ساؤتھ ایشین اسٹڈیز پر خواجہ عا مر کی کتاب شائع ہوگئی

پاکستان کے سینئر صحافی اور مصنف خواجہ عا مر کی نئی کتاب ۔۔۔ساؤتھ ایشین اسٹڈیز ۔۔۔شائع ہو گئی ہے ۔جس میں انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تھرڈ ورلڈ کے ممالک کے لیے وقت بہت کم ہے پاکستان سمیت بورڈ کے ملکوں کو اپنی سوشو اکنامک گروتھ  کی رفتار تیز کرنی ہوگی ورنہ جدید ٹیکنالوجی کے حامل ممالک کے سامنے ناکام اقتصادی ممالک آنے والے وقت میں نظر نہیں آئیں گے ان کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے ملک کے لیے تیز رفتار ترقی اب کوئی چوائس نہیں ہے بلکہ لازمی امر ہے اس کے بغیر اب ملک آگے نہیں بڑھے گا اور یہ ہمارے جیسے ملک کے لیے زندگی اور موت کا معاملہ ہے ۔خواجہ عمر نے ساؤتھ ایشیا ۔۔اے ریجن ان پر سپیکٹو۔۔۔۔میں اپنے 50 بہترین اور انتہائی تحقیقی مضامین کو شامل کیا ہے جو ساؤتھ ایشیا کے حوالے سے حالیہ برسوں میں کی جانے والی بہترین تحقیق کی عکاسی کرتے ہیں ۔خواجہ عامر کی تازہ کتاب عصر حاضر کے صحافیوں ،محققین ،کرنٹ افیئرز پروفیشنلز اور سٹوڈنٹس اور حتیٰ کہ ہم قارئین کے لیے صورتحال کو سمجھنے کے لئے انتہائی مفید اور رواں تبصرے  کے مترادف ہے ۔اس کتاب کو پڑھنے والوں کے لیے حالیہ برسوں میں اپنے خطے میں ہونے والی اہم پیشرفت اور واقعات کو سمجھنے اور پس منظر کے ساتھ ان کی اہمیت سے آگاہی حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس کتاب میں جن مضامین کو شامل کیا گیا ہے یہ مضامین 2015 سے لے کر 2017 تک ساؤتھ ایشیا میگزین میں شائع کیے گئے تھے کیونکہ یہ تمام مضامین صحافتی نقطہ نظر سے لکھے گئے تھے لہذا یہ آج کے دور کے واقعات سے مطابقت رکھتے ہیں جب آپ آج کے حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ کتاب اور اس کے مضامین آپ کو آج کے ساؤتھ ایشیا خطے کے واقعات اور حالات پر مکمل معلومات فراہم کرتے ہیں ۔خواجہ عامر ان دنوں پاکستان کی سرکردہ نیوز ویب سائٹ جیوے پاکستان کے سرپرست بورڈ میں شامل ہیں ان کا شمار پاکستان کے سینئر صحافیوں میں ہوتا ہے تازہ کتاب سے پہلے ان کی ایک کتاب On either side of the fence2015 میں شائع ہو چکی ہے یہ بتانا ضروری ہے کہ وہ ماضی میں مارننگ نیوز اور عرب نیوز کے لئے خدمات انجام دے چکے ہیں عرب نیوز جدہ اور خلیج ٹائمز دبئی کے لیے ان کا کام قابل تعریف تھا اس کے علاوہ انہوں نے جنگ گروپ کے ہفت روزہ میگزین میگ  اور ساؤتھ ایشیا ماہنامہ میگزین میں بھی خدمات انجام دیں وہ کئی سال تک سول ایوی ایشن اتھارٹی میں فرائض انجام دیتے رہے ۔


اپنا تبصرہ بھیجیں