حکومت کو اپوزیشن سے زیادہ خود اپنے اندر سے خطرات کا سامنا ہے ۔صحافی اینکر پرسن فریحہ ادریس کا تجزیہ

پاکستان کی مشہور اینکر پرسن اور صحافی تجزیہ نگار فریحہ   ادریس کا کہنا ہے کہ حکومت کو اب اپوزیشن سے تو کوئی بڑا خطرہ دکھائی نہیں دیتا لیکن خود حکومت کو اپنے اندر سے خطرات کا سامنا ہے ۔فریحہ ادریس کہتی ہیں کہ کرایہ دار ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے کے الزام پر جس بھونڈے انداز سے عرفان صدیقی کو گرفتار کیا گیا انہیں ہتھکڑیاں لگائی گئیں اور ایک قابل ضمانت جرم میں ضمانت منظور کرنے کے بجائے جیل بھیج دیا گیا پھر ردعمل سامنے آنے پر اتوار کے روز ان کی ضمانت لے کر رہا کر دیا گیا اس سارے مزاحقہ خیز عمل نے حکومت کا بہت منفی تاثر پیش کیا ہے وفاقی معاون اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ عرفان صدیقی نظام کے نقائص کا شکار ہوئے لیکن سوال یہ ہے کہ ایک سال تک حکومت پورے پاکستان کا نہیں تو صرف اپنے دارالحکومت کا نظام ہی درست کیوں نہ کر سکی ؟اس گرفتاری کا جواب وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ کو دینا ہوگا کیونکہ جب اپوزیشن حکومت پر سیاسی انتقام اور ہتھکنڈے استعمال کرنے کا الزام لگا رہی ہے تو ایسے میں میاں نواز شریف کے سابق مشیر کی یو گرفتاری اور پھر رہائی کو حکومت کے لیے شرمندگی کا سبب کیوں بنایا گیا ؟فریحہ ادریس کا مزید کہنا ہے کہ میڈیا کے ساتھ بھی جو کچھ ہو رہا ہے اس پر خود حکومت کے اندر کئی رہنماؤں نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے دو وفاقی وزراء نے وزیراعظم کو کہا ہے کہ جو کچھ میڈیا کے ساتھ ہو رہا ہے اس کا حکومت کو نقصان ہوگا ۔فریحہ ادریس کا کہنا ہے کہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں کے جھرمٹ میں گرے وزیراعظم کو میڈیا کی آواز سنی ہوگی اور ان خوش فہمیوں سے باہر آنا ہوگا کہ اپوزیشن اور میڈیا کمزور ہونے سے حکومت طاقتور ہوگی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں