وفاقی وزراء فواد چوہدری اور ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان میں تکرار، وزیراعظم عمران خان کو مداخلت کرنی پڑی

کپتان کے دو وزیر آپس میں الجھ پڑے ۔دونوں وزیروں کے درمیان کافی تکرار اور تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد کپتان کو مداخلت کرنی پڑی ۔سینئر صحافی عامر متین کے مطابق گزشتہ روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فردوس عاشق اعوان اور فواد چودھری کے مابین تلخ کلامی ہو گئی ۔فواد چوہدری کو ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی وزارت کی کارکردگی پر اعتراضات ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ کارکردگی اچھی نہیں۔

[embedyt] https://www.youtube.com/watch?v=we9Cr2qXHxo[/embedyt]

ان کا کہنا ہے کہ وزیر صاحبہ بغیر سوچے سمجھے بولتی ہیں جبکہ وزیر موصوفہ کا کہنا ہے کہ انہیں کچھ بولنے نہیں دیا جاتا اس لئے میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لئے انہوں نے اختیارات دیے جائیں۔ سینئر صحافی عامر متین نے وفاقی کابینہ میں مزید تبدیلیوں کا  بھی کہا ہے اور کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ فردوس عاشق اعوان کو جلد یا دیر مگر تبدیل کر دیا جائے جبکہ پروگرام میں موجود صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ یہ بات درست ہے ایک گھنٹے کے اندر وفاقی کابینہ میں پھر ردوبدل ہوگا اور کچھ وزیروں کو عہدوں سے ہٹا دیا جائے گا یاد رہے کہ اس سے پہلے لیگی رہنما مشاہد اللہ خان نے فردوس عاشق اعوان کے حکومت چھوڑنے کا اشارہ دیا تھا ۔مشاہد اللہ خان کا کہنا تھا کہ حکومت کی وزیر اطلاعات مجھے بہت عزیز ہے لیکن میں ڈرتا ہوں اس وقت سے جب وہ حکومت کو چھوڑ رہی ہوں گی اور موٹے موٹے آنسو گر رہے ہوں گے۔






جس طرح وہ اپنی وزارت میں باتیں کر رہی ہیں تو انہیں چھوڑنا ہی پڑے گا لیکن پھر وہ موٹے موٹے آنسو نہ گرائیں جیسے انھوں نے پیپلزپارٹی کو چھوڑتے وقت گرائے تھے، مشاہداللہ خان نے فردوس عاشق اعوان پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ پہلے وہ پیپلزپارٹی کو اپنی ماں کہتی تھی اور اسی ماں کے خلاف باتیں کرتی ہیں، مشاہد اللہ خان کا کہنا تھا کہ میں نے پہلے ہی فواد چوہدری کو بتا دیا تھا کہ تم سے وزارت اطلاعات لے لی جائے گی، دراصل یہ لوگ ایک دم کسی ایک کے اوپر صدقے واری ہو جاتے ہیں، پرویز مشرف کی کابینہ کے 28 لوگ اس کابینہ میں رکھے ہوئے ہیں اسد عمر کو آئی ایم ایف کے کہنے پر ہٹا دیا گیا حماد اظہر سے بھی 24 گھنٹوں کے دوران وزارت واپس لے لی گئی سمجھ نہیں آتا کہ ان کے فیصلے کہاں سے ہو رہے ہیں۔ ادھر وزیراعظم نے وزارتوں کی کارکردگی میں بہتری لانے کے لئے وزراء کو مزید نئے ٹاسک سونپنا شروع کردیے ہیں۔ جن وزارتوں کو ٹاسک دئیے گئے ہیں ان میں وزارت خارجہ وزارت داخلہ وزارت توانائی ،وزارت ہوا بازی وزارت پٹرولیم سمیت دیگر وزارتیں شامل ہیں، نئے اہداف اور مقاصد حاصل کرنے کے لیے تین سے چھ ماہ کی مدت دی گئی ہے۔