سلطنت چلغوزہ سےخبریں کچھ اچھی نہیں آرہیں حالانکہ اس موسم میں تو وہاں سے گرج چمک کے ساتھ آندھی اور طوفان پنجاب کے مغربی علاقوں کا رخ کرتے تھے۔


انجنئیر ظفر ؤٹو
=================

سلطنت چلغوزہ سےخبریں کچھ اچھی نہیں آرہیں حالانکہ اس موسم میں تو وہاں سے گرج چمک کے ساتھ آندھی اور طوفان پنجاب کے مغربی علاقوں کا رخ کرتے تھے۔ جہاں پورے ملک میں دہائیوں کی سب سے سخت خشک سالی اپنے عروج پر ہے وہاں اس خوب صورت زمین پر بھی آگ لگ چکی ہے جو کہ اب بے قابو ہونے کو ہے۔



”مانی خواہ “کے چھوٹے سے قصبے سے گزرتے ہوئے صرف ایک سرکاری سکول اور چند گھروں کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ کسے معلوم تھا کہ یہ چھوٹی بستی ایک دن سی پیک ویسٹرن روٹ کی وجہ سے پورے ملک سے منسلک ہوجائے گی اور ضلع شیرانی کا ہیڈ کوارٹر بنے گی۔

شیرانی سر زمین بلوچستان کا انتہائی شمالی ضلع ہے جس کی سرحد جنوبی وزیرستان کے ساتھ ملتی ہے۔ضلع بننے سے پہلے یہ ضلع ژوب کی تحصیل ہوا کرتی تھی جس کی وجہ شہرت چلغوزے اور زیتون کے وسیع وعریض قدرتی جنگلات ہیں جو کہ کوہ سلیمان پر ہر طرف سینکڑوں ہزاروں ایکڑوں پر پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ پاکستان کے ان چند ہی علاقوں میں سے ہے جہاں چلغوزہ اور زیتون قدرتی طور پر اگتے ہیں۔


ان جنگلات میں گذشتہ بارہ دنوں سے لگی ہوئی آگ بے قابو ہوچکی ہے ۔اب تک تین افراد اس آگ میں جھلس کر شہید ہو چکے ہیں اور سات کے قریب زخمی ہے ۔اب تک کے اندازے کے مطابق جنگل کا تقریباً 10 کلومیڑ کی لمبائی کا علاقہ راکھ کا ڈھیر بن چکا ہے۔ ہزاروں درخت جل چکے اور اس سے بھی زیادہ جنگلی حیات مرچکی ۔

ابھی تک یہ آگ قومی میڈیا کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام ہے کیونکہ اسلام آباد کی ترجیحات کچھ اور ہیں حالانکہ یہاں کے مقامی لوگوں کی ساری معشیت ہی انہی جنگلات سے وابستہ ہے۔حیرت ہے کہ اتنے بڑے ماحولیاتی لحاظ سے نازک علاقے میں لگی آگ کسی مقامی یا عالمی ماحولیاتی اداروں کو بھی نظر نہیں آرہی۔


آگ شدت اختیار کر رہی ہے اور پھلتی جا رہی ہے۔ دس دن بعد ایک ہیلی کاپٹر پہنچا ہے اور کل سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اگ بحھا ئی جارہی ہے لیکن آگ کی شدت بہت زیادہ ہے اور یہ بے قابو ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس آگ کو بحھجانے کا کوہئ کمیاہئ حل نکالا جاۓ یا پھر کوہئ اور طریقہ اختیار کیا جاۓ تاکہ اس سے کم سے کم نقصانات ہو اور یہ جنگلات بچ سکیں۔اس کام کے کئے کم ازکم پانچ ہیلی کاپٹر مستقل طور پر کام کریں تو شائد کچھ افاقہ ہو۔

وہاں کے سارے مقامی لوگ اب اپنے گھروں کو چھوڑ کے محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں ۔یہ مسئلہ ماحولیات اور جنگلی تحفظ کے ساتھ ساتھ اب انسانی المیہ بھی بنتا جا رہا ہے اور کوششیں بھی اسی حساب سے بڑھانے چاہئیں ۔ صوبائی حکومت اپنے سارے وسائل کو استعمال کرکے اس آگ پر قابو پائے اور ساتھ اقوام متحدہ یا اس جیسی دوسری تنظمیوں اور ممالک سے رابطہ کرکے مدد طلب کی جائے کیونکہ مقامی طور پر اس کام کو کرنے کی سہولیات اور تجربہ بہت کم ہے ۔


ان پہاڑوں کئی پودے اور جانور ہیں جن کی نسلیں خطرے سے دوچار ہیں۔ یہ آگ پھیل کر اور بھی خطرناک صورت اختیار کرسکتی ہے۔ جو قدرتی درخت اور نایاب جانور مر چکے پتہ نہیں اب دوبارہ اتنی جنگلی حیات اور جنگلات بحال کرنے میں کتنا وقت لگے گا۔علاقہ کے


مکینوں کی معیشت ختم ہو چکی اور وہ گھر بار چھوڑ کر دربدر ہونے پر مجبور ہیں ایسے میں سب نظریں ریاست پر ہیں کہ وہ ایک ماں کی طرح علاقہ مکینوں کی مشکلات کا ادراک کرے اور اس آگ کو بجھانے میں اپنی پوری قوت صرف کردے
==================================