امپورٹڈ حکومت لانگ مارچ کے خوف سے بلاوجواز پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے اور گرفتاری کررہی ہے ہم ان انتقامی کاروائیوں سے ڈرنے یا خوف زدہ ہونے والے نہیں ہیں

میرپورخاص == تحسین احمد خان === امپورٹڈ حکومت لانگ مارچ کے خوف سے بلاوجواز پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے اور گرفتاری کررہی ہے ہم ان انتقامی کاروائیوں سے ڈرنے یا خوف زدہ ہونے والے نہیں ہیں ان خیالات کا اظہار میرپورخاص پی ٹی آئی ضلع میرپورخاص کے صدر آفتاب قریشی نے انصاف ہاؤس میں دیگر رہنماؤں کے ساتھ ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ملک راجہ عبدالحق، ملک شفیق نومی، کنول اعجاز رندھاوا، اور دیگر بھی موجود تھے آفتاب قریشی کا کہنا تھا کہ امپورٹڈ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور اس خوف کی وجہ سے پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کے خلاف غیر جمہوری عمل شروع کیا گیا ہے عمران خان کی حکومت میں چار لانگ مارچ کئے گئے مگر پی ٹی آئی کی حکومت نے ان لانگ مارچ میں کسی بھی قسم کی کوئی روکاٹ نہیں ڈالی انھوں نے کہا کہ موجودہ چور حکومت اپنی حکومت بچانے کے لیے اب پی ٹی آئی کے بہادر مرد و خواتین رہنماؤں اور ورکروں کو ان اوچھے ہتھکنڈوں سے نہیں ڈرا سکتی ہے عمران خان پاکستان کی بقا اور قوم کو غلامی سے نجات دلانے کے لیے 25 مئی کو نکلیں گے اور پوری دنیا دیکھے گی کہ آزادی مارچ میں بیس لاکھ سے زائد عوام عمران خان کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی ایک سوال کے جواب میں آفتاب قریشی کا کہنا تھا کہ میرپورخاص میں بھی انتظامیہ کی جانب سے ہمیں پوسٹ آفس چوک پر احتجاج نہ کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے اور گرفتاریوں کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں ہم ان دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں اور آج میرپورخاص پوسٹ آفس چوک پر دھرنا دیا جائے گا اور ہمیں طاقت کے زریعے روکنے کی کوشش کی تو ہم اپنا آیندہ کا لائحہ عمل ترتیب دینگے سندھ حکومت بھی ڈر اور خوف میں مبتلا ہے جس کی وجہ سے سندھ بھر میں دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا ہے جس کی ہم شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہیں ایسے اقدامات سے سندھ حکومت کی جابرانہ اور ظالمانہ حکومت کا پول کھل کر سامنے آگیا ٭٭

میرپورخاص == تحسین احمد خان === بااثر افراد نے زمین کے تنازعے پر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ گھر پر حملہ کر کے سخت تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے والد سمیت تین اہلخانہ کو شدید زخمی کر دیا، ٹاون پولیس نے بااثر حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے، بااثر حملہ آوروں نے اس سے قبل بھی مختلف اضلاع اور تھانوں میں جھوٹے مقدمات درج کروائے ہیں، پولیس حملہ آوروں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے


اعلیٰ حکام انصاف فراہم کریں یہ بات میرپورخاص کے علاقے ہیرآباد کے رہائشی محمد یوسف یوسفزئی نے اپنے بیٹوں محمد وقاص اور محمد عارف کے ساتھ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی انھوں نے مذید کہا کہ مشہور منشیات اور گٹکا فروش عبدالعزیز پریمی کے ساتھ ہمارا زمین کا تنازعہ چل رہا ہے جس کا کیس عدالت میں زیر سماعت ہے لیکن بااثر عبدالعزیز پریمی نے پولیس اور اپنے دیگر مسلح ساتھیوں کے ساتھ ہمارا جینا دشوار کر رکھا ہے اس سے قبل بھی ہم پر جھوٹے مقدمات درج کروائے تھے گزشتہ شب بااثر عبدالعزیز پریمی، شاہد، عارف غوری، ایم کیو ایم لندن کے رئیس کاٹن، عبداللہ، خرم اور دیگر نے


اسلحے کے زور پر ہمارے گھر پر حملہ کر کے ہمیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں میرے دو بیٹے اور میں شدید زخمی ہو گئے جس کی داد و فریاد کیلئے ہم ٹاون پولیس اسٹیشن گئے جہاں پولیس نے ہمیں صرف علاج کروانے کا لیٹر دے کر فارغ کر دیا جبکہ بااثر منشیات فروش اور اس کے ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے صاف انکار کر دیا جو کہ ہمارے ساتھ سراسر زیادتی ہے انھوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ٹاون پولیس نے بھاری رشوت لے کر ملزمان کو تحفظ فراہم کر رہی ہے اور ہماری فریاد سننے کو بھی تیار نہیں ہے انھوں نے کہا کہ بااثر ملزمان اور پولیس سے ہماری زندگیوں کو شدید خطرہ ہے اور ہمیں خدشہ ہے کہ بااثر افراد ہم پر جھوٹے مقدمات سمیت جانی و مالی نقصان پہنچا سکتے ہیں انھوں نے وزیر اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی میرپورخاص سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہمیں پولیس اور بااثر ملزمان کے مظالم سے نجات دلوائیں اور ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے ہمیں تحفظ فراہم کریں ٭٭

میرپورخاص == تحسین احمد خان === پاکستان کا صحافت کیلئے خطرناک ممالک میں شمار ہوتا ہے، ملک میں قتل ہونے والے کتنے ہی صحافیوں کے ورثا کو تاحال انصاف نہیں ملا، حکومت کی جانب سے جرنلسٹ پروٹیکشن قانون بنانے اور اس پر عملدرآمد سے صحافیوں کو تحفظ حاصل ہو گا میرپورخاص پریس کلب میں صحافت کے تحفظ کیلئے بنائے گئے قانون، صافتی اخلاقیات اور صحافیوں کو درپیش خطرات پر پاکستان پریس فاونڈیشن کی جانب سے منعقدہ ورکشاپ اور سیمنار سے لالا حسن پٹھان، پریس کلب کے صدر نذیر پہنور، ڈسٹرکٹ بار کے صدر شوکت راہموں، سینئر صحافی سلیم آذاد، ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر محمد اسلم جاگیرانی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حق اور سچ لکھنے پر اس وقت پاکستان صحافت کیلئے خطرناک ممالک کی لسٹ میں شامل ہے اس لئے صحافیوں کے تحفظ کیلئے صوبہ سندھ میں صحافیوں کے تحفظ کیلئے سندھ پروٹیکشن آف جرنلسٹ اور دیگر میڈیا پریکٹیشنر ایکٹ سمیت ملکی سطح پر بھی قانون سازی کی گئی ہے لیکن کتنے ہی مقتول صحافیوں کے قاتلوں کو ادارے انصاف کے کہٹرے میں نہیں لا سکے ہیں جس کی وجہ سے مقتول صحافیوں کے ورثا کو انصاف نہیں مل سکا ہے انھوں نے کہا صحافت ایک ذمہ دار شعبہ ہے جس کے زریعے معاشرے میں موجود برائیوں اور سماج دشمن عناصر


کو بے نقاب کرنے سمیت معاشرے کی اصلاح میں اہم کردار ادا کرتا ہے اس لئے رپورٹر، خبر یا تجزیہ تحریر کرنے سے قبل صحافتی اخلاقیات اور صحافتی اصولوں کو ضرور مد نظر رکھا جائے تاکہ آگے چل کر مشکلات نہ پیدا ہوں انھوں نے کہا کہ میرپورخاص میں شہید ہونے والے صحافی زبیر احمد مجاہد، محمود سلطان چانڈیو سمیت دیگر کے قاتل کئے جانے کے اصل حقائق ابھی تک منظر پر نہیں آ سکی ہیں انھوں نے کہا کہ جرنلسٹس پروٹیکشن ایکٹ صحافیوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنی خبر کے زرائع کو ظاہر نہ کرے لیکن صحافی پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ ادارے کو خبر بھیجنے سے قبل وہ خبر کے بارے میں جان رکھے کہ خبر میں اپنی طرف سے یا ذاتی رائے تو شامل نہیں ہے انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے دور میں صحافت کے حوالے تربیتی پروگراموں کی اشد ضرورت ہے اس موقع پر ڈی ایس پی محمد اسلم جاگیرانی نے کہا کہ صحافیوں کے علاوہ دیگر قتل کی وارداتوں میں تحقیقات کا مرحلہ بہت اہم ہے صرف عدالتوں پر سب بوجھ نہیں ڈال سکتے سب سے پہلے انصاف کی جگہ پولیس اسٹیشن ہے داخل کی جانے والی ایف آئی آر سمیت پولیس آفیسروں کی جانب سے سے کی جانے والی تحقیقات بھی انصاف کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتی ہے٭٭
============================