وزیراعظم آرمی چیف کو مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع لینے کی تجویز دیں گے ڈپٹی آرمی چیف کا عہدہ متعارف کرانے پر غور

حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان بہت جلد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو مدت ملازمت میں تین سال توسیع  لینے کی تجویز دیں گے ۔دوسری جانب پاکستان کے سینئر صحافی روف کلاسرا نے دعویٰ کیا ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی وجہ سے ماتحت افسران کی ترقیوں کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے  ڈپٹی آرمی چیف کا عہدہ متعارف کرانے پر غور ہو رہا ہے ۔اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ کیا جا چکا ہے اس حوالے سے ماتحت افسران کی ترقیوں کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے فوج میں نیا عہدہ متعارف کروایا جا رہا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی صورت میں نکلے افسران کی ترقی نہ رکے ۔یاد رہے پاک فوج میں اس سے پہلے بھی آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ہوتی رہی ہے لیکن اس حوالے سے ہمیشہ کہا جاتا رہا ہے کہ اس فیصلے سے نچلے افسران کی حق تلفی ہوتی ہے اور وہ ترقی نہیں کر پاتے لیکن اب اس مشکل کو حل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے ان سے پہلے سینئر تجزیہ کار سمیع ابراہیم نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کو دوسری بار کے لیے مدت میں توسیع کرنا چاہتے ہیں اور اگر انہیں آئین میں ترمیم کرکے ریٹائرمنٹ کی عمر میں تبدیلی کرنا پڑی تو وہ ایسا بھی ضرور کریں گے پاکستان کے ایک اور سینئر صحافی تجزیہ نگار عارف نظامی نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو مدت ملازمت میں ایک سال کی نہیں بلکہ تین سال کی توسیع دینے کا فیصلہ ہوا ہے ۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمرزمان کائرہ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے اپنے زمانے میں ایسا کیا لیکن وہ کوئی اچھا عمل نہیں تھا مجبوری میں جنرل کیانی کو تو سیع دی تھی لیکن اب یہ توسیع  نہیں ہونی چاہیے ۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے بھی آرمی چیف کے عہدے کی مدت میں توسیع کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح نچلے افسران کی ترقی کا عمل متاثر ہوتا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں