خان مطالبات پورے کئیے جانے کی اسٹیبلشمنٹ کی گارنٹی پر اسلام آباد پر قبضہ کرنے کے بعد لوٹے ؟


رپورٹ : آفاق فاروقی
==================

عمران خان نے وفاق کی اکائ کے پی کے ، کے چند ہزار افراد پر مشتمل ایک جھتے کے ساتھ ملکر پورے وفاق پر سولہ گھنٹے کی لڑائ کے بعد الصبح قبضہ کرکے اس شرط پر واپس جانے کا اعلان کردیا ہے کہ اگلے چھ روز میں اسمبلیاں تحلیل کرکے عام انتخابات کا اعلان نہ کیا گیا تو وہ پھر واپس آئیں گے ، انہوں نے کہا ہے میری پارٹی کو ممی ڈیڈی کہا جاتا تھا مگر جسطرح میرے کارکنوں نے رات بھر آنسو گیس لاٹھی اور پولیس کا دیگر تشدد برداشت کیا وہ اپنی مثال آپ ہے ، انہوں نے اسلام آباد سے واپسی سے قبل جناح چوک پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہا جاتا تھا امریکہ کی مرضی کے بغیر کوئ حکومت نہیں بنا سکتا


امریکہ اگر ساتھ نہیں ہوگا تو یہ ملک نہیں چل سکتا مگر اب قوم متحد ہوکر ثابت کررہی ہے وہ نہ پولیس گردی سے ڈرنے والی ہے نہ کسی اور خوف کے سامنے جھکے گی انہیوں نے سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا اگر وہ مداخلت نہ کرتی تو “ چور حکومت اس ملک میں انتشار پھیلانے میں کامیاب ہوجاتی ، انہوں نے پوچھا وہ کونسا جمہوری ملک ہے جہاں پرامن احتجاج پر پابندی ہے ؟ ہم نے تو مولانا فضل الرحمان اور بلاول کے لانگ مارچ اور دھرنوں میں کوئ رکاوٹ نہیں ڈالی تھی ، ذمہ دار ذرائع کو دعوی ہے عمران خان نے ڈی چوک پہنچ کر دھرنا لگانے کا ارادہ اسٹیبلشمنٹ سے در پردہ مذاکرات میں ملنے والی اس ضمانت کے بعد ختم کیا ہے کہ اگلے چند دن میں اتحادی حکومت ختم کرکے نئے انتخابات کا اعلان کردیا جائے گا


، زرائع دعوی کرتے ہیں عمران خان جو کے پی کے سے ایک قافلے کے ہمراہ اسلام آباد دھرنا دینے کے لئیے رات ایک بجے کے قریب اسلام آباد پہنچ گئے تھے مگر اپنے دعوی کے مطابق کے وہ ہر صورت ڈی چوک پہنچ کر دھرنہ دیں گے ڈی چوک کے قریب پہنچ کر بھی ڈی چوک جانے سے گریز اس لئیے کرتے رہے کہ انکے اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان در پردہ مذاکرات جاری تھے اور جب لو اور دو کی بنیاد پر یہ مذاکرات الصبح کامیاب ہوگئے تو عمران خان نے ڈی چوک کے قریب پہنچ کر دھرنہ نہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے اپنی واپسی کا اعلان یہ کہکر کیا ہے کہ اگر عام انتخابات کا اعلان اگلے چھ روز میں نہ کیا گیا تو وہ پھر بیس لاکھ لوگوں کے ساتھ واپس آئیں گے ، انہوں نے کہا ہے سپریم کورٹ نے پر امن احتجاج کرنے پر کسی بھی رکاوٹ کھڑی کرنے پر پابندی لگا دی ہے اور آئندہ جب وہ آئیں گے تو انکے ساتھ پورا پاکستان ہوگا ، عمران خان کے جھتے کو اسلام آباد پہنچنے میں مدد دینے کے لئیے سپریم کورٹ نے جہاں راستے کی تمام رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دیا تھا وہیں اپنے حکم میں کہا تھا عمران خان ریڈ زون سے پیچھے کسی گراونڈ میں جلسہ کرسکتے ہیں مگر دھرنہ دینے ڈی چوک نہیں آسکتے تاہم عمران خان نے سپریم کورٹ کا حکم ماننے سے انکار کرتے ہوئے ہر صورت ڈی چوک پہنچنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے اپنے کارکنوں اور حمایتوں کو بھی ڈی چوک پہنچنے کی ہدایت کی تھی ، ادھر حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد جہاں ایک طرف راستوں پر لگی


رکاوٹیں ختم کرکے الصبح پولیس رینجرز بھی ہٹا لی تھی وہیں آئین کے آرٹیکل 245 کے ذریعے فوج کو بھی ریڈ زون کی حفاظت کے لئیے طلب کرلیا تھا جس کے بعد کہا جاتا ہے فوج نے کسی بڑے تصادم سے بچنے کے لئیے عمران خان سے در پردہ مذاکرات کرکے انہیں انکے مطالبات پورے کیے جانے کی شرط پر ڈی چوک میں دھرنہ دینے سے باز رہنے پر رضا مند کیا ، جبکہ عدالت کے حکم کے بعد حکومت پولیس رینجرز اور ریاست کے دیگر تمام اداروں نے عمران خان اور انکے جھتے کو ڈی چوک آنے سے روکنے کُے لئیے رات بھر آنسو گیس لاٹھیوں سے مقدور بھر کوشش کی تاہم خان کے جتھے کے پہلے سے ڈی چوک آئے افراد نے غلیلوں سے پتھر برسا ، اور مٹی کے تیل پیٹرول سے اطراف میں آگ لگا کر ریاست کے تمام اداروں کو بے بس کردیا ، جبکہ خان کی جانب سے وفاق پر حملے کے لئیے پنجاب سندھ اور بلوچستان سے راستے کی رکاوٹوں کے باعث کوئ مدد نہیں پہنچ سکی ،البتہ لاہور کراچی اور کوئٹہ حیدر آباد میں خان کے جنونیوں نے جن میں خواتین کی ایک بڑی اکثریت شامل تھی ریلیاں احتجاجی مظاہرے کرنے کی کوششش کی تاہم مذکورہ علاقوں کی سیکورٹی فورسز نے خان کے وحشیوں پر باآسانی قابو پالیا ، کے پی کے جہاں گزشتہ بیس سال سے وحشی طالبان کا زور ہے اور جنہوں نے ملک کے طول و عرض میں قائم مذہبی مراکز تعلیمی اداروں بازار اور جنازہ گاہوں سے قبرستان تک ، درجنوں سینکڑوں خودکش دھماکے کرکے اسی ہزار سے زائد افراد کو قتل کردیا تھا اور ان مرنے والوں میں چھ ہزار سے زائد فوجی بھی شامل ہیں ، اس علاقے کے باشندے جہاں ایک طرف طالبان اور انکی مذہبی سوچ رکھنے والی دیگر


مذہبی جماعتوں کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں تو دوسری طرف وحشی طالبان کی حمایت کرنے والے عمران خان کی بھی حمایت کرتے ہیں اور علاقے میں دھشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی اپنی سیاسی حمایت خان کے پلڑے میں ڈالتے ہوئے گزشتہ دو انتخابات میں عمران خان کی سیاسی پارٹی پاکستان تحریک انصاف جسے طالبان کا سیاسی ونگ تصور کیا جاتا ہے کے حق میں ووٹ ڈالکر حکومت بنانے میں بھی مدد فراہم کرچکے ہیں ، عمران خان کی جماعت کو جہاں کے پی کے میں بڑی عوامی حمایت حاصل ہے وہیں پنجاب کے ان علاقوں میں بھی پزیرائ حاصل ہے جو کے پی کے سے ملحقہ ہیں اور جہاں رہنے والوں کی ایک بڑی آبادی کے پی کے سے تعلق رکھتی ہے اور اس علاقے سے بھی دو ہزار اٹھارہ کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کی حمایت میں ووٹ ڈالا گیا تھا ان علاقوں میں راولپنڈی اور اسلام آباد بھی شامل ہیں اور عمران خان کی جانب سے اسلام آباد پر قبضے کی جنگ میں ان علاقوں کے عوام کی حمایت شامل بتائ جاتی ہے جبکہ پاک فوج میں انتہا پسند طبقے کی حمایت بھی عمران خان کو حاصل ہے جو خان کے ذریعے ملک میں طالبانی نظام کے خواہاں ہیں ، اور فوج میں موجود اسی انتہا پسند طبقے کے دباؤ پر گزشتہ عام انتخابات کو ہائ جیک کرکے عمران خان اور انکی پارٹی کو ملک پر حکومت قائم کرنے کا موقع فراہم کیا تھا ، جس کی پونے چار سالہ مدت کے دوران عمران خان ریاست مدینہ کا نام لیکر روسی چینی اور سنگاپوری نظام قائ٘م کرنے کی کوشش کرتے رہے جہاں اقتدار کا سرچشمہ ایک فرد ہوتا ہے ، تاہم انکی اس کوشش کے دوران ملکی معشیت ہی تباہ نہیں ہوئ بلکہ سماجی تفریق کے ساتھ سیاسی نفرتیں بھی عروج پر پہنچ گئیں جسکے بعد انہیں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومت سے الگ کردیا گیا ، کہا جارہا ہے ، ملک میں موجود اتحادی حکومت ،



عدلیہ فوج سے مایوس ہوکر وفاق سے عمران خان کا قبضہ چھڑانے کے لئیے اپنی ایک حمایتی انتہا پسند جماعت جمعیت علمائے اسلام سے مدد مانگنے پر غور کررہی ہے جسکے کارکنوں کی اصل قوت مدرسوں کے طلبا پر مشتمل ہے اور کہا جاتا ہے ریاست کے سیکورٹی کے ادارے طالبان کے بعد اگر کسی سے خائف ہیں تو وہ مدرسوں سے تعلق رکھنے والی یہ مخلوق ہے جنکا نظریاتی تعلق بھی طالبان سے جوڑا جاتا ہے اور اس سیاسی مذہبی جماعت کا مرکز بھی کے پی کے ہی ہے ، تاہم جمعیت علمائے اسلام کی قیادت پاکستانی آئین کی روشنی میں ملک میں اسلامی نظام نافذ کرنے کی حامی ہے جبکہ تحریک انصاف پر الزام ہے کہ یہ سیاسی جماعت جمہوریت کا سہارا لیکر ملک پر قبضے کی خواہش مند ہے مگر جمہوریت کی کسی اقدار کو تسلیم نہیں کرتی
===============================