کے ایچ خورشید کی پیشن گوئی اور یاسین ملک کی سزاء ۔۔؟


سچ تو یہ ہے
==========

بشیر سدوزئی،
==============

1986ء میں افغانستان میں سویت یونین کے ساتھ جہاد گرم تھا۔ ضیاء رجیم کو خیال آیا کہ کیوں نہ مقبوضہ کشمیر میں بھی اسی طرح کا ایک اور محاذ کھولا جائے۔ منصوبہ بندی شروع ہوئی مختلف تنظیموں اور رہنمائوں کے ساتھ رابطے بھی ہونے لگے۔ اس وقت کے بااختیار اور ذمہ دار افسران نے کے ایچ خورشید سے بھی رابطہ کیا اور کہا کہ آپ مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو منظم اور قیادت کریں۔ کے ایچ خورشید نے مشروط آمادگی ظاہر کی، ان کا موقف تھا کہ سفارتی حکمت عملی تیار کئے بغیر مقبوضہ کشمیر میں مسلحہ جدوجہد شروع کرنا کشمیریوں کا معاشی، سماجی اور جانی تین ایسے ناقابل برداشت نقصان ہوں گے جس کے بعد کشمیریوں کو دوبارہ کھڑے ہونے میں سالوں نہیں صدیاں درکار ہوں گی اور آزادی کی منزل بہت دور چلی جائے گی ۔اگر آزاد کشمیر حکومت کو ڈوگرہ کی جانشین حکومت کے طور پر تسلیم کر کے دنیا بھر میں سفارت خانے کھولے جاتے ہیں اور مذاحمت کاری کے ساتھ سفارت کاری بھی کشمیریوں کے یاتھ میں دی جاتی ہے تو پھر تحریک شروع اور بھارت کو شکست دی جا سکتی ہے ۔ سفارتی کاری کے اختیار کے بغیر میں، مقبوضہ کشمیر میں مسلحہ جدوجہد شروع کرنے کے حق میں نہیں ، بھارت میری قوم کو ریاستی طاقت سے بے دردی سے قتل بھی کرے گا


اور کچل بھی دے گا۔کشمیری جسمانی، معاشی اور سماجی طور پر بہت کمزور ہو جائیں گے ۔ جب کے ان کی خبر گیری کرنے والا بھی کوئی نہیں ہو گا۔ اس وقت ارباب اختیار کو قائد اعظم کے شاگرد کی یہ بات سمجھ میں نہیں آئی یا وہ سمجھنا نہیں چاتے تھے وہ مختار قل تھے اس لیے صاحب عقل بھی۔ بغیر منصوبہ بندی کے تحریک چلانے کے لیے اور کئی گروپ تیار ہوئے جو نوجوان بھی تھے اور جذباتی بھی۔ اس وقت تک کشمیری معاشرے میں مذہبی اور سیاسی نظریاتی تقسیم کے باوجود ہم آئینگی بھائی چارگی تھی، جموں لداخ اور وادی سب ایک تھے، کشمیری بھارتی یونین میں اندورنی خود مختاری کے ساتھ ہل والے لال جھنڈے کے سائے میں زندگی گزار رہے تھے اور کچھ سیاسی رہنماء آزادی کی بات بھی کرتے۔ منصوبہ سازوں کی یقین دہانی پر یاسین ملک، اشفاق مجید وانی، جاوید میر نے کچھ اور نوجوانوں کو ساتھ ملا کر مسلحہ جدوجہد شروع کر دی۔ اشفاق مجید وانی کو شہید کر دیا گیا، جاوید میر نے راستہ جدا کر لیا، چند سال بعد جب یاسین ملک کو اندازہ ہوا کہ کامیاب سفارت کاری اور مضبوط سیاست کاری کے بغیر مسلحہ جدوجہد کو جاری رکھنا قوم کو ختم کرانے کے مترادف ہے ۔ اس وقت تک یاسین ملک کے 600 سے زیادہ کارکن شہید ہونے کے باوجود نتائج صفر تھے۔ پھر مولویوں نے مسلحہ جدوجہد کو جہاد کا نام دے کر مذاحمتی تحریک اپنے ہاتھ میں لے لی تو جموں اور لداخ ہی نہیں بلکہ کشمیر کے قدیم اور اصل باشندے پنڈت بھی اس جہاد سے الگ اور کشمیری نظریاتی و عملی طور پر تقسیم ہو گئے۔ گویا کشمیریوں نے ریاست کو اپنے ہی ہاتھوں تقسیم کر دیا، 32 سال ہو گئے ہیں اس تحریک کو اس میں یہ اضافہ ہوا کہ بھارتی دستور میں اسپیشل ایکٹ بھی ختم ہو گیا۔ لگ بھگ پونے دو سو سال بعد کشمیر کا خود مختار ریاستی حیثیت ختم اور سری نگر کے لال چوک سے سرخ جھنڈا اتر گیا۔


36 سال قبل درویش صفت صوفی منش انسان کے ایچ خورشید نے جو کہا تھا حرف بہ حرف سچ ثابت ہو رہا ہے ۔ ایک لاکھ بچوں کو بھارت نے گاجر مولی کی طرح کاٹا ،کتنے ہیں جن کی میتیں بھی ورثہ کو نہیں ملی۔ مقبوضہ کشمیر کے جنگلات اور ویرانے گم نام قبروں سے اور بھارت بھر میں ٹارچر سیل جوانوں سے آباد ہو گئے،۔اس سے بڑا جانی نقصان کیا ہو سکتا ہے ۔ سیاحت گلہ و غلہ بانی ختم ہو گئی جو کشمیر کی معشیت تھی، مجموعی طور پر 40 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، معشیت میں اس سے بڑا کیا نقصان ہوگا ۔ سماجی نقصان کو سمجھنے کے لیے کنن پوش پورا گاوں کا حوالہ کافی ہے کہ واقعہ کے 30 سال بعد بھی اس گاوں کے بچوں کو اسکول میں دوسرے گاوں کے بچے پوچھتے ہیں کہ آپ اجتماعی ریپ کے گاوں کے بچے ہو۔ جو کشمیری ہے وہ کنن پوش پورا کے واقعہ کی تپش کو محسوس کرتا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کا ہر گاوں کنن پوش پورا جیسے ہی بنا دیا گیا۔ 25 مئی 2022ء کو یاسین ملک کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی ۔ اس کا جرم ہے کہ اقوام عالم کی جانب سے دئے گئے حق، خود ارادیت کا مطالبہ کیوں کیا۔ تعجب ہے کہ اقوام متحدہ کشمیریوں کے ساتھ واعدہ کر کے ان سب مظالم پر خاموش ہے جیسے وہ فریق ہی نہیں ۔۔ یاسین ملک اس وقت نوجوان تھا کے ایچ خورشید کی بات سمجھ نہ سکا اگر منصوبہ سازوں سے اس وقت مسلحہ جدوجہد شروع کرنے سے قبل سفارتی کاری کا اختیار بھی لیا ہوتا تو آج یاسین ملک کے سفراء دنیا بھر میں واویلا کر رہے ہوتے، اقوام متحدہ میں ، بین الاقوامی عدالت میں، انسانی حقوق کے عالمی اداروں میں کسی جگہ تو شنوائی ہوتی۔ لیکن آج تو دنیا کو خبر ہی نہیں کہ ایک قوم کی آزادی کا گوریلا اور اب سیاسی لیڈر جس نے عالمی برادری کی ضمانت پر پرامن سیاسی جدوجہد شروع کی اس جرم میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے جو اس نے کیا ہی نہیں ۔ بس یاسین ملک ہی نہیں، مسرت عالم بٹ بھی ہے، شبیر شاہ بھی آسیہ اندرابی اور ڈاکٹر قاسم فکتو بھی سب برسوں سے تہاڑ جیل میں ہیں، سب کو سزائیں دی جائیں گی دہشت گردی کے الزام میں، آسیہ اندرابی بھی دہشت گرد ہے جو عالم باعمل ہے، جو صاحب بصیرت ہے بھارت کی نظر میں وہ دہشت گرد ہے ۔ اس صورت حال میں کشمیریوں کے لیے دنیا میں آواز بلند کرنے کا کوئی ادارہ یا جان دار آواز نہیں ۔ منصوبہ سازوں کی روحانی باقیات قراردادیں پاس کررہی ہیں اور کشمیر کی خاطر ہزار سال جنگ کا اعلان کرنے والوں کے وارث خاموش۔ مولانا نے تو کہہ ہی دیا کہ میں کیا کروں بندوق لے کر مقبوضہ کشمیر چلا جاوں۔ ہم نوا کہتے تھے کہ عمران خان نے کشمیر بھیچ دیا ۔اب تم صاحب اختیار ہو کیا کیا یاسین ملک کی عمر قید کی سزا کا۔ کچھ کر بھی نہیں سکتے سوائے بیان بازی کے۔ تاشقند، شملہ اور لاہور میں لکھ جو دیا کہ مسائل باہمی دوستی اور رضامندی سے حل کریں گے۔ بھارت پاغل نہیں جو کشمیر آپ کو دینے میں راضی ہو جائے ۔۔ کشمیریوں کو سمجھنا چاہئے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک کبھی بھی ایک ملک چھوٹا اور ایک بڑا کرنے میں ان کا ساتھ نہیں دے گا اور جب تک آپ خود اپنی آزادی کی بات نہیں کرتے اور اس بات کو سمجھانے کے لیے سفارت کاری نہیں کرتے دنیا کو قائل نہیں کر سکتے، اب جو بھی کچھ کرنا ہے سری نگر کے عوام ہی نے کرنا ہے جموں، لداخ، گلگت بلتستان، اور آزاد کشمیر کو کیسے جوڑنا ہے اور اس تحریک میں دی گئی قربانیوں کو کیسے محفوظ کرنا ہے ذرا غور فرمائیں کہ موجودہ حالات میں کے ایچ خورشید کا نظریہ ہی آپ کی ڈوبتی کشتی کو منجدھار سے نکال سکتا ہے اس میں آزاد کشمیر کے عوام آپ کے ساتھ ہو سکتے ہیں، لیڈر نہیں ۔لیڈروں کے پیسے اسلام آباد کے محلات میں لگے ہوئے ہیں جیسے پاکستانی لیڈر کے یورپ اور امریکا میں اسی لیے وہ منہ نہیں کھول سکتے ۔۔۔۔۔خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد ۔۔۔
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔ یاسین ملک کٹہرے میں کھڑا تھا اور بیس کیمپ کا وزیر اعظم اسلام آباد کے کنٹینر پر خود ہی سمجھ جاو کہ راجہ فاروق حیدر، ہو یا تنویر الیاس، سب ایک ہی بس کے سوار ہیں جس کا رخ سری نگر نہیں اسلام آباد ہے۔
==============================