شیخ زید وومن اسپتال لاڑکانہ میں عرب امارات کی امداد سے تیار کردہ یونٹ ون متعلقہ انچارج کی مبینہ نااہلی کے باعث شروع نہیں کیا جاسکا سینکڑوں مریض عرصہ دراز سے دیگر وارڈز میں دھکے کھانے پر مجبور،


لاڑکانہ محمد عاشق پٹھان
=====================
شیخ زید وومن اسپتال لاڑکانہ میں عرب امارات کی امداد سے تیار کردہ یونٹ ون متعلقہ انچارج کی مبینہ نااہلی کے باعث شروع نہیں کیا جاسکا سینکڑوں مریض عرصہ دراز سے دیگر وارڈز میں دھکے کھانے پر مجبور، ایئرکنڈیشنرز اور دیگر سامال بھی


متعلقہ انچارج کے اسٹور میں پڑے پڑے ناکارہ ہوگیا، شدید گرمی کے باعث مریض بے حال، یونٹ انچارج کے دیگر ایچ او ڈیز، ڈاکٹرز، طلبہ اور عملے سے بھی آئے روز جھگڑے

اور اختلافات معمول، بدنظمی کے باعث اسپتال کا نظام درہم برہم متاثرہ مریضوں کیجانب سے اعلی حکام سے نوٹس کی اپیل تفصیلات کے مطابق لاڑکانہ شیخ زید وومن اسپتال میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث متحدہ عرب امارات کی امداد سے اسپتال میں یونٹ ون کا نیا بلاک بنایا گیا جس کا افتتاح گزشتہ ماہ عرب امارات قونصلیت کراچی کے کونسلر بخیت الرمیثی نے کیا تاہم یونٹ ون کا کام مکمل ہوئے ایک ماہ گزر جانے کے باوجود اسکا آغاز نہیں کیا جاسکا جبکہ سینکڑوں مریض عرصہ دراز سے دیگر یونٹس اور وارڈز میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، متعلقہ اسپتال کے دیگر عملے، ڈاکٹرز اور ایچ او ڈیز نے شناخت ظاہر نہ کرنے پر بتایا کہ سابق رجسٹرار جامع بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر شاہدہ مگسی شیخ زید وومن اسپتال کے یونٹ ون کی موجودہ انچارج ہیں اور ڈاریکٹر پوسٹ گریجویٹ بھی ہیں، تاہم ڈاکٹر شاہدہ مگسی دو بار رجسٹرار جامع بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اور بیک وقت چیئرمین شعبہ گائیناکالوج ائینڈ آبسٹیٹرکس بھی رہ چکی ہیں جبکہ انکے شوہر عنایت مگسی انہی کے ماتحت ڈپٹی رجسٹرار بھی رہ چکے ہیں اور اس وقت فارنسک میڈیسن کے


اسسٹنٹ پروفیسر ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر شاہدہ ڈاکٹرز کی نجی تنظیم سوسائیٹی آف گائیناکالوجسٹس پاکستان کے 30 مئی کو ہونے والے انتخابات میں ایگزیکٹو میمبر کی امیدوار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ شیخ زید وومن اسپتال کا یونٹ ون افتتاح کے باوجود غیر فعال ہے اور سینکڑوں مریض شدید گرمی میں دیگر یونٹس میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں ذرائع کا کہنا ہے ڈاکٹر شاہدہ مگسی نے اسپتال کے متعدد سرکاری ائیر کنڈیشنرز اور دیگر آلات و سامان اسپتال کے اپنے اسٹور میں رکھا ہوا ہے جبکہ مریض 50 ڈگری سیلسس کی شدید گرمی میں بغیر ائیر کنڈیشنرز کے تکالیف کا سامنا کر رہے ہیں، ذرائع کے مطابق شیخ زید وومن اسپتال میں ڈاکٹر شاہ کے دیگر یونٹس انچارجز، عملے، پوسٹ گریجوئیٹس اور جونئیر ڈاکٹرز سے اختلافات اور تلخ کلامیاں اس قدر معمول ہیں کہ اسپتال کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے، سیاسی اثر رسوخ رکھنے والی ڈاکٹر شاہدہ مگسی کے ماضی میں وائس چانسلر جامعہ بینظیر بھٹو اصغر علی چنہ اور موجودہ وائس چانسلر پروفیسر انیلا عطاالرحمان سے بھی شدید اختلافات رہے جس کے باعث مبینہ طور پر انہیں انکے عہدوں سے مستعفی ہونے کا کہا گیا


جبکہ نمرتا کماری کی ہلاکت معاملے پر انکے شوہر عنایت مگسی کی ڈاکٹر دیالی گل سے گفتگو کرتے ایک متنازع ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں انہوں نے جانبحق طالبہ نمرتا کماری کے متعلق غیر مصدقہ گفتگو کی تھی، ڈاکٹر شاہدہ مگسی کے سیاسی طور پر با اثر ہونے کے باعث یونیورسٹی انتظامیہ، میڈیکل سپریٹنڈنٹ سمیت محکمہ صحت انکے تمام اقدامات کے سامنے بے بس ہے دوسری جانب شیخ زید وومن اسپتال کے مریضوں کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ انکے اسپتال میں آنے والے مریضوں کو سہولیات فراہم کی جائیں اور اسپتال کے یونٹ ون کا فوری آغاز کیا جائے ۔
==========================