عمران خان کا لانگ مارچ ۔۔ہلچل کیوں ہے

تحریر ۔۔۔۔شاہد غزالی

===================
پاکستان تحریک انصاف کے چیٸرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے ملک بھر میں اپنے سیاسی جلسوں کے بعد بلاخر اسلام آباد لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کردیا ہے ۔انھوں نے پاکستان بھر کے عوام کو 25 مٸی کو اسلام آباد نے کی دعوت دے ہے انھوں نے کارکنان کو واضح ہدایت کی ہے کہ وہ راستے میں کسی قسم کی توڑ پھوڑ نہ کریں کیونکہ یہ ہماراملک ہے اور اگر ہمارے مارچ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گٸی تو قانونی کارروائی کریں گے ۔دوسری جانب اتحادی حکومت میں اس اعلان کے بعد ایک ہلچل مچ گٸی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ نٸے پاکستان کے دعویداروں نے پرانا پاکستانيوں بھی تباہ کردیا ہے عمران خان خانہ جنگی چاہتا ہے قوم اسے معاف نہیں کرٸے گی ۔مریم اورنگ زیب کہتی ہیں جب ہماری مرضی ہوگی انتخاب کراٸیں گے۔ عمران خان کا اس لانگ مارچ اور احتجاج کے حوالے سے صرف ایک مطالبہ ہے کہ فوری طور پر عام انتخابات کا اعلان کیا جاٸے وہ موجودہ حکومت کو ہر گز تسلیم نہیں کریں گے۔ ملک کے عوام دونوں فریقین کی سیاست سے انتہاٸی تذبذب کا شکارہیں کیونکہ آٸین وقانون کی دونوں جانب سے دھجیاں اڑاٸی جارہی ہیں۔ عمران خان کا یہ لانگ مارچ کیا رنگ لاٸے گا وہ تو چند دنوں میں معلوم ہوجاٸے گا لیکن ملک کی سیاسی صورت حال جو آج ہے


شاید قیام پاکستان کے بعد ایسا سیاسی بحران کبھی نہ آیا ہو۔ حکمران تبدیل ہوٸے تو سیاستدانوں نے ایسے ایسے داٶ پیچ کھیلے کہ آٸین وقانون بھی جنھجھلا گیا کیا درست ہے کیا غلط ۔ہر شخص کے پاس آٸین وقانون کی تشریح اس کے اپنے مفاد کی تھی ۔عدالت سے کوٸی بھی فیصلہ آٸے تو ایک فریق خوش تو دوسرا شدید ناراض کیونکہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنے معاملات کو اپنے مفادات کی آنکھ سے دیکھتا ہے اسے ملک کے آٸین وقانون سے کوٸی مطلب نہیں ۔تحریک عدم اعتماد پر الیکشن نہ کرانے پر ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی رولنگ کو سپریم کورٹ نے خلاف ضابطہ قرار دیا تو تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو بہت ناگوار گذرا کہ ان کے خلاف فیصلہ آیا اور کورٹ نے بھی ان لوگوں کا ساتھ دیا جنھوں نےایک مبینہ غیر ملکی سازش کے تحت انکی حکومت کو گرادیا۔ دوسری طرف شہباز شریف اور ان کے اتحادیوں نے اس فیصلے کو آٸین اور جمہوریت کی فتح قرار دیتے ہوٸے وفاقی حکومت تشکیل دے دی لیکن جب تحریک انصاف کے منحرف اراکین کا معاملہ عدالت میں گیا جو اپنی جماعت سے منحرف ہوکر مسلم لیگ ن کے حمزہ شریف کو وزیر اعلی پنجاب بناکر اپنی وزارتوں کے خواب دیکھ رہے تھے کہ اچانک کورٹ نے انھیں نااھل قرار دیتے ہوٸے فیصلہ دیا کہ ان کے ووٹ وزارت اعلی پنجاب کے الیکشن کے شمار نہیں ہوں گے۔


اب یہ فیصلہ بھی کورٹ کا ہی تھا لیکن اب دونوں فریقین کی راٸے تبدیل ہوگٸی تحریک انصاف جو قاسم سوری کے معاملے میں کورٹ کے فیصلے کو درست تسلیم نہیں کررہی تھی لیکن منحرفین کے خلاف فیصلہ آنے پر انتہاٸی خوش ہے اور عمران خان اس فیصلے کو اخلاقیات کی جیت قرار دیتے ہیں ۔عمران خان کوایک اور شکایت تھی کہ عدالت عدم اعتماد کے معاملے پر رات بارہ بجے کیوں لگاٸی گٸی اور انھوں نے بڑا واویلا مچایا کہ سب ہی ان کے خلاف ہو گٸے ہیں لیکن عدالت نے گذشتہ شب شریں مزاری کی گرفتاری اور مقامی ٹی وی چینل کے اینکرز ارشد شریف اور صابر شاکر کے خلاف مقدمات اور گرفتاری پر فوری نوٹس لیتے ہوٸے رات ساڑھے گیارہ بجے عدالت لگا کر ثابت کردیا کہ عدالت کسی ایک فریق کے ساتھ نہیں۔ لیکن معاملہ یہاں ختم نہیں ہوا کیونکہ عدالت کے اس ھنگامی اقدامات کو عوام اس نظر سے دیکھ رہے ہیں کہ عدالت نے شریں مزاری اور ارشد شریف کے معاملے پر رات کو عدالت لگا کر اس معاملے کو بیلنس کرنے کی کوشش کی ہے جو انھوں نے قاسم سوری اور عدم اعتماد کے معاملے میں رات عدالت لگا کر کی تھی ۔اور عوام کا یہ کہنا درست بھی ہے کہ شریں مزاری کو جس طرح دن دھاڑے بغیر وارنٹ کے گرفتار کر کے نامعلوم مقام لے جایا گیا اس طرح تو ملک کے ہزراوں شہریوں کو ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے اٹھا کر کہاں لے گٸے آج تک پتہ نہیں چلا بلوچستان کی سیاسی جماعتوں اور متحدہ قومی موومنٹ کو یہ مطالبہ کرتی رہی ہے کہ آج تک لاپتہ کیے گٸے افراد کو بازیاب کیوں نہیں کیا جاتا ۔ان کے لیے رات کو عدالت کیوں نہیں لگاٸی جاتی ۔ شاید اب عمران کا دباٶ اتنا بڑھ گیا ہے کہ عدالت بھی اپنی ساکھ کو بچانے کے لیے فوری فیصلے کرنے پر مجبور ہے ۔عمران کی روز بروز بڑھتی ہوٸی قبولیت سے تو یہ نظر آتا ہے کہ بڑے بڑے اداروں میں بھی اب ہلچل مچی ہوٸی ہے..
عمران خان کے اقتدار سے جانے کے بعد انکی مقبولیت کا گراف ایک دم تیزی سے اوپرماحول آیا ہے ۔لیکن یہ عمران خان کی خام خیالی ہے انھیں یہ مقبولیت ان کی ساڑھے تین سال حکومت کی کارکردگی کی وجہ سے نہیں ہے انھیں تو اگر مزید ڈیڑھ سال حکومت کرنے دی جاتی تووہ عوام ان سےاس قدر بے زار ہوجاتی کہ آٸندہفتہ عام انتخابات میں عمران خان بری طرح شکست کھا جاتے لیکن شاید ان کی قسمت کا ستارہ کچھ عروج پر تھا کہ اتحادی جماعتوں نے مل انھیں عدم اعتماد کی تحریک سے حکومت سے باہر کردیا لیکن عمران خان کے اس بیانیٸے نے انھیں تقویت پہنچاٸی کہ ایک مبینہ سازش کے تحت انھیں ہٹایا گیا ۔اور امریکہ کے خلاف نعرہ پاکستانی ہمیشہ پسند کرتے ہیں امریکہ اور آٸی ایم ایف کی غلامی سے عوام ہمیشہ آزادی چاہتے ہیں۔ اور عمران اب وہ واحد لیڈر ہے جو ببانگ دھل امریکہ کے غلامی سے نجات کی بات کررہا ہے ۔
عوام سابقہ حکمرانوں کی امریکہ سے دوستی اور گھٹنے ٹیکنے والی پالیسی سے مایوس اور متنفر تھے جب عمران نے ان کے دل کی بات کہی تو وہ اپنے ساڑھے تین سال کے وہ دکھ بھول گٸےجو انھوں نے عمران کی حکومت میں برداشت کیے ۔جب ملک کی آزادی اور خود مختاری کی بات سامنے آٸی تو لوگوں کی اکثریت عمران خان کی طرف نظر آنے لگی ۔عمران خان کی حکومت میں مہنگاٸی پر موجودہ حکمران پارٹی بڑا شور مچاتی رہی کہ پیٹرول آٹاچینی دال شکر سب عمران مہنگا کررہا ہے ڈالر عمران خان نے 180 تک پہنچا دیا ہے ۔


لیکن اب اتحادیوں نے حکومت توحاصل کر لی لیکن اقتدار میں آتے ہی اسے آٹے چاول کا بھاو یادآگیا ۔سارا نشہ ہرن ہوگیا انھیں معلوم ہوا کہ معاملات تو کافی پریشان کن ہیں کیونکہ وہ نہ ہی مہنگاٸی کم کرسکے نہ پیٹرول کی قیمت میں کوٸی واضح کمی کرسکے ڈالر جو 180 کاتھاA وہ بھی ان کے آتے ہی مزید اڑان اڑتے ہوٸے 200پر پہنچ گیا اورمعیشت بدترین سے بدترین ہوتی جارہی ہے ۔شہبازشریف اور اتحادیوں کی اس ناکامی کا بھی فاٸدہ عمران خان کو ہوا اور انھیں احساس ہوا کہ عمران خان کس قدر مشکلات میں حکومت چلارہا تھا۔ لیکن بدقسمتی ان اتحادیوں کی کہ سر منڈھاتے ہی اولے پڑے


اب حکمران اتحادی اس بات پر سر جوڑ کر بیٹھے ہیں کہ پیٹرول کی قیمت بڑھاٸیں یا حکومت سے ہاتھ کھینچ لیں۔
عمران خان کی اسلام آباد کال پر انھیں عوام کی جانب سے بھر پور پذیرائی مل رہی ہے لیکن حکومت اس بات کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہے وزیر اعظم شہباز شریف کی پوری کابینہ کے ساتھ لندن میں سابق وزیر اعظم نواز شریف اورسابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے ملاقات کا بھی عوام پرمنفی اثر پڑا ہے ۔کیونکہ نواز شریف اور اسحاق ڈار دونوں عدالت سے سزا یافتہ ہیں اور موجودہ حکومت ان سے ہدایت لینے لندن پہنچ گٸی تھی۔ لندن میں نواز شریف کی رہاٸش گاہ کے باہر تحریک انصاف کے کارکنان کے مظاہرے بھی حکومت پر عدم اعتماد کرتے نظر آتے ہیں۔ دوسری جانب موجودہ حکمران کی کمر وہاں پرٹوٹ گٸی جب سپریم کورٹ نے انھیں ایف آٸی اے اینٹی کرپشن اور نیب کے کیسز میں مداخلت سے روکتے ہوٸے تقرریاں اورتبادلوں کو روک دیا ۔ دوسری
عمران خان اپنی مقبولیت کے گھمنڈ میں کبھی کبھارسال آوٹ آف کنٹرول ہو جاتےہیں ان کی زبان سے یہ جملے کے عمرہ پر نہ جاو میرے ساتھ تحریک چلاو۔ دوزخ میں گیا تو گرمی نہیں لگے گی اور نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کو بھونڈے انداز میں مخاطب کرنا انھیں زیب نہٕیں دیتا انھیں اپنے انداز مہذب لیڈر کی طرح اپنانا ہوں گے ورنہ یاد رکھیں ہر عروج کو زوال ہے ۔عزت ملی ہے تو اسے برقرار رکھنا ناگزیر ہے ۔
اسلام آباد مارچ کا بگل بج چکاہے ۔پریشان حکومت کو اپنی حکمت عملی فوری طور پر ترتیب دینا ہوگی اور بہترین آپشن پرامن شفاف انتخابات کا اعلان ہے
پھر جو حکومت بناٸے سب کو اسکا بھر پور ساتھ دینا چاہیے۔
===========================================