ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور برطانیہ کی قدیم یونیورسٹی کوئین میری یونیورسٹی آف لندن میں طلبہ کے باہمی تبادلے پوسٹ گریجویٹ اور انڈر گریجویٹ پروگرام کے مختلف پروگرام اور فیکلٹی کی ٹریننگ کے امور میں تعاون پر اتفاق ہوا ہے


کراچی: ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور برطانیہ کی قدیم یونیورسٹی کوئین میری یونیورسٹی آف لندن میں طلبہ کے باہمی تبادلے پوسٹ گریجویٹ اور انڈر گریجویٹ پروگرام کے مختلف پروگرام اور فیکلٹی کی ٹریننگ کے امور میں تعاون پر اتفاق ہوا ہے ، منگل کے روز کوئین میری یونیورسٹی کے وائس پریذیڈنٹ انٹرنیشنل افئیرز ، پروفیسر کولن گرانٹ نے ڈاؤ یونیورسٹی کا دورہ کیا اور وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی سے ملاقات کی،


اس موقع پر رجسٹرار پروفیسر اشعر آفاق، ڈاؤ میڈیکل کالج کی پرنسپل پروفیسر صبا سہیل اور پروفیسر ساجد ہ قریشی اور انگلش اسپیکنگ یونین آف پاکستان کے صدر عزیز میمن بھی موجود تھے ۔ پروفیسر کولن گرانڈ اینٹ اور ڈاؤ یونیورسٹی کے حکام کی ملاقات میں خیرسگالی کے جذبات کے ساتھ باہمی تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوئی پروفیسر کولن گرانٹ نے ڈاؤ یونیورسٹی کے پوسٹ گریجویٹ اور انڈر گریجویٹ مختلف پروگراموں میں دلچسپی کا اظہار کیا اور باہمی تعاون آگے بڑھانے

پر اتفاق کیا۔پروفیسر کولن گرانٹ نے کہا کہ وہ آئندہ دورے میں یونیورسٹی کی بڑی ٹیم کے ساتھ آئیں گے اور اشتراک عمل بڑھانے کے لئے مختلف ایم او یوز پر بھی دستخط کریں گے۔ پروفیسر محمد سعید قریشی نے بتایا کہ 18 سال سے ڈاؤ یونیورسٹی پاکستان میں طبی تعلیم کے


ساتھ صحت کے شعبے میں ناصرف تحقیق کو آگے بڑھا رہی ہے بلکہ عام لوگوں کو صحت کی جدید سہولتیں بھی فراہم کر رہی ہے۔ڈاؤ یونیورسٹی صرف ایک تعلیمی ادارے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل ہیلتھ سسٹم ہے۔ پروفیسر سعید قریشی نے بتایا کہ ڈاؤ میڈیکل کالج کا قیام برطانوی راج میں 10 دسمبر 1945 کو عمل میں آیا۔


پروفیسر کولن گرانٹ نے ڈاؤ میڈیکل کالج کی عمارت اور طرز تعمیر کی بھی تعریف کی۔ یاد رہے کے کوئین میری یونیورسٹی آف لندن بھی 1785 سے قائم ہے جو اس وقت لندن اسپتال میڈیکل کالج کے نام سے کام کر رہا تھا ،بعد ازاں 1915 میں اس کا موجودہ نام رکھا گیا. پروفیسر کولن گرانٹ کا ڈاؤ یونیورسٹی کا دورہ ، یونیورسٹی کے تعلیمی و توسیعی پروگرام کا حصہ ہے۔ پروفیسر کولن گرانٹ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ کوئین میری یونیورسٹی تعلیمی قابلیت بڑھاکر سماجی انصاف اور بہتر زندگی پر یقین رکھتی ہے جو پاکستان سے دیرینہ تعلق کے سبب یہاں ترقی وخوشحالی کے لئے پرعزم ہے اور برطانیہ کی ان جامعات میں شامل ہے جنہوں نے پاکستان میں تعاون کے منصوبے شروع کیے اور 2005 میں پاکستان سے متعلق اقدامات کیے بعد ازاں پروفیسر محمد سعید قریشی نے پروفیسر کولن گرانٹ کو ڈاؤ یونیورسٹی کی
یادگاری شیلڈ پیش کی
===================================