختلف محکموں و شعبہ جات کے ٹیکنوکریٹس، ماھرین تعلیم ، ماھرین زراعت ،ماھرین صحت و دیگر کی صلاحیتوں اور تجربات سے ریٹائرمنٹ کے بعد فائدہ کیوں نہیں اٹھایا جاسکتا حالانکہ حکومت ان ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کو پنشن تو دی رھی ھے


تجویز دی جاتی ھے کہ حکومت خاص طور پر تعلیم، صحت،تعمیرات، زراعت وغیرہ کے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین و ماھرین پر مشتمل ضلعی اور تحصیل لیول پر مختلف کونسل تشکیل دی جائیں تاکہ وہ اپنے تجربہ کی بناء پر تعلیم صحت و دیگر شعبہ جات کو درپیش مسائل کو


حل کرنے میں مدد گار ثابت ھو سکیں اور ان محکمہ جات کی تعمیر و ترقی میں اپنے تجربات اور مہارت کی روشنی میں نمایاں کردار ادا کرتے رھیں


یاد رھے کہ حکومت پنجاب نے کچھ سال پہلے پاکستان آرمی کے سابقہ نان کمیشنڈ افسران کو محکمہ تعلیم کے اداروں کی انسپکشن/ مانیٹرنگ پر مامور کیا تھا جو پنجاب بھر کے سکولز میں وزٹ کرتے حاضری کے ساتھ دفتری ریکارڈ اور کلاس رومز کو بھی وزٹ کرتے رھے ھیں حالانکہ ان سابقہ آرمی ملازمین کو تعلیمی معاملات کی اے بی سی کا بھی معلوم نہیں ھوتا پھر بھی یہ مانیٹرنگ کا سلسلہ کئی سال جاری رھا بلکہ اب بھی جاری ھے


لہذا حکومت پنجاب کو چاھیے کہ ریٹائرڈ سرکاری سول افسران و ملازمین کو اپنے اپنے شعبوں کی بہتری و ترقی کے لیے مختلف انسپکشن و ترقیاتی منصوبوں تشکیل دینے والی کمیٹیوں میں شامل کر کے ان کے تجربات مہارت اور مشاہدات سے فائدے اٹھائے اور اس سے نوجوان افسران کو اپنے سینئرز سے سیکھنے کے مواقع ملیں
===================================