پولیس میں باورچی سے ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے پر ترقی پانے کا معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچ گیا

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری  پولیس میں باورچی سے ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے پر ترقی پانے کا معاملہ  جان محمد کو ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے پر برقرار رکھنے کے فیصلے کے خلاف سندھ پولیس کی اپیل کی سماعت  باورچی سے ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے تک پہنچنے کے معاملے پر عدالت کے دلچسپ ریمارکس  سندھ پولیس نے تین امتحانات لینے کے بعد باورچی کو ہیڈ کانسٹیبل بنایا، جسٹس سجاد علی شاہ  3 ماہ بعد غلطی کا خود ہی احساس کر لیا کہ ہیڈ کانسٹیبل نہیں بنا سکتے تھے، عدالت  یہ تو سندھ پولیس کی ایڈیشنل نالائقی ہوئی نہ، جسٹس سجاد علی شاہ  18 سال کی سروس اور تین امتحانات پاس کرنے والے کو واپس کیوں باورچی بنانا چاہتے ہیں، عدالت  یہ بتائیں کیا سندھ پولیس میں کوئی ہیڈ کانسٹیبل میڑک بھی ہے، جسٹس سجاد علی شاہ  سمجھتے ہیں اے ایس آئیز میں بھی بہت سے میڑک نہیں ہوں گے، جسٹس فیصل عرب  ایسا نہ کریں ورنہ تو بہت سے لوگوں کو نکالنا پڑ جائے گا، جسٹس سجاد علی شاہ  اس شخص نے تو بڑے کھانے کھلائے ہوں گے، اب ہیڈ کانسٹیبل رہنے دیں، جسٹس سجاد علی شاہ  صاحب بہادر، اپنی سہولتوں کے لیے بہت کچھ کرتے ہیں، جسٹس سجاد علی شاہ  3 امتحانات پاس کرنے کے بعد ان ایک اہلکار سے کیا چاہتے ہیں، جسٹس سجاد علی شاہ  ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے کے خلاف سروس ٹربیونل پہلے ہی سندھ پولیس کی درخواست مسترد کرچکا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں