فسٹیولا مہلک عارضہ، دنیا بھر میں 20لاکھ پاکستان میں 4سے5 ہزار خواتین سالانہ بیماری کا شکار فسٹیولا فا?نڈیشن،یو این ایف پی کے تحت ملک میںمفت علاج کے 9 مراکز قائم کئے گئے ہیں: ڈاکٹر شاہین ظفر فسٹیولا کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر مڈوائف ٹریننگ شروع کرکے بہتر سروس اسٹرکچر دیا جائے:سونیا نقوی


فسٹیولا مہلک عارضہ، دنیا بھر میں 20لاکھ پاکستان میں 4سے5 ہزار خواتین سالانہ بیماری کا شکار
فسٹیولا فا?نڈیشن،یو این ایف پی کے تحت ملک میںمفت علاج کے 9 مراکز قائم کئے گئے ہیں: ڈاکٹر شاہین ظفر
فسٹیولا کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر مڈوائف ٹریننگ شروع کرکے بہتر سروس اسٹرکچر دیا جائے:سونیا نقوی
کراچی- پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن، کراچی کی صدر پروفیسر ڈاکٹر سونیا نقوی ، کوہی گوٹھ اسپتال کی گائنا کو لوجسٹ ڈاکٹر شاہین ظفر، تحریک نسواں کی محترمہ شیما کرمانی،مڈوائفری ایسوسی ایشن کی


مس عروسہ لاکھانی نے کہا ہے کہ دنیا بھر میںترقی پزیر ممالک میں بہت سی بیماریوں اور معاشرتی مسائل کو ا±جاگر کرنے کے لئے اقوام متحدہ مختلف مواقع پر ایسے بین الاقوامی دن منعقد کرتی ہے جس سے لوگوں میں ان بیماریوں سے بچنے کا شعور اجاگر کیا جا سکے۔انٹر نیشنل فیسٹیولا ڈے کا انعقاد بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کا بنیادی مقصد ” فسٹیولا میں مبتلا عورتوں کی تلاش اور کامیاب علاج کے ذریعے ان زندگیوں کو بدلنا ہے“۔فسٹیولا کی بیماری بھی بدقسمتی سے ترقی پذیر ممالک میں بسنے والی عورتوں کی ایسی بیماری ہے


جس سے نہ صرف بچا جا سکتا ہے بلکہ اس کا موثر علاج بھی ممکن ہے یہ بیماری زچگی کے دورانیے کا طویل ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے اور دوران زچگی بچے کے پھنس جانے کی وجہ سے پیشاب اور بسا اوقات پاخانے کی تھیلیوں میں سوراخ ہو جاتا ہے جس سے مسلسل پیشاب اور پاخانہ بہتا رہتاہے ہزاروں عورتیں ہر سال اس شرمناک بیماری کی وجہ سے معاشرے سے کٹ جاتی ہیں اور تنہائی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتی ہیں یہ بیماری بذات خوداس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ معاشرے میں عورت کو برابری کا مقام حاصل نہیں ہے اور نہ ہی صحت کی بنیادی سہولتیں موجود ہیں۔ اسی سلسلے میں 21نومبر 2012کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے 23مئی کو دنیا بھر میں


انٹرنیشنل فسٹیولا ڈے کے حوالے سے منانے کا اعلان کیا ہے تاکہ دنیا بھر میں ما و ں کی صحت کے حوالے سے آگاہی کو اجاگر کیا جا سکے اور فسٹیولا جیسی مہلک بیماریوں سے بچایا جا سکے۔تقریباً 20لاکھ خواتین دنیا بھر میں اس موزی مرض کا شکار ہو کر معاشرے سے علحید گی پر مجبور ہو جا تی ہیں۔پاکستان میں تقریباً سالانہ 4سے5 ہزار خواتین اس بیماری کا شکار ہوجاتی ہیں جس کی بنیادی وجہ معاشرتی نہ ہمواری، فرسودہ رسم و رواج ، غربت، تعلیم کی کمی ، فیملی پلاننگ سہولتوں کی عدم دستیابی ، تربیت یافتہ صحت کے کارکنوں کی کمی اور علاقائی سطح پر بنیادی سہولتوں کا نا پید ہونا شامل ہیں۔پاکستان میں ایک بہت بڑی تعداد ایسے فسٹیولا کی بھی پائی جاتی ہے جوکہ جراحی کے دوران بن جاتے ہیں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کو


اس سلسلے میں بہت تشویش لاحق ہے اور وہ مطالبہ کرتی ہے کہ صحت کے شعبے سے وابستہ تمام ادارے خصوصاً پی ایم ڈی سی اور سی پی ایس پی اپنے تمام پالیسز، رجسٹریشن اور پوسٹ گریجوئٹ ٹریننگ کو ازسرنو مرتب کرے اور ایسے تمام ڈاکٹروں کو تنبیہ کی جائے جو اس طرح کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔ پاکستان نیشنل فورم آن وومن ہیلتھ 2005سے، یو این ایف پی اے کے تعاون سے ایسی تمام خواتین کا ملک بھر میں مفت علاج کررہی ہے، 2017 ئ سے اب یہ تمام سہولیات فسٹیولا فاؤنڈیشن(Fistula Foundation) اور یو این ایف پی کے تعاون سے مہیا کی جارہی ہیں، جو فسٹیولا کے مرض میں مبتلا ہیں ملک بھر میں ایسے 9 مراکز بنائے گئے ہیں جہاں پر ان مریضوں کا نہ صرف مفت علاج ہوتا ہے بلکہ انہیں سفری اخراجات بھی دیئے جاتے ہیں تاکہ وہ فسٹیو لا مراکز میں پہنچ سکیں۔ یہ مراکز کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ، ملتان، لاہور، کوئٹہ، پشاور، ایبٹ آباداور اسلام آباد میں واقع ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعلان کے مطابق انٹرنیشنل ڈے کے حوالے سے پی ایم اے مطالبہ کرتی ہے کہ (1)حکومت پاکستان یہ عہد کرے کہ فسٹیولا کے خاتمے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔(2)بڑے پیمانے پر مڈوائف کی ٹریننگ شروع کی جائے اور انہیں بہتر سروس اسٹکچر دیا جائے تاکہ ہر حاملہ خاتون کی دیکھ بھال اور زیر نگرانی زچگی کا عمل ممکن بنایا جا سکے اور فسٹیولا سے بچاو ممکن ہو سکے۔ (3) تمام بنیادی صحت کے مراکز اور دیہی صحت کے مراکز مکمل طور پر کام شروع کریں تاکہ خواتین کو بنیادی اور ایمرجنسی صحت کی سہولیات میسر آ سکیں۔


فسٹیولافاؤنڈیشن ،پاکستان نیشنل فورم آن ویمنز ہیلتھ کے تحت عالمی فیسٹیولا ڈے پر پریس کانفرس سے ڈاکٹر سونیا نقوی ، ڈاکٹر شاہین ظفر اور محترمہ شیما کرمانی کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے مخاطب ہیں

===============================