سجاول ضلع میں بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں حکمران جماعت پی پی میں ایک مرتبہ پھر اختلافات کھل کرسامنے آگئے ہیں


سجاول (شفیع اللہ )
سجاول : سجاول ضلع میں بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں حکمران جماعت پی پی میں ایک مرتبہ پھر اختلافات کھل کرسامنے آگئے ہیں ، ضلع سجاول میں شیرازی گروپ نے ہرالیکشن میں پی پی امیدواروں کا مقابلہ کیاہے تاہم گذشتہ عام انتخابات میں شیرازی گروپ پی پی میں شامل ہوگیااور اسے ایم این اے اور ایم پی اے کی ٹکیٹ دی گئی ،تاہم شیرازی گروپ اور پی پی کی مقامی قیادت میں دیرینہ اختلافات برقرار رہے اور مختلف اوقات میں ان کا کھل کرمظاہرہ کیاگیا، شیرازی گروپ پی پی میں شامل ہونے کے باوجود اپنی علیحدہ شناخت رکھے ہوئے ہے ،اور مقامی پارٹی قیادت سے ہٹ کراپنی طاقت کے مظاہرے کررہاہے ، پی پی قیادت کے جلسوں اور بڑے پروگراموں میں اپنی علیحدہ ریلیاں نکال کر شامل ہوتارہاہے ، جبکہ اس دفعہ بلدیاتی الیکشن کے اعلان کے بعد بھی پی پی کی مقامی قیادت نے بلدیاتی امیدواروں سے نام طلب کئے ہیں جبکہ شیرازی گروپ نے اپنے طورپر امیدواروں کے نام طلب کرلئے ہیں ،ضلع سجاول کی پانچ ٹائون کمیٹیوں ، اور سینتیس یوسیز کی الیکشن کے لئے انتخابی سرگرمی شروع کردی ہے ،گذشتہ روز جاتی شہرمیں جلسہ سے خطاب کے دوران شیرازی گروپ کے ایم این اے ایازشیرازی نے اس بات کا واضع اشارہ دیاکہ پی پی کے مقابلے میں اپنے امیدوار لائے جاسکتے ہیں ، جس پر سوشل میڈیاپر کافی شور اٹھاہے اور پی پی کارکنوں نے تبصرے کئے ہیں ،پرانے جیالو ں کا کہناہے کہ شیرازی گروپ نے پی پی میں شمولیت کے بعد ہرکام میں مداخلت کی ہے اور تمام سرکاری افسران اپنی مرضی کے مقرر کرائے ہیں ، جبکہ فنڈز اور ترقیاتی کام بھی اپنی پسند سے استعمال کررہے ہیں ، اس کے باوجود بھی پارٹی کے بجائے اپنی تشہیرمیں مصروف ہیں ، اور پارٹی کی بنیادیں کھوکھلی کررہے ہیں ، دوسری جانب شیرازی گروپ کے ایم این اے ایاز شیرازی نے اپنے بیان میں کہاہے کہ پی پی کی اعلیٰ قیادت کے فیصلے کو تسلیم کریں گے بلدیاتی انتخابات میں اپنے امیدوار پی پی کے مقابلے میں کھڑے کرنے کی بات انہوں نے ایسے ہی کہہ دی تھی ، بلدیاتی انتخابات میں پی پی کلین سوئپ کرے گی ، دوسری جانب ذرائع کا کہناہے کہ سجاول ضلع میں پی پی کے اندر بلدیاتی اداروں پر تسلط کے لئے مختلف رہنمائوں نے اپنا حق جتاکر پارٹی ٹکٹ کے لئے لابنگ شروع کردی ہے ، سندہ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں سجاول ضلع میں انتخابات ہوں گے ، ضلع کی سینتیس یوسیز اور پانچ ٹائون کمیٹیوں پر پی پی کے جیالے سابقہ پوزیشن کے تحت سیٹوں کی ٹکٹ مانگ رہے ہیں تاہم اب شیرازی گروپ پارٹی میں شامل ہونے کے بعد بلدیاتی اداروں میں ٹکٹ اپنے حساب سے مانگ رہاہے ، ذرائع کا کہناہے کہ شیرازی گروپ نے ضلع کونسل ، ٹائون کمیٹی سجاول ، اور میرپوربٹھورو کی چیئرمین شپ کا مطالبہ کیاہے ،جبکہ ان پر پہلے ہی جیالوں میں ٹکٹ کے لئے لابنگ جاری ہے ، ٹائون کمیٹی چوہڑجمالی پر ضلعی صدر ایم پی اے محمد علی ملکانی ، ٹائون کمیٹی جاتی پر سابق وزیر غلام قادر ملکانی ،ٹائون کمیٹی دڑو پر سابق ایم این اے و ضلعی صدر ارباب وزیرمیمن ، ٹائون کمیٹی میرپوربٹھورو پر ایم پی اے ہیرسوھو،اور ٹائون کمیٹی سجاول پر ڈپٹی اسپیکرریحانہ لغاری اور شفیق احمد شاہ اپنے چیئرمین لاناچاہتے ہیں جبکہ ڈسٹرکٹ کونسل پر ملکانی اور ارباب وزیر اپنا چیئرمین چاہتے ہیں ،اس طرح کی بندر بانٹ پہلے بھی کی جاچکی ہے اور دوبارہ ایسی ہی پوزیشن برقرار رکھنے کی کوشش کی جارہی تاہم تاہم شیرازی گروپ نے اپنا حصہ طلب کرلیاہے ، جس کے بعد صورتحال تبدیل ہوگئی ہے شیرازی گروپ نے پی پی میں شمولیت کے باوجود بھی علاقائی سیاست میں اپنی علیحدہ حیثیت برقرار رکھی ہے ،اور پی پی امیدواروں کے مقابلے میں آنے کی صورت میں بھی تیاری کررکھی ہے ، بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے اختیارات اور فنڈز کے معاملے کو لیکر حکمران جماعت میں سرد جنگ جاری ہے ، اگر پی پی اور شیرازی گروپ میں مقابلاہواتو شیرازی گروپ کا پلڑا بھاری ہوسکتاہے، جبکہ دیگر جماعتیں بھی سیٹیں لے سکتی ہیں ، تاہم پارٹی قیادت کی جانب سے دونوں گروپوں میں افہام تفہیم کے لئے بندربانٹ کی گئی تو اس سے پوراضلع کلین سویپ کیاجاسکتاہے ،
==============================================


سجاول: شہری اتحاد رہنماپر گرلزکالیج پرنسپل کی جانب سے داخل کرائی گئی ایف آئی آر کے خلاف شہری اتحاد اور دیگر سیاسی تنظیموں نے احتجاج کی کال دی ہے ، اور فوری طورپر گرلزکالیج پرنسپل کو ہٹانے کا مطالبہ کیاہے ، شہری اتحاد تنظیم کے رہنمائوں کا کہناہے کہ زائد امتحانی فیس وصول کرنے پر جب پرنسپل سے ملاقات کے لئے گئے تو انہیں دروازے سے واپس کردیاگیا، بعد میں ایک جھوٹی ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے ، تعلیمی ادارے میں اس قسم کی کرپشن اور بدعنوانی پر احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں ، محکمہ تعلیم اس ضمن میں کھلی تحقیقات کرائے ، انہوں نے کہاکہ سجاول میں بدامنی او لاقانونیت کا راج ہے جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح اور جرائم پیشہ کے خلاف کاروائی نہ ہونے پر شہری عدم تحفظ کا شکارہیں،لیکن پولیس ان وارداتوں کا مقدمہ تک لینے کو تیارنہیں ،اس سلسلے میں شہری اتحاد کے پلیٹ فارم سے احتجاج کیاگیااور علامتی شٹربندہڑتال کی گئی ہے جس پر ایس ایچ او کی جانب سے دو دفعہ تحریری طوپر شہری اتحاد کو مفادپرست ٹولہ کہہ کرکاروائی کرنے کی دھمکی دی گئی اور دوسرے روز پرنسپل گرلزکالیج کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کرکے شہری اتحاد رہنماکو نامزد کیاگیا، جبکہ علاقے میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی وارداتوں کی این سی رپورٹ تک درج نہیں کی جارہی ہےاور فریادیوں کو تھانے پر ایس ایچ او بداخلاقی کا مظاہرہ کرکے روانہ کردیتاہے ، انہوں نے کہاکہ پولیس گردی کی اتنی گندی مثال سجاول کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے ، سجاول میں اچھے پولیس افسران اے ڈی خواجہ ،بشیرمیمن، ثناٗ اللہ عباسی ، غلام نبی میمن ، ڈاکٹرولی اللہ دل ، خادم حسین رند، فداحسین مستوئی اور دیگر کی محنتوں سے عوام دوست پولیسنگ کا جو امیج بنااور عوام کو پولیس پر جو اعتماد تھا اس کی دھجیاں اڑادی گئی ہیں ، اور کرائیم اور کرمنل کی سرپرستی کرکے عوام کو جرائم پیشہ ٹولوں کے رحم کرم پر چھوڑ دیاگیاہے ، سجاول میں پیرکو اس ضمن میں ایک بہت بڑے احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیاگیاہے ، جس کی ضلع بھرکی تمام سیاسی سماجی تنظیموں اور شہریوں نے مکمل حمایت کا اعلان کیاہے اور فوری طورپر ایف آئی آر واپس لینے ، پرنسپل گرلز کالیج اور ایس ایچ او سجاول کو ہٹاکر ان کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیاہے ، علاوہ ازیں آئی جی سندہ و ڈی آئی جی حیدرآباد سے اپیل کی گئی ہے کہ فوری طورپر سجاول میں کھلی کچہری کرکے عوام کو سنا جائے اورجرائم کے خلاف کاروائی کرکے مسروقہ سامان واپس کرایاجائے
=============================================


سجاول: سجاول میں گرمی کی لہرجاری ہے ،اور درجہ حرارت اتوار کو تینتالیس درجے تک نوٹ کیاگیا، شدید گرمی میں بجلی کا بحران جاری رہاجس سے عوام کو مزید پریشانی کا سامنہ کرناپڑا، گرم ہوا چلنے اور لو لگنے سے علاقے میں متعدد امراض پھیل گئے ہیں اور نجی اسپتالوں میں مریضوں کا رش دیکھنے میں آرہاہے ، علاوہ ازیں شدید گرمی کے دوران ہیٹ ویو کی پیشگی اطلاع اور ہنگامی اقدامات کی ہدایات کے باوجود سرکاری سطح پر کہیں بھی انتظامات نظرنہیں آئے ، سرکاری اسپتال میں شدید گرمی کے دوران بجلی بندش کے دوران متبادل انتظام نہ ہونے سے بھی مریضوں کو پریشانی کا سامنہ ہے ،
=========================================


سجاول: محکمہ تعلیم سندہ میں اساتذہ کی نوکریوں کے سلسلے میں مارکس کم کرنے سے ضلع سجاول کے سینکڑوں امیدواروں کو فائدہ ہواہے،اور ان کو سرکاری نوکری مل سکے گی تاہم اس میں ایک بڑی خرابی سامنے آئی ہے ، ذرائع کے مطابق پی ایس ٹی اور جے ایس ٹی کے ٹیسٹ دینے والے بڑی تعداد میں امیدوار دونوں میں پاس ہوئے ہیں ، اور کئی امیدوار پہلے ہی پی ایس ٹی جوائن کرچکے ہیں تاہم اب ان کے نام جے ایس ٹی میں آنے سے پی ایس ٹی چھوڑکر جے ایس ٹی جوائن کررہے ہیں ، جس سے پی ایس ٹی میں دوبارہ سیٹیں خالی ہورہی ہیں ، اور پرائمری میں اساتذہ کی قلت کا اشو دوبارہ جنم لے رہاہے ، واضع رہے کہ پی ایس ٹی میں جگہ کی کمی کی وجہ سے امیدواروں کو قریبی اسکولوں کے بجائے دور دراز کے اسکول میں بھرتی کیاگیا، اب ان کے قریبی اسکولوں میں سیٹیں خالی ہونے کے باوجود بھی واپس نہیں آسکتے اور دور کے اسکولوں میں جانے میں پریشانی کا سامنہ ہے ، ایسے امیدواروں نے محکمہ تعلیم سے اپیل کی ہے کہ ڈبلنگ والے آفر لیٹر کینسل کئے جائیں اور ازسرنو قریبی اسکولوں میں تعیناتی کی جائے ،علاوہ ازیں پرائمری اسکولوں میں فرنیچراور دیگر سامان کی قلت کا معاملہ تاحال حل نہ ہوسکاہے ،
=====================================