کراچی میں بارش کے بعد کرنٹ لگنے سے ہونے والی ہلاکتوں کا ذمہ دار کون؟

کراچی میں بارش کے بعد کرنٹ لگنے سے ہونے والی ہلاکتوں کا ذمہ دار کون ہے اور کیا ان ہلاکتوں کو بچایا نہیں جا سکتا تھا ۔کے الیکٹرک اور مقامی انتظامیہ عام طور پر ذمہ داری شہریوں کی غفلت اور لاپرواہی پر ڈال کر خود کو بری الذمہ سمجھتی ہے بلکہ چھوٹے اور کم سن بچوں اور بڑی عمر کے لوگوں کو بھی کئی مرتبہ انجانے میں کرنٹ لگتا ہے اور ان کی ہلاکت واقع ہو جاتی ہے ۔ایسے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں جن میں بجلی کا تار ٹوٹ کر زمین پر گرا یا پانی میں کرنٹ دوڑ گیا اور وہاں سے گزرنے والوں کو کرنٹ لگنے سے ان کی ہلاکت ہوئی ۔ یہ بات درست ہے کہ کی لاٹری اور مقامی انتظامیہ نے اپنے طور پر شہریوں کو بارش کے موسم میں خبردار کرتی ہے کہ خود کو اور بچوں کو بجلی کے کھمبوں تاروں اور ایسی جگہ سے بچائیں جہاں پر کرنٹ آسکتا ہے لیکن سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا خبردار کر دینے سے ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے۔

[embedyt] https://www.youtube.com/watch?v=we9Cr2qXHxo[/embedyt]

جن بچوں یا بڑی عمر کے لوگوں کی جان چلی گئی کیا ان کے پیاروں کو کوئی نعم البدل عطا کیا جاسکتا ہے کیا اس بات کا کوئی نعم البدل ہے کیا مرنے والے کو کوئی واپس لا سکتے ہیں ۔یقینی طور پر ایسا ممکن نہیں ہے لیکن کی ساری دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے جس طرح پاکستان یا کراچی میں بارش کے موسم میں کرنٹ لگنے سے لوگ جان کی بازی ہار رہے ہیں کیا احتیاطی تدابیر اور حفاظتی اقدامات صرف شہریوں پر لاگو ہوتے ہیں کیا کے الیکٹرک اور انتظامیہ کی کوئی ذمہ داری نہیں ؟دنیا میں ایسے مواقع بھی ہیں جہاں بجلی کہ دار لکڑی کھمبوں پر لگائے گئے ہیں وہاں پر لوہے کے کھمبوں کا تصور نہیں ۔کراچی میں بدقسمتی سے کئی مقامات پر تار الجھے ہوتے ہیں یا تار ٹوٹے ہوتے ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔




اکثر اوقات کار اور بے پرانے ہوکر ٹوٹنے کے قریب ہوتے ہیں یا زمین پر جھکے ہوتے ہیں اور صاف نظر آرہا ہوتا ہے کہ یہ کسی بھی وقت کسی حادثے کا باعث بن سکتے ہیں کے الیکٹرک اور مقامی انتظامیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ ایسے پولز اور تاروں کو درست حالت میں رکھنے کا اہتمام کریں ۔ کرنٹ لگنے سے ہونے والی ہلاکتوں کے تازہ واقعات سے کے الیکٹرک مقامی انتظامیہ اور شہریوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنے کا نیا موقع ملا ہے کم ازکم مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے زیادہ سے زیادہ احتیاطی اور حفاظتی اقدامات پر زور دینا چاہیے غفلت اور لاپرواہی کے مرتکب اداروں اور افراد کے خلاف ضرور ایکشن ہونا چاہئے شہریوں کا بھی یہی مطالبہ ہے ۔اس سلسلے میں کنزیومر ایسوسی ایشن اور کنزیومر کورٹس اور عام عدالتوں میں بھی یہ بات اٹھائی جانی چاہیے۔