ماضی میں مذہب کا نام استعمال کیا گیا تو تیسری قوت بھی آتی رہی، عارف نظامی نے مولانا فضل الرحمن کے کھیل کو خطرناک گیم قرار دے دیا

پاکستان کے سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار عارف نظامی نے خبردار کیا ہے کہ مولانا فضل الرحمن ایک خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں ان کا کھیل ایسے لگتا ہے کہ کھلونا نہ ملا تو توڑ دوں گا ۔یہ خطرناک ارادہ ہے ماضی میں بھی مذہب کا نام استعمال کیا گیا اور پھر تیسری قوت بھی آتی رہی ۔سینئر صحافی عارف نظامی جو اپنی پیش گوئیوں کے سچ ثابت ہونے کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کا پہلا پارلیمانی سال مایوس کن رہا ہے ایک سو تیس دن کا اجلاس لازمی تھا لیکن 120 دن کا اجلاس ہو  پایا،  وزیراعظم کی حاضری کا دراسۃ صرف 14 فیصد رہا، وزیراعظم عمران خان کو اسمبلی کے اجلاسوں میں بہت کم  دیکھا گیاہے، عالم نزع میں یاد دلایا کہ چیئرمین سینٹ منتخب کرانے میں سب سے بڑا کردار آصف زرداری کا تھا اس وقت انہوں نے کسی اشارے پر نون لیگ کو پیچھے کر دیا اور بلوچستان میں نون لیگ کی حکومت تھی جسے گرا دیا گیا اب آصف زرداری جیل میں ہیں لیکن کہہ رہے ہیں کی ضمانت کے لئے درخواست نہیں کروں گا اب وہ سنجرانی کے ذریعے پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم سنجرانی کو افہام و تفہیم کے تحت لے کر آئے تھے پاکستان میں میسج تو کچھ بھی ہو سکتا ہے ہارس ٹریڈنگ بھی ہو سکتی ہے ۔انہوں نے خبردار کیا کہ جو کھیل مولانا فضل الرحمن کھیل رہے ہیں وہ کوئی نیا چاند چڑھا سکتا ہے یہ کھیل کھیلنے میں بلاول کو مشکل ہوگی کیونکہ وہ مذہب کو استعمال نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن ان کے ابّاجان پھنسے ہوئے ہیں مذہب کے نام پر لوگوں کو اس طرح باہر نکالا جائے کہ تیسری قوت آجائے یہ خطرناک کھیل ہوتا ہے لیکن ماضی میں یہ کھیل کھیلا جا چکا ہے اور ضیاءالحق بھی اسی طرح کی تحریک کے نتیجے میں آئے تھے۔




[embedyt] https://www.youtube.com/watch?v=we9Cr2qXHxo[/embedyt]