شہباز حکومت کے ہاتھ پاؤں کس نے باندھے ؟ باپ بیٹے کا شوق پورا ہو گیا ؟

شہباز حکومت کے ہاتھ پاؤں کس نے باندھے ؟ باپ بیٹے کا شوق پورا ہو گیا ؟

ادارے سپورٹ کریں تو مسائل سے نکل سکتے ہیں، پتا نہیں تھا عمران کو نکالنے کے بعد ہمارے ہاتھ پاؤں باندھ دیئے جائیں گے، رانا ثناء


لاہور (نیوز ایجنسیاں)وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہاہے کہ ادارے سپورٹ کریں تو مسائل سے نکل سکتے ہیں، پتا نہیں تھا عمران کو نکالنے کے بعد ہمارے ہاتھ پائوں باندھ دیئے جائینگے، اگر وزیر اعظم شہباز شریف کو ہر طرف سے سپورٹ ملے تو وہ ملک کو بحرانوں سے نکال سکتے ہیں، اگرہمارے ہاتھ پائوں باندھے گئے تو ہو سکتا ہے اتحادیوں کو اعتماد میں لے کر عوام کے پاس جائیں،ہم اپنے اتحادیوں کو سرپرائز نہیں دینگے، اتحادی حکومت میں شامل


تمام جماعتوں کا فیصلہ ہے کہ ہم اپنی مدت پوری کریں ۔عدالت میں پیشی کے بعد عطا اللہ تارڑ اور دیگر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ خان نے کہا ، لوگوں کے مسائل حل کرنے سے روکا گیا تو جو ذمہ دار ہیں انہیں بھگتنا پڑے گا ، ہمارے خلاف چار سال تک ظلم اور زیادتی کا سلسلہ چلتا رہا ، چیف جسٹس پاکستان اس پر بھی نوٹس لیں ۔
https://e.jang.com.pk/detail/131938
==============================================

معیشت پر اتحادیوں کی مشاورت، شہباز، زرداری ملاقات، مشورے مزید 2 دن جاری رہیں گے، معیشت کیلئے اقدامات پر اتفاق
============
لاہور(نمائندہ جنگ) وزیراعظم شہباز شریف کی مخلوط حکومت کے قیام کے بعد معیشت سمیت درپیش چیلنجز پر اتحادیوں سے اہم مشاورت ہوئی ہے، ہفتے کو وزیراعظم شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدرآصف علی زرداری کی اہم ملاقات ہوئی جس میں معیشت کیلئے اقدامات پر اتفاق کیا گیا، حکومتی اتحادیوں نے نیشنل سیکورٹی کمیٹی (این ایس سی) کا اجلاس بلانے اور گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی تجاویز پر غور کیا، سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے فیصلوں کے بعد کی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی گئی، حکومتی اتحادیوں نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ، مہنگائی ،


ڈالر، آئی ایم ایف مذاکرات، 25 منحرفین کے ڈی سیٹ ہونے اور پنجاب اسمبلی میں نمبر گیم پر حکمت عملی کے بارے میں تفصیلی غورکیا گیا،انتخابی و نیب اصلاحات سمیت دیگر کام تیزی سے کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا، اتحادی جماعتوں نے وزیراعظم پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ۔تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدر آصف علی زرداری نے لاہور میں وزیر اعظم شہباز شریف سے ماڈل ٹائون میں ملاقات کی، اس موقع پر حکومتی وزراء، پاکستان مسلم لیگ ن کے راہنماؤں اور پاکستان پیپلز پارٹی کے قائدین ذکا اشرف، سلم مانڈوی مالا، رخسانہ بنگش بھی موجود تھے۔ملاقات میں موجودہ ملکی صورتحال پر تفصیلی گفتگو و مشاورت کی گئی۔ ملاقات میں اتحادی جماعتوں کا وزیرِ اعظم پر مکمل اعتماد کا اظہار اور موجودہ حکومت کے عوامی فلاح و بہبود کیلئے اٹھائے گئے اقدامات پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ ملاقات میں باہمی تعاون سے ملک کی معیشت کو درپیش مسائل سے نکالنے کیلئے اقدامات اٹھانے پر اتفاق کیا گیا ملاقات کے دوران ملک کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال، پی ٹی آئی کے لانگ مارچ، ڈالر کی بڑھتی قیمت اور اشیائے


خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافے سمیت دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔باخبر ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی طرف سے قرضہ کی قسط ملنے پر اگلے عام انتخابات مدت پوری ہونے کے بعد کرانے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا تاہم اس دوران الیکشن اصلاحات کے لیے آئینی اور قانونی ترامیم کرنے کا معاملہ زیر غور آیا اور آئی ایم ایف کی طرف سے قرضہ نہ ملنے کی صورت میں لائحہ عمل پرغور کیاگیا۔پی ٹی آئی کے پچیس منحرف ارکان کے ڈی سیٹ ہونے کے بعد ان سیٹوں پر ضمنی الیکشن کی حکمت عملی بنانے ،پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کی نمبر گیم اور آئینی بحرانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے لائحہ عمل اور آج ہونے والے پنجاب اسمبلی اجلاس کی حکمت عملی پر غور کیا گیا،آصف زرداری ملاقات کے بعد اسلام آباد واپس چلے گئے۔ علاوہ ازیں وزیر اعظم شہباز شریف نے بلوچستان میں ضلع شیرانی میں صنوبر کے جنگلات میں آگ پر لاہور میں ہنگامی اجلاس کی صدارت کی۔


اجلاس میں وفاقی وزراء خواجہ محمد آصف، مولانا عبدالواسع، مریم اورنگزیب، چیئرمین این ڈی ایم اے، کور کمانڈر کوئٹہ، چیف سیکرٹری بلوچستان اور خیبر پختونخوا اور متعلقہ وفاقی و صوبائی سیکٹریز کی وڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ 12 مئی سے لگی آگ پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا تھا لیکن 20 مئی سے گرم اور خشک موسم کی وجہ سے آگ دوبارہ پھیلنا شروع ہوئی. NDMA اس حوالے سے وفاقی حکومت کے مختلف اداروں، محکمہ جنگلات اور لوکل گورنمنٹ اور PDMA سے مسلسل رابطے میں ہے، وزیراعلی بلوچستان نے بتایا صورتحال پر قابو پانے کیلئے مزید اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ آگ پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے. انہوں نے واقعے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد اور انکے لئے حکومت کی طرف سے امدادی اقدامات کے حوالے سے بھی اجلاس کو آگاہ کیا۔
=========================================