خصوصی طلبہ کو نارمل تعلیم نہیں۔۔۔ ٹیکنکل و ووکیشنل ایجوکیشن کی ضرورت ھے

تحریر ۔۔۔۔۔شہزاد بھٹہ
====================
نظامت اسپشل ایجوکیشن پنجاب 1985 سے معذور بچوں کی تعلیم و تربیت اور بحالی کے لیے مصروف عمل ھے 1985 سے پہلے اسپشل ایجوکیشن کے تعلیمی ادارے سکول ایجویشن کے ماتحت ڈی پی ای سکولز افس انار کلی لاھور میں ایک چھوٹے سے یونٹ کی حیثت سے کام کر رھے تھے
حکومت پنجاب نے 1985 میں الگ سے ڈائریکٹوریٹ اف اسپشل ایجوکیشن قائم کیا اور نور محمد خان کو پہلا ڈائریکٹر اسپشل ایجوکیشن پنجاب مقرر کیا
2003 میں حکومت پنجاب نے اسپشل ایجوکیشن پنجاب کو

اس کو الگ سے مکمل محکمہ کا درجہ دے دیا گیا جس کے بعد معذور بچوں کے اداروں نے بہت زیادہ ترقی کی اور سنیکڑوں نئے ادارے وجود میں ائے اب تک پورے پنجاب میں تقربیا 313 کے قریب اداروں میں 35 ھزار معذور بچے ڈگری کلاسز تک تعلیم حاصل کر رھے ھیں ۔
ایک وقت تھا کہ نظامت اسپشل ایجوکیشن پنجاب کا بنیادی مقصد تعلیم و تربیت تھا جس کے تحت بچوں کو بنیادی تعلیم کے ساتھ ساتھ مختلف ٹریڈز کی بھی تربیت دی جاتی تھی تاکہ یہ معذور بچے کوئی ہنر سیکھ کر اپنے لیے روزگار حاصل کرکے اپنے والدین اور بچوں کے مددگار بن سکیں جس کے لیے پنجاب بھر کے خصوصی تعلیم کے مختلف اداروں میں فنی تعلیم کی ورکشاپس قائم کی گئی خاص طور لاھور ملتان فیصل اباد راولپنڈی بہاولپور ساھیوال گوجرانوالہ و دیگر ضلعی ہیڈ کوارٹرز کے خصوصی تعلیم کے ادارے شامل ھیں لاھور میں گورنمنٹ ھائی سکول فار ڈیف بوائز اور گرلز چوبرجی میں باقاعدہ ورکشاپس موجود تھیں جہاں پر گونگے بہرے طلبہ کو ٹیکنکل و ووکیشنل ٹریننگ دی جاتی تھی بلکہ 1986 میں بوائے ڈیف سکول لاھور میں جدید ہوزری اور بیکری پلانٹ بھی لگائے گئے تھے مگر یہ ہوزری اور بیکری پلانٹ کبھی بھی فکشنل نہیں ھوئے صرف لاکھوں روپے خرچ کر کے انگلینڈ سے یہ مشینری منگوائی گئیں اور ان کو لگایا مگر طلبہ کی ٹریننگ کے لیے استعمال نہیں کیا گیا

سیکڑیری اسپشل یجوکیشن کے حکم پر ہوزری پلانٹ کی مشینری 2005 میں فصیل اباد میں شفٹ کردی جو اج بھی ڈبوں میں بند پڑی ھے ہوزری پلانٹ کی جگہ بوائز سکول لاھور میں پنجاب ووکیشنل کونسل کے تعاون سے ووکیشنل سنٹر بنایا گیا تاکہ گنگ محل کے ڈیف طلبہ و طالبات کو مختلف ٹیکنکل ٹریڈز جن میں کمپوٹر ، فیشن ڈائزینگ، بیوٹیشن وغیرہ شامل ھیں کے کورسز کروانے کا اہتمام کیا گیا اس سنٹر میں نارمل بچوں کے ساتھ ساتھ ڈیف طلبہ کو بھی ووکیشنل ٹریننگ دینے کا پروگرام شامل تھا مگر کچھ عرصے چلنے کے بعد خصوصی طلبہ کا یہ تربیتی پروگرام بن گیا اب اس ووکیشنل سنٹر میں صرف عام طلبہ و طالبات کو ووکیشنل تربیت دی جارھی ھے


جہاں تک بیکری پلانٹ کی بات ھے وہ جیسے لگایا گیا تھا ویسے ھی پڑا ھے اس قیمتی پلانٹ سے ایک دن بھی کام نہیں لیا گیا یوں لاکھوں کروڑوں کا غیر ملکی بیکری پلانٹ بیکار پڑا ھے
گورنمنٹ گرلز سکول فار ڈیف چوبرجی میں ایک ووکیشنل سنٹر بھی بنایا گیا تھا جو کئی سال تک بچیوں کو سلائی وغیرہ کی فنی تعلیم دیتا رھا پھر وقت کی ستم ظریفی سے یہ ووکیشنل سنٹر بھی بند کر دیا گیا
ال پاکستان ڈیف ویلیفئر سوسائٹی نےگنگ محل میں ایک پرنٹنگ پریس بھی نصب کیا تھا جو کئی سالوں تک ڈیف طلبہ کو پرنٹنگ کے بارے تربیت دیتا رھا ھے پہلے اس پریس میں اقبال یاسین اور بعد میں ان کے بیٹے جمیشد اقبال گونگے بہرے طلبہ کو تعلیم و تربیت دیتے رھے ھیں اس پرٹنٹگ پریس کے تربیت یافتہ ڈیف طلبہ اج بھی پرٹنٹگ کا کام کر رھے ھیں اور مناسب روزگار کما رھے ھیں اور پھر یہ شعبہ بھی محکمانہ پالیسوں کا شکار ھو گیا اور اس نے طلبہ کو ٹریننگ دینی بند کر دی


نابینا طلبہ کو فنی تعلیم دینے کے لیے گورنمنٹ انسٹیٹوٹ فار بلائینڈ شیرنوالہ گیٹ لاھور اور گورنمنٹ سن رائیز انسٹیٹوٹ فار بلائینڈ راوی روڈ لاھور بھی ورکشاپ بنائی گئی جہاں پر نابینا طلبہ کو مختلف ٹریڈز کی تعلیم دی جاتی تھی مگر بد قسمتی سے یہ ورکشاپس بھی بند پڑی ھیں اور کوئی کام نہیں ھورھا اس طرح پنجاب کے باقی اداروں میں بھی ورکشاپس بنائی گئی عملہ بھرتی کیا گیا مگر وہ بھی باقی سرکاری اداروں کی طرح تباھی کا شکار ھو کر بند پڑی ھیں
مگر پھر نظامت خصوصی تعلیم پنجاب نے فنی اور ووکیشنل تربیت کو خدا حافظ کہہ دیا اور نصاب میں صرف نارمل تعلیم کو شامل کر لیا
2004 میں لاھور میں گورنمنٹ انڑ کالج فار ڈیف کو اپ گریڈ کر کے پہلا گورنمٹ ڈگری کالج اف اسپشل ایجوکیشن بنایا گیا اور بی اے تک معذور بچوں کو تعلیم دینا شروع کر دی گئی گورنمنٹ انڑ کالج فار ڈیف گلبرگ لاھور میں طلبہ کو مختلف شعبوں کی تربیت دی جاتی تھی اس مقصد کے اب تک پنجاب میں اٹھ ڈگری کالجز اف اسپشل ایجوکیشن بنائے جا چکے ھیں جہاں سے ڈیف و دیگر خصوصی طلبہ پر مشتمل بے روزگاروں کی ایک فوج نکل رھی ھے جو بی اے پاس کرکے نوکری کی تلاش میں دربدرخوار ھو رھے ھیں مگر نوکری نہیں مل رھی ملک میں ایم اے ایم فل اور پی ایچ ڈی نارمل افراد کے لیے نوکری نہیں ھے تو بی اے پاس ڈیف طلبہ کے لیے کہاں سے جاب ائیں گئی


موجودہ حالات کو دیکھتے ھوئے نہایت ضروری ھے کہ محکمہ اسپشل ایجوکیشن پنجاب اپنے نصاب کو تبدیل کر کے اس میں ووکیشنل و فنی تعلیم دینے والے مضامین شامل کئے جائیں تاکہ معاشرے کے خصوصی طلبہ بھی فنی تعلیم حاصل کریں اور کوئی نہ کوئی ہنر سیکھ کر اپنے لیے روزگار حاصل کر سکیں اگر مارکیٹ کی صورت حال کا جائزہ لیں تو مندرجہ ذیل ٹریڈز یا کورس خصوصی بچوں کے لیے نہایت مناسب رھیں گئے


یاد رھے کہ شہزاد بھٹہ سابقہ ڈائریکٹر اسپشل ایجوکیشن پنجاب کی تجویز پر 2020 میں سیکریٹری اسپشل ایجوکیشن سید جاوید اقبال بخاری کی اجازت و ہدایت پر خصوصی بچوں کو ٹیکنیکل و ووکیشنل ٹریننگ دینے کے ٹیوٹا پنجاب کے ساتھ محکمہ اسپشل ایجوکیشن پنجاب نے ایک ایم او یو سائن کیا تھا اور گنگ محل ووکیشنل ٹریننگ سنٹر میں گنگ محل گلبرگ کے خصوصی بچوں کو فنی تعلیم دینے کی بھی کوششیں کی گئی
اسپشیل بچوں کےلے ووکیشنل کورسز!


(1) الیکڑیکل اپلاہنسز. ھر قسم کے گھروں کے الات کی مرمت, ڈومیسٹک وایرنگ, الیکڑونکس, موٹر واہنڈنگ.
(2) فوڈکوکنگ اینڈ کچن ارگناہزیشن. چاہنیز سوپ. چاہنیز کھانے. پاکستانی کھانے. کانٹیننیٹل کھانے. فاسٹ فوڈ. سی فوڈ. دھی بھلے. فروٹ چاٹ. بیکری کی اشیاء. سلاد و مشروبات. (3) بیوٹیشن. بیوٹی پارلر) تمام قسم کے فیشل.اور میک اپ
ماڈل میک اپ. ہیر اسٹاہل. ہیر ٹر ٹمینٹ. اسپشل مہندی. پلکنگ اور تھریڈ نگ. باڈی مساج. وغیرہ.
(4).کیمپٹویز وافس پروفشینل= ہر قسم کے کیمپو ٹر کی مرمت. ڈیٹا ریکوری. بنیادی الیکڑونکس. نیٹ ورک. لیپ ٹاپ. موباہیل.
(5) ڈریس میکنگ و فیشن ڈیزاہینگ. بچوں اور بچیوں کے ہر قسم کے ڈریسز. لیڈی سوٹ. جنیٹس سوٹ. ساڑھی لہنگے کی سلای. مختلف قسم کی کڑھای. وغیرہ
(6) فاۂن ارٹس. ارٹ اینڈ ڈراینگ.
یہ ووکیشنل کورسز اسپشیل بچوں کے لیے ضروری ہیں تاکہ ان بچوں کی زندگی میں بھی انقلاب اسکے اور یہ بھی کوئی ہنر سیکھ کر اپنے لیے اور اپنے والدین کے لیے روزی کما سکیں. اس مقصد کے لیے تمام اسپشل اداروں میں ووکیشنل ٹیچرزاور انسٹرکرز کی پوسٹ پر بھرتی کی جائیں اور مذید پوسٹ بنائی جاہیں اس ک لیے ھائی اور ڈگری کالجز میں اسپشیل ووکیشنل کلاسز کا اغاز کیا جائے
پنجاب ووکیشنل کونسل کے زیر کنڑول چلنے والے گنگ محل ووکیشنل سنٹر گلبرگ میں فوری طور خصوصی طلبہ کو ووکیشنل ٹریننگ دینے کا سلسلہ فوری طور پر دوبارہ شروع کیا جائے


گنگ محل پرنٹنگ پریس کو بھی فکشنل کیا جائے وھاں جدید اف سیٹ پرنٹنگ مشین لگائی جائے اور میڑک پاس ڈیف طلبہ کو پرنٹنگ کی تربیت دی جائے
نابینا طلبہ کے اداروں کے ورکشاپ کو فکشنل کیا جائے اور وھاں نابینا طلبہ کو جدید ٹریڈز کی تربیت دی جائے
چوبرجی ووکیشنل سنٹر برائے ڈیف طالبات کو بھی فکشنل کیا جائے اور وھاں طالبات کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے فنی تربیت دی جائے
میڑک اور ھائر سیکنڈری کلاسز میں زیادہ سے زیادہ ٹیکنکل و ووکیشنل مضامین شامل کئے جائیں
مزید ڈگری کالجز اف اسپشل ایجوکیشن کھولنے کی بجائے ھر ضلعی ہیڈکوارٹرز پر ٹیکنکل و ووکیشنل ٹریننگ کالج کھولے جائیں اور موجودہ ڈگری کالجز کو بھی ٹیکنکل و ووکیشنل کالجز میں تبدیل کیا جائے
خصوصی طلبہ کو زیادہ سے زیادہ روزگار حاصل کرنے کے مواقع دینے کے لیے ٹیکنکل و فنی تعلیم دی جائے
شکریہ
============================