وزیر بلدیات کی ہدایت پر کراچی واٹر بورڈ نے نئے ڈی واٹرنگ پمپ حیدرآباد روانہ کردیئے

حیدرآباد میں تیز بارشوں کے بعد کھڑا ہونے والا پانی شہریوں کے لئے مصیبت بن گیا شہر کے بیشتر علاقے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں بجلی کی عدم فراہمی کی وجہ سے پانی نکالنے والے پمپنگ اسٹیشن بھی جنریٹرز پر چلائے جا رہے ہیں جنریٹر اس کی گنجائش کم ہونے کی وجہ سے پانی اس تیزی کے ساتھ نہیں نکالا جاسکا جس کی ضرورت تھی وزیر اعلی سید مراد علی شاہ نے خود صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد وزیر بلدیات سعید غنی کو حیدرآباد بھیجا اب انہوں نے شہر کیا جائزہ لینے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے صورتحال سے عوام کو آگاہ کیا اور حیسکو کی جانب سے بجلی کی عدم فراہمی کی وجہ سے مسائل گمبھیر  ہونے کی شکایت کی ۔فیڈرز خراب ہونے کی وجہ سے بجلی دستیاب نہ ہوسکی اور پانی نکالنے کے لیے مشینری کو جنریٹر پر چلانا پڑا جس سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں مشکلات درپیش آئی وزیر بلدیات نے کراچی سے نئے ڈی ووٹنگ پمپ فراہم کرنے کے لیے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو ہدایت کی صوبائی وزیر کی ہدایت پر نئی مشینری اور ڈی واٹرنگ پمپ ہنگامی  بنیادوں پر   حیدرآباد روانہ کیے گئے ہیں تاکہ وہاں پر جمع شدہ پانی کو تیزی سے نکالنے میں مدد کی جاسکے ۔حیدرآباد اور کراچی کے شہریوں نے حیدرآباد میں ڈی واٹرنگ پمپ کی ناقص صورتحال اور عدم دستیابی پر حیرت کا اظہار بھی کیا ہے اور صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی جانب سے ہنگامی بنیاد پر فراہم کیے جانے والے نئے ڈی واٹرنگ پمپس کے حوالے سے اقدامات کو سراہا بھی ہے ان نئے ڈی واٹرنگ سکی حیدرآباد آمد سے توقع کی جارہی ہے کہ نشیبی علاقوں میں جمع ہونے والا پانی ایلی سے نکالنے میں مدد ملے گی ۔


اپنا تبصرہ بھیجیں